وزیر اعظم صاحب، یہ امتحان کی گھڑی ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 

اردو کا ایک شعر ہے، اسے اپنی طرح سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں ’’کس کس پہ خاک ڈالیے، کس کس پہ روئیے / آرام بڑی چیز ہے، منھ ڈھک کے سوئیے‘‘۔ سچ مچ منھ ڈھک کے سونے کی خواہش ہو رہی ہے۔ کانگریس نے اس ملک کو 60-65 برسوں میں جو دیا، اسے ہم بھگت رہے ہیں۔ پورا ملک آپسی رنجش کے دہانے پر ہے، زوال کے دہانے پر ہے، ناامیدی کے دہانے پر ہے۔ جب کانگریس کے ترجمان کہتے ہیں کہ سرکار مہنگائی گھٹانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے، تو ہنسی آتی ہے، کیوں کہ بنیادی طور پر مہنگائی کانگریس کی ہی دین ہے۔
ابھی مودی سرکار کی بات کریں۔ پورے الیکشن کے دوران ایسا لگا، جیسے ہمارے درمیان اچانک ایک اَوتار آگیا۔ کہا گیا ہے دھرم گرنتھوں (مذہبی کتابوں) میں کہ ’کلکی اوتار ہوگا کل یُگ میں۔ کلکی اوتار ہوگا، جوملک کو تباہی سے بچائے گا‘۔ نریندر مودی کلکی اوتار کے طور پر دکھائی دیے اور انہوں نے ویسی ہی چھاپ پورے ملک میں پورے چناؤ پرچار کے دوران چھوڑی۔ ملک میں مہنگائی ہے، علاج نریندر مودی کے پاس ہے۔ بے روزگاری ہے، علاج نریندر مودی کے پاس ہے۔ بدعنوانی ہے، علاج نریندر مودی کے پاس ہے۔ علاج کیا ہے، یہ نریندر مودی نے کبھی نہیں بتایا۔ پھر بھی ملک نے بھروسہ کیا اور ایک گجرات ماڈل کو اپنے من میں ایک خیالی امکانات کا ماڈل بنا لیا۔ کیا گجرات ماڈل، کیسا گجرات ماڈل، کسی کو نہیں معلوم، لیکن لوگوں کے دماغ میں گجرات ماڈل بس گیا۔ نریندر مودی جی ایک نئے اوتار کی شکل میں کل یُگ میں نجات دہندہ کے طور پر وزیر اعظم بن گئے۔
وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے 100 دنوں کے ایجنڈے کی بات کی۔ اپنے وزیروں سے کہا کہ وہ انہیں 100 دنوں کا ایجنڈا بنا کر دیں اور 100 دنوں کے بعد وہ ان سے اس ایجنڈے پر کیا ہوا، اس کی جانکاری لیں گے۔ ویسے یہی کام منموہن سنگھ نے بھی، جب وہ 2009 میں جیت کر دوبارہ آئے تھے، تب کیا تھا۔ نہ ان کے کسی وزیر نے 100 دنوں کا ایجنڈا بنایا، نہ انہوں نے کبھی 100 دنوں کی رپورٹ ملک کے سامنے رکھی۔ نریندر مودی جی کی کابینہ کے اراکین نے بھی کون سا ایجنڈا بنایا ہے، یہ ملک کو نہیں معلوم۔ نریندر مودی جی کی سرکار کے پہلے 30 دن گزر گئے۔ آنے والے 60 دنوں میں کس ایجنڈے پر کام ہوگا، یہ ملک کو نہیں معلوم۔ ملک کے لوگوں کو صرف یہ معلوم ہے کہ انہوں نے جو امیدیں لگا رکھی تھیں، ان کے اوپر ہلکی سی دھول کی پرت جم گئی۔ دھول کی پرت اس لیے، کیوں کہ ملک کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر نریندر مودی کو پورے 100 دن ملیں او ر ان کی تنقید نہ ہو، تو شاید ان کے مسائل حل کرنے میں نریندر مودی جی کامیاب ہوں گے۔ لیکن پہلا جھٹکا لوگوں کو لگا، ریل کے کرایے میں 14.20 فیصد کا اضافہ ہو گیا، جو آج تک تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا اور ایسا لگتا ہے کہ اب اناج اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا اور کالا بازاری ہوگی، کیوں کہ ہمارے وزیر خزانہ دوہرا چکے ہیں کہ اگر جمع خور یہ سب سامان اپنے یہاں دبا کر رکھیں گے، تو وہ بیرونی ممالک سے منگا لیں گے۔ غیر ملکی کمپنیوں کی دوڑ ہمارے ملک میں شروع ہو گئی ہے، جو یہاں اناج اور دالیں بیچنا چاہتی ہیں۔
سرکار کو رائے کون دے سکتا ہے اور سرکار کس سے رائے مانگ سکتی ہے؟ سرکار عالمگیر ہے، سرکار تمام خوبیوں سے لیس ہے، سرکار کے پاس دماغ ہی دماغ ہے، لیکن اس کے باوجود نہ منموہن سنگھ نے مہنگائی گھٹائی اور نہ اب نریندر مودی مہنگائی گھٹانے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کڑوے گھونٹ، کڑوی دوا کی بات کر رہے ہیں، کڑے قدموں کی بات کر رہے ہیں۔ ان کڑوی دواؤں اور کڑے قدموں کی ادائیگی صرف ملک کے غریبوں کو کرنا پڑتا ہے، امیروں کو نہیں۔ نریندر مودی کی سرکار کے اندر کیا کوئی سمجھدار آدمی نہیں ہے، جو کابینہ میں نئے ڈھنگ کی سوچ سامنے رکھے؟ میرا ماننا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود سوچنے کی لیاقت رکھتے ہیں، لیکن کیا انہیں سوچنے کا وقت نہیں ملتا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے بالکل نئے طریقے اپنائے جائیں، جن سے مسائل بڑھیں نہیں، مسائل کا گراف وہیں رک جائے اور پھر دھیرے دھیرے انہیں نیچے لانے کی کوشش کی جائے؟
ملک کا بجٹ جولائی میں آنے والا ہے۔ یہ بجٹ نریندر مودی کا اصلی امتحان ہے، لیکن پہلے امتحان میں انہوں نے ملک کے لوگوں کو ایک الگ قسم کی مایوسی دی۔ ان کے وزیر ریل اور وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ تو کانگریس سرکار کا فیصلہ تھا، جسے ہم نے نافذ کیا۔ کیا مجبوری تھی آپ کی اسے نافذ کرنے کی؟ آپ پندرہ دن انتظار نہیں کر سکتے تھے؟ آپ بجٹ میں وسیع نقطہ نظر یا مجموعی نقطہ نظر ملک کے سامنے رکھتے کہ مختلف مسائل کو حل کرنے کا آپ کا اقتصادی نظریہ کیا ہے۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا اور جم کر ریل کا کرایہ بڑھایا گیا۔ اور، اپنا دیوالیہ پن آ پ نے بتا دیا یہ کہہ کر کہ ہم نے تو کانگریس کے فیصلے کو نافذ کیا۔ اگر کانگریس کا ہی فیصلہ نافذ کرنا تھا، تو ملک کے عوام نے آپ کو کیوں جتایا؟ آپ کو لوگوں نے اس لیے جتایا کہ آپ نے کہا تھا کہ آپ 70 سالوں سے چل رہی گڑبڑیاں ٹھیک کریں گے۔ آپ ملک کو اس کا اعزاز دلائیں گے اور لو گوں کی زندگی میں کچھ خوشیاں لائیں گے۔
ہم اپنا فریضہ نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک درخواست کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے 14.20 فیصد کرایہ بڑھا کر 8000 کروڑ روپے سال میں اکٹھا کرنے کا سہاناہدف ملک کے سامنے رکھا یہ کہہ کر کہ ریلوے کمزور ہے، خستہ حال ہے، خسارے میں چل رہا ہے، اس لیے آپ کو 8000 کروڑ روپے سالانہ چاہیے۔ آپ کے افسر اور وزیر ریل یہ کیوں بھول گئے کہ ملک کے ہر ریلوے اسٹیشن پر کچھ نہ کچھ اسٹیل جنک پڑا ہوا ہے، اسکریپ پڑا ہوا ہے۔ چاہے وہ پرانے ڈبوں کی شکل میں ہو، پرانے لوہے کی شکل میں ہو، پرانی ریلوے لائنوں کی شکل میں ہو۔ ایک موٹا اندازہ ہے کہ 20 سے 25 ہزار کروڑ روپے کا اسکریپ ریلوے کے پاس پورے ملک میں ہے۔ کیا آپ کے وزیر ریل یہ جانکاری مانگنے کا حکم نہیں دے سکتے تھے کہ پورے ملک میں ریلوے کے پاس کتنا اسکریپ ہے؟ ہو سکتا ہے، وہ 30 ہزار کروڑ روپے کا بھی ہو۔ جب یہ جانکاری آتی، تو اس اسکریپ کو نیلام کر دیتے۔ ریلوے کا اسکریپ خریدنے کے لیے ساری دنیا میں ہوڑ مچ جاتی۔ آپ کو ایک رات میں 30 ہزار کروڑ روپے کا منافع ہو جاتا۔ آپ نے 8000 کروڑ روپے کے لیے، جو آپ کو سال بھر میں ملیں گے، ملک کے لوگوں کی امیدیں توڑیں اور یہ بتایا کہ آپ کے سوچنے کا طریقہ کانگریس سے بالکل مختلف نہیں ہے۔ آپ اگر نئے سرے سے سوچتے، تو لوگوں کے اوپر بوجھ نہیں پڑتا اور آپ کے پاس جگہ گھیرنے والا بیکار پڑا اسکریپ بازار میں ری سائیکل ہو کر نئی پیداوار میں استعمال ہوتا۔ لیکن، وزیر ریل نے یہ نہیں سوچا، تو وزیر اعظم صاحب، آپ کا تو فریضہ بنتا ہے کہ آپ سوچیں، آپ مکھیا ہیں۔ ملک کے لوگوں نے وزیر ریل کے نام پر ووٹ نہیں دیا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام پر بھی ووٹ نہیں دیا۔ ملک کے لوگوں نے نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا ہے، آپ کو 282 سیٹیں دی ہیں۔
اسی طرح ایک دوسرا مشورہ ہے کہ ملک کی نئی صنعتوں کے لیے کیا سنٹرل ایکسائز ہالی ڈے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا، جس کی کم از کم مدت دس سال ہو۔ اگر آپ اس بجٹ میں نکسل متاثرہ علاقوں، انتہا پسندی سے متاثر علاقوں، پنجاب کے ڈرگس (نشہ) سے متاثر علاقوں اور پہاڑی علاقوں میں ٹیکس ہالی ڈے، سنٹرل ایکسائز ہالی ڈے کا اعلان کریں، تو وہاں پر بہت ساری صنعتیں چلی جائیں گی۔ یہ صنعتیں ضلع یا ریاست کی بنیاد پر ٹیکس ہالی ڈے کے لیے نہ چنی جائیں، بلکہ ان بلاکوں کا انتخاب کیا جائے، جو نہایت غریب اور پچھڑے ہیں، جن کے اعداد و شمار حکومت ہند کے پاس ہیں۔ ان بلاکوں میں دس سال کے ٹیکس ہالی ڈے کا اگر آپ اعلان کریں، تو وہاں پر جو صنعتیں جائیں گی، ان سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا اور یہ روزگار بڑھانے کا ایک ترجیحی طریقہ ہو سکتا ہے۔ یہ آپ کو تب تک سانس لینے کا موقع دے سکتا ہے، جب تک آپ روزگار کا کوئی ہمہ گیر منصوبہ سامنے لائیں، جس کے لیے آپ کو کم از کم چار پانچ مہینے کا وقت چاہیے۔ اگر آپ دیہی صنعت جدید تکنیک سے لگانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تب بھی آپ کو پانچ چھ مہینے چاہئیں، ورنہ صنعت یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا آپ کے سرکار کے بس کی بات ہوگی، اس میں شک ہے۔
تیسری چیز، جو بہت اہم ہے، وہ یہ کہ ہمارے ملک میں اناج بہت برباد ہوتا ہے۔ کھلے طو رپر اناج گوداموں میں رکھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ذخیرہ اندوزی کی سہولت نہیں ہے، کولڈ اسٹوریج نہیں ہیں۔ ایسی جگہیں نہیں ہیں، جو ٹمپریچر کنٹرولڈ گودام ہوں اور وہاں پر اناج رکھا جا سکے۔ کولڈ اسٹوریج کی کمی ملک کی ان فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، جنہیں ہم سال بھر تک اسٹور کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ سرکار ملک کے لوگوں سے کہے کہ آپ اِن اِن پیمانوں پر کولڈ اسٹوریج بنائیں، اس پیمانے کے اوپر آپ ٹمپریچر کنٹرولڈ گودام بنائیں اور ان کا کرایہ اس حساب سے سرکار سے لیں۔ پورے ملک کے ہر بلاک میں آپ جتنے چاہیں، اتنے گودام کھڑے کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ایک شرط لگائی جائے، یعنی جو اسپیسی فکیشن سرکار یا ضلع افسر دے، اسی کے اوپر یہ گودام اور کولڈ اسٹوریج بنیں۔ آپ اعلان کیجیے کہ ہم اس کا کرایہ دیں گے۔ آپ کا وہ پیسہ بچ جائے گا، جو گودام اور کولڈ اسٹوریج بننے میں لگنا ہے۔ لوگ اپنے آپ کھڑے ہو جائیں گے اور آپ کا سارا اناج محفوظ ہو جائے گا۔ لیکن، یہ فیصلہ لینا آسان ہے کیا؟ یہ فیصلہ لینا مشکل ہے، کیوں کہ ایسے کاموں میں کمیشن نہیں ہوتے۔ آپ اگر لوگوں کو روزگار دینے کی نظر سے فیصلے کریں، تو کمیشن نہیں ملتا۔
ملک میں توانائی کی کمی ہے۔ کیا آپ کھلے طو رپر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو کمپنی چاہے، وہ ملک میں شمسی توانائی کے بجلی گھروں کی تعمیر کرے، اپنا پیسہ لگائے۔ سرکار ایک ریٹ طے کر دے کہ اس ریٹ سے وہ شمسی توانائی کی بجلی خریدے گی۔ کمپنیاں ہیں، لوگ ہیں، جو اپنا پیسہ لگا کر ہر گاؤں کو بجلی گھر کے طور پر تبدیل کر سکتے ہیں یا ضلعوں میں دس، بیس، تیس، چالیس، پچاس، سو میگا واٹ کے بجلی پیداوار مراکز بنا کر اس بجلی کو سرکار کے گرڈ میں ڈال سکتے ہیں، لیکن ایسا ہوگا نہیں، کیوں کہ ہر جگہ آپ کو لائسنس دینا ہے۔ ہر جگہ پرمیشن دینے کے نام پر فائل لٹکانی ہے۔ نریندر مودی جی، بدقسمتی یہ ہے کہ سسٹم کے سامنے ملک نہیں ہے، سسٹم کے سامنے پیسہ ہے۔ اس لیے آپ کو کڑے فیصلے نئے نظریہ سے لینے پڑیں گے۔ آپ کو بہت ساری چیزوں میں لال فیتہ شاہی ہٹانی ہوگی اور لوگوں کو پرجوش کرنا ہوگا کہ وہ لال فیتہ شاہی کے خلاف کھڑے ہوں اور بدعنوانی کے خلاف بھی۔
وزیر اعظم صاحب، آپ نے کہا تھا کہ آپ بدعنوانی سے ٹکنالوجی کے ذریعے لڑیں گے۔ تیس دن گزر گئے، ہمیں ٹکنالوجی کہیں نظر نہیں آئی۔ ہماری عام سمجھ میں ٹکنالوجی کا مطلب شفافیت ہے، یعنی جو فیصلے ہوں، وہ ریکارڈ ہوں، آڈیو ریکارڈ ہوں یا ویڈیو ریکارڈ ہوں۔ اور، ایک وقت رکھا جائے، جس میں وہ ساری کی ساری چیزیں باہر لائی جائیں۔ تبھی فیصلہ لینے والوں کے من میں ڈر ہوگا کہ فیصلہ لیتے وقت ان کی بات چیت یا ان کی دلیل اگر ملک کے سامنے آ گئی، تو ان کا جینا محال ہو جائے گا۔ اسی طرح سے ذمہ داری طے کیجیے۔ آدمی ریٹائر ہو جائے، اس کے باوجود اگر اس کے وقت میں لیا گیا فیصلہ غلط ہے، تو اس کے اوپر ذمہ داری ڈالیے۔ یہ ملک آپ کی طرف بڑی امیدوں سے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ امید ٹوٹی، تو آپ ایک بہت بڑے نگیٹو موومنٹ کے لیے تیار رہیے، ایک تباہ کن تحریک کے لیے تیار رہیے، کیو ںکہ آپ کا ناکام ہونا نکسل وادیوں، انتہا پسندوں کو نئی دلیل دے گا۔ اور، اگر آپ عوام حامی اقتصادی پالیسیاں نہیں لائے اور کارپوریٹ کو فائدہ پہنچانے والی اقتصادی پالیسیاں اس بجٹ میں آئیں، تو وزیر اعظم صاحب، مجھے بڑے ادب سے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ اسی بات کا انتظار تو وہ لوگ کر رہے ہیں، جن کا عدم تشدد میں یقین نہیں ہے۔ آپ کے سامنے سب سے بڑے سوال جیسا سوال ہے کہ آپ ملک کے لوگوں کو اہم مانتے ہیں یا بین الاقوامی کارپوریٹ برادری کو؟ وزیر اعظم صاحب، یہیں پر ملک کا امتحان ہے اور یہیں پر آپ کا امتحان ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *