معروف ادیب و دانشورپروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے اعزاز میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ایوانِ غالب میں ۲۹ جون، شام ساڑھے چھے بجے ایک استقبالیہ دیا جارہاہے۔ اس استقبالیہ میں پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں’’شمس الرحمن فاروقی ۔ادیب و دانشور‘‘کے عنوان سے ۲۵۰صفحات پر مبنی ایک کتاب کی رسمِ رونمائی ہوگی جسے سامعین میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سپاس نامہ،مومنٹو،شال اور پچاس ہزار روپے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے پیش کیا جائے گا۔اس تقریب میںجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر سید شاہد مہدی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہیں گے اور صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ہوگی۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر ،پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کریں گے۔
 
 
اس تقریب میں پروفیسرعتیق اللہ،پروفیسر ابوالکلام قاسمی، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر ارتضیٰ کریم، پروفیسر معین الدین جینابڑے، ڈاکٹر اطہر فاروقی،پروفیسر احمد محفوظ،پروفیسرشمس الرحمن فاروقی کی علمی وادبی خدمات پر اظہارِ خیال کریں گے۔پروفیسرشمس الرحمن فاروقی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے پچھلے ساٹھ برسوں سے آپ اپنی تحریروں اور تقریروں سے ادبی منظرنامہ میں اپنی موجودگی کااحساس دلارہے ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کی سبھی کتابوں کو علمی دنیا میں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ میر تقی میر پر آپ کی لکھی ہوئی اہم ترین کتاب ’’شعر شور انگیز‘‘ کومیر فہمی میں سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ تفہیم غالب بھی غالبیات کی تاریخ میں ایک دستاویزی کتاب تصور کی جاتی ہے۔ ملک اور بیرونِ ملک کی باوقار ادبی تنظیموں نے آپ کو اپنے پُروقار انعامات سے بھی سرفراز کیا ہے۔
 
 
غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں میں یہ بھی ہے کہ یہ ادارہ ہر سال کسی بزرگ ادیب کو اعزاز سے سرفراز کرتا ہے۔ اس سے قبل غالب انسٹی ٹیوٹ پروفیسر نذیراحمد،پروفیسر آل احمد سرور،پروفیسر نیّر مسعود،جناب معین احسن جذبی،پروفیسر امیرحسن عابدی،پرورفیسر مسعود حسین خان،پروفیسر مختارالدین آرزو،پروفیسر اسلوب احمد انصاری، پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کے علاوہ کئی ادیبوں کی خدمت میں یہ اعزاز پیش کرچکا ہے۔امید کی جارہی کہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے اعزاز میںہونے والے جلسے میں بڑی تعداد میں ان کے شاگرد،طلبا،اساتذہ کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد جمع ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here