سندیپ پانڈے
اقوام متحدہ سے آئے نمائندے لیئو ہیلر نے ہندوستان کے ایک دورے کے بعد یہاںکی پانی اور صفائی پالیسیوںکی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نفاذ میںایک واضح انسانی حقوق کے نقطہ نظر کا فقدان ہے۔ انھوںنے کہا کہ ٹوائلٹ کی تعمیر کی ترجیح میںسبھی کے لیے پینے کے پانی کے ہدف کو نہیںبھولنا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ جانے انجانے میںذات کی بنیاد پر محروم طبقوںجیسے گندگی ڈھونے کے رواج سے منسلک لوگ یا حاشیہ پر اقلیتی طبقے یا دیہی علاقوں میںرہنے والے لوگوںکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو۔جیسی کہ توقع تھی کہ سرکار نے ان کی رپورٹ کو خارج کردیا ہے۔
لیکن جس طرح کے سوختہ گڑھے والے ٹوائلٹ سرکار بنوارہی ہے، اس سے زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کا خطرہ ہے۔ سوختہ گڑھے سے زیر زمین پانی کی سطح کی دوری کم سے کم دو میٹر ہونی چاہیے۔ لیکن اترپردیش و بہار کے ترائی علاقے و مغربی بنگال میںبھی پانی کی سطح کافی اونچی ہے۔ معروف ماحولیاتی ماہرین، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے سابق ممبر سکریٹری اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)کانپور کے پروفیسر جی ڈی اگروال جو اب سوامی گیان سروپ سانند ہوگئے ہیں، کے مطابق اترپردیش اور بہار تو پانی پر تیر رہے ہیں۔
سوختہ گڑھے والے ٹوائلٹ کو ہینڈ پمپ یا کنویںسے 15-20 میٹر دور ہونا چاہیے جو گھنی آبادی والے علاقے میںہمیشہ ممکن نہیںہوتا۔ ٹوائلٹ کی تعمیر کی ہوڑ میںکوئی یہ نہیںدیکھ رہا ہے کہ جو ٹوائلٹس بن رہے ہیں، ان سے کیا خطرہ ہے؟ ملک کے پہاڑی، پتھریلے علاقے اور جہاں کالی مٹی ہے، وہاںپانی نہیںسوکھا جائے گا۔ پتھر میںدراروں سے ہوتے ہوئے ٹوائلٹ کا گندا پانی زیر زمین پانی سے مل سکتا ہے۔ کل ملاکر ملک کا آدھے سے زیادہ حصہ ہے جہاں سوختہ گڑھے والے ٹوائلٹس نامناسب ہیں۔ اس لیے آئی آئی ٹی کانپور سے پڑھے اور فیرو سیمنٹ ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر اشوک کمار جین کے مطابق سوچھ بھارت ابھیان اصل میںسرو ناش بھارت ابھیان ثابت ہوگا ۔
اب دیکھا جائے کہ زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کا سیدھا فائدہ کسے ملے گا؟ اس کا سیدھا فائدہ بوتل بند پانی کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو ملے گا۔ اس نقطہ نظر سے معاملہ اور بھی سنگین نظر آتا ہے۔ ہندوستان میںبوتل بند پانی کے کاروبار کے بڑے حصے پر پیپسی اور کوکا کولا کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ ہندوستان کے سائنسدانوں اور انجینئروں کی اس موضوع پر خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔

 

 

 

 

 

 

ٹوائلٹ کی تعمیر کے ہدف کو پورا کرنے کا نمونہ
سمپورن سوچھتا ابھیان کے طور پر 1999 سے 2012 تک نرمل بھارت ابھیان چلایا گیا، جس کا ہدف تھا 2017 تک ہندوستان کو کھلے میںرفع حاجت سے نجات دلانا۔ کمیونٹی کی حصہ داری سے لوگوں کی ثقافتی قدروں میںتبدیلی لاکر ایسی کوشش ہوئی کہ لوگ ٹوائلٹ کا استعمال شروع کردیں۔ لیکن لکھنؤ کے پڑوس کے ضلع میں ٹوائلٹس کی جو تعمیر ہوئی ان کے معیار کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ابھی ہم ہدف سے کافی دور ہیں۔
3-5 اگست 2016 کو ہردوئی ضلع کے بھراون ڈیولپمنٹ بلاک کی گرام پنچایت کوڑیا میںبنائے گئے 576 ٹوائلٹس کا جائزہ لیا گیا۔ موقع پر جو مستفیدین ملے،جن کے نام ٹوائلٹس پر درج تھے اور گرام پنچایت ڈیو لپمنٹ آفیسر کے ذریعہ جو فہرست فراہم کرائی گئی ، اس میںکافی فرق تھا۔پنچایت کے دیہوا گاؤں میںکاغذ پر دکھائے گئے 32 ٹوائلٹس میں سے ایک بوری سیمنٹ میںہی ایک ٹوائلٹ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ زیادہ تر پلاسٹر نکل رہا ہے۔ گھٹیا کوالٹی والی اینٹوں کا استعمال ہوا ہے۔ 10 فیصد ٹوائلٹس میں چھت نہیں ہے۔ جن میں چھت ہے، تو ان میںآرسی سی کی جگہ لوہے کی چادر ڈال دی گئی ہے۔ آدھے سے زیادہ ٹوائلٹس میں صرف ایک سوختہ گڑھا بنا ہے، وہ بھی معیار کے مطابق نہیں۔ کئی کے فرش دھنس گئے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی معیار کے مطابق نہیںبنے۔ 30 فیصد میںسیٹ ہی نہیںبٹھائی گئی ہے،جس سے ان کا استعمال نہیںکیا جاسکتا ۔آدھے ٹوائلٹس کے دروازے نہیں ہیں ، جس سے عورتوں کے لیے ان کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ 5فیصد ٹوائلٹس ہی استعمال کے لائق ہیں، باقی 95 فیصد یا تو بند ہیں یا لکڑی او رگوبر کے کنڈے رکھنے کے کام آرہے ہیں۔ کئی میںٹوٹ پھوٹ بھی دکھائی دیتی ہے جس سے تعمیر کی گھٹیا کوالٹی کی پول کھلتی ہے۔
گرام نگر پنچایت کے رام نگر گاؤں میں1، بروا میں4، کوڑیا میں93، منڈولی میں4، کٹھونی میں42 ٹوائلٹس فرضی دکھائے گئے ہیں جبکہ ویر پور میںکاغذ پر جتنے دکھائے گئے ہیں، اس سے 4فالتو بنے ہیں۔ کچھ مستفیدین کے نام دوہرائے گئے ہیں، جس سے مستفیدین کی تعداد مصنوعی طریقہ سے بڑھ گئی ہے۔ ہر ایک ٹوائلٹ کے لیے 10 ہزار روپے ملے تھے،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 57 لاکھ 60 ہزار روپے میںسے 38 لاکھ 57 ہزار روپے کا غبن ہوا ہے۔ جب سماجوادی سرکار کے دور میںشکایت کی گئی تو پنچایتی راج محکمے کے جوائنٹ سکریٹری نے یکم ستمبر 2016 کو رپور ٹ دی کہ ٹوائلٹ کی تعمیر میں پیسے کا بیجا استعمال نہیںہوا ہے اور ہدف پورا کرلیا گیا ہے۔ جب تبدیلی اقتدار کے بعد بی جے پی حکومت میںشکایت کی گئی تو 27 اکتوبر 2017 کی رپورٹ میںیہ بتایا گیا کہ موقعہ پر 441 ٹوائلٹس پائے گئے، 56 کا پیسہ ابھی بھی گرام پنچایت کے کھاتے میں ہے اور 79 ٹوائلٹس سیلاب میںبہہ گئے یا ان کی دیکھ بھال نہ ہو پانے سے وہ بہہ گئے۔ یہ حیرت کا موضوع ہے کہ ایک سال قبل بتایا جارہا تھا کہ ہدف پورا ہوچکا ہے۔
3 اگست 2017 کو ایک دوسرے سروے میںپایا گیا ہے کہ محض 26ٹوائلٹ استعمال میں ہیں یعنی ہدف کا محض 4.5 فیصد۔ باقی 380 ٹوائلٹ استعمال کرنے لائق نہیں۔ جبکہ سرکاری رپورٹ میں ان میںکوئی خرابی نہیں ۔ سوچھ بھارت ابھیان کو چلتے ہوئے تین سال سے زیادہ ہوجانے کے بعد کا یہ حال ہے۔ اس بدعنوانی کا بالواسطہ طور پر فائدہ یہ ہے کہ زیر زمین پانی آلودہ ہونے سے بچا ہوا ہے۔

 

 

 

 

 

صفائی ملازمین کے ساتھ کیسا سلوک؟
لکھنؤ کے گومتی نگر میںایک سرکاری اسپتال ڈاکٹر منوہر لوہیا چکتسالیہ ہے ۔ اس میںایک ٹھیکیدار اپنا ٹیک کنسلٹنسیز پرائیویٹ لمٹیڈ کے ذریعہ وارڈ بوائے یا آیا، ڈرائیور اور صفائی ملازمین رکھے گئے ہیں۔ سوائے اس کے کہ ان ملازمین کی تنخواہ ٹھیکیدار دیتا ہے، یہ سبھی سرکاری اسپتال کی سروس میںویسے ہی لگے ہیں جیسے یہاں کام کرنے والے ڈاکٹر اور نرس۔ ان میںسے 24 لوگوںکو تو اسپتال کے احاطے میں ہی رہائش ملی ہوئی ہے لیکن 14 بدنصیب لوگ احاطے میںہی جھگی ڈال کر رہ رہے تھے۔ اچانک ان ہی کے ٹھیکیدار نے ضلع انتظامیہ کے کہنے پر انھیںیہ نوٹس دے دیا کہ وہ احاطہ خالی کردیں ورنہ انھیںجبراً ہٹایا جائے گا۔ پولیس بھی آکر وارننگ دے گئی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ 24 لوگ جو احاطے میںرہائش پاچکے ہیں، ان میںصرف ایک صفائی ملازم ہے جبکہ 14 لوگ جو جھگی میںرہ رہے ہیں، ان میں 10 صفائی ملازمین ہیںجو زیادہ تر بالمیکی برادری کے ہیں۔ اب یہ اس طرح کی صفائی کرنے والے نہیں جو اخباروں کے لیے جھاڑو پکڑ کر تصویریںکھنچواتے ہیں۔ ان کی تصویر کھینچے بھی کون؟ یہ لوگ اصل میںصفائی کرتے ہیں۔ سوچھ بھارت ابھیان شروع ہونے سے پہلے بھی یہ صفائی کرتے تھے اور اب بھی کررہے ہیں اور جب سوچھ ابھیان نہیں رہے گا، تب بھی یہ صفائی کریںگے۔ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اسپتال انتظامیہ ان سے اسپتال کی صفائی تو کرانا چاہتا ہے لیکن ان کی ذمہ داری نہیںلینا چاہتا۔ ٹھیکیداری عمل میں سرکار نے اپنا ہاتھ جھٹک لیا ہے۔ وہ کہاںرہیںگے، ان کے بچے کہاں پڑھیںگے، اس سے نہ تو سرکار کو مطلب ہے اور نہ ہی ٹھیکدار کو ۔ صرف سات سے نو ہزار تنخواہ پانے والے یہ لوگ اگر اپنی آمدنی کا ایک تہائی حصہ کرایہ پر ہی خرچ کردیںگے تو ان کے بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا؟ اگر یہ اسپتال کے احاطے سے ہٹادیے جاتے ہیں اور رہنے کے لیے کہیںدور چلے جاتے ہیں توان کے بچے جن اسکولوںمیںفی الحال پڑھ رہے ہیں، ان کی تعلیم بیچ میںہی چھوٹ جائے گی۔ کیا انتظامیہ یہ چاہتا ہے کہ صفائی ملازمین کے بچے تعلیم سے محروم رہ کر اپنے والدین کے ہی پیشے میںلگے رہیں، جس میں توہین کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here