ہمیں محبت کو عام کرنے کی ضرورت ہے: پروفیسرارتضیٰ کریم

Share Article

دہلی یونی ورسٹی کے شعبہ اردو میں ’ چہرے نئے پرانے‘ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام کی ابتدا میں صدر شعبہ اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ارتضیٰ کریم نے طلبہ اور طالبات کا استقبال کیا اور کہا کہ اب اس طرح کے پروگرام کا انعقاد ضروری ہے۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ نئے اور پرانے طلبا اور طالبات ایک دوسرے کی تخلیقات کو سنیں گے اور ان پر اظہار خیال بھی کریں گے۔ یہ تربیت گاہ ہے اس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔پروگرام کے آغاز میں ایک نئے سہ ماہی رسالے ’ تاریخ ادب اردو‘ کا ’اجرا‘بھی عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ رسائل کی دنیا میں ایک نئے رسالے کا اضافہ ہوا ہے۔ اردو برادری کو چاہیے کہ اس نئے ’ سہ ماہی رسالے’’ تاریخ ادب اردو‘‘ کا پرتپاک استقبال کریں۔

یہ پروگرام اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں اردو سرٹیفیکیٹ ، ڈپلوما اور ایڈوانس ڈپلوما کورسز کے طلبا اور طالبات شریک ہوئے وہ صرف اردو کی محبت میں اس زبان کو سیکھتے ہیں اور اسے اپنی عملی زندگی میں بروئے کار لاتے ہیں۔ طلبہ اور طالبات میں نئی نسل کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی بڑے بڑے اداروں میں گذاری ہے اور اب صرف اردو کی محبت میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اردو پڑھنے کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ اس پروگرام میں نئی پرانی نسل نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو اردو کے ذریعہ خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ اس مجلس کی ایک خاصیت یہ بھی رہی کہ پروگرام شروع ہونے کے بعد اساتذہ نے ڈائس سے اتر کر اپنے طلبہ کو اپنی جگہ ڈائس پر بٹھایا۔ صدر شعبہ نے کہا کہ یہ پروگرام آپ کا ہے ہم سامعین کی حیثیت سے آپ کے سامنے بیٹھیں گے۔ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر ارجمند آرا، ڈاکٹر مشتاق عالم قادری، ڈاکٹر متھن کمار، ڈاکٹر ارشاد نیازی، ڈاکٹر مظفرالحسن، ڈاکٹر یحییٰ صبا، ڈاکٹر ساجد حسین ،ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر نیبو لال وغیرہ کے ساتھ طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *