کیا اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں 72 اموات کا انتظار کر رہی تھیں حکومتیں؟ کہاں ہے اپوزیشن

Share Article

آپ کو یاد ہوگا جب اتر پردیش میں اکھلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی تو اوناؤ اور لکھنؤ کے مليح آباد میں بھی زہریلی شراب سے تقریبا 30 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

 

نئی دہلی: لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہونے میں اب صرف چند دن دنوں کی بات ہے۔ لیکن سوال اس بات کا ہے کہ پی ایم مودی کی قیادت میں مرکز اور اتر پردیش کی اقتدار میں قابض بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کوئی بڑا مسئلہ نہیں ڈھونڈ پا رہا ہے۔مرکز میں کانگریس رافیل کو ایشو بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کا ساتھ باقی بڑی اپوزیشن پارٹیاں نہیں دے رہی ہیں۔ وہیں اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد 72 پہنچ گئی ہے۔ اس معاملے پر بھی اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوئی کوشش نہیں دکھائی دے رہی ہے۔

Image result for zehreeli sharab in up and uttarakhand

آپ کو بتا دیں کہ اتر پردیش میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں 36 لوگ سہارنپور کے ہیں جبکہ 8 لوگ کشی نگر کے ہیں۔ واقعہ کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک 30 سے زیادہ افراد کی گرفتاری ہوئی ہے۔ کئی پولیس افسران کو فوری طورپر معطل کر دیا ہے۔اس کے علاوہ دونوں اضلاع کے آبکاری حکام کو 15 دن تک پولیس کے ساتھ غیر قانونی شراب کے خلاف متحدہ آپریشن چلانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اتر پردیش کے علاوہ اتراکھنڈ میں بھی جمعہ کو 28 لوگوں کی موت کی خبر آئی تھی جہاں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے معاملے کی مجسٹریٹ سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔دونوں ریاستوں کو ملا مرنے والوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ سوال اس بات کا ہے کہ اس تابڑ توڑ کارروائی سے پہلے کیا حکومتیں ان 72 لوگوں کی موت کا انتظار کر رہی تھی۔

 

Image result for zehreeli sharab in up and uttarakhand

اس سے پہلے گزشتہ سال مئی کے مہینے میں اتر پردیش کے ہی کانپور اور کانپور دیہات میں زہریلی شراب پینے سے 10 افراد کی موت ہو چکی تھی۔ آپ کو یاد ہوگا جب اتر پردیش میں جب اکھلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی تو اناؤ اور لکھنؤ کے ملیح آباد میں بھی زہریلی شراب سے تقریبا 30 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔لیکن اس وقت جس طرح شدید مخالفت ہوئی اور اکھلیش حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا وہ کئی دنوں تک میڈیا کی سرخیاں بنا رہا ہے۔ لیکن اب جو واقعات ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنما ریاستی حکومت پر سوال اٹھانے کے نام پر صرف خانہ پری کرتا نظر آ رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *