تھم گئی بندوقوں کی آواز: عوام کی جیت، سیاست کی ہار

Share Article

سری نگر سے ڈاکٹر فرح کی رپورٹ
کشمیر کی وادیوں میں بندوقوں کی آواز تھم گئی ہے…… نعرے بازی اب سنائی نہیں دیتی….. کوئی پتھر پھینکنے والا سڑک پر نظر نہیں آرہا ہے…..پولس رہائشی علاقوں سے چوکیاں ہٹا رہی ہے…….حریت کے تیور بھی نرم ہو گئے ہیں۔سب سے خاص بات جو تمام میٹنگوں سے نکل کر آئی وہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے مرنے والوں کے اہل خانہ کو پہلے سے زیادہ معاوضہ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ علاوہ ازیںعمرصاحب نے بہت ہی اچھا اشارہ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں جتنے بھی لوگتشدد میں مارے گئے ہیں انہیں شہید قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہاکہ میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں، لیکن میں کیا کر سکتا ہوں میرے کندھے پر صرف بندوق ہے، لیکن ٹریگر کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یوں کہیں کہ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے اخلاقی ذمہ داری لے لی ہے۔ کشمیر کے عوام میں اس کا بہت اچھا اثر دیکھنے کو ملا ہے۔کچھ روز قبل تک جس وزیر اعلیٰ کو لوگ کوس رہے تھے وہ اچانک ان کا ہمدرد بن کر ابھر آیا ہے۔ جہاں تک بات پی ڈی پی کی ہے تو وہ اس وجہ سے بائیکاٹ کر رہی ہے کہ جتنے بھی نشان زد بندوق بردار ہیں، جن کی گولیوں سے لوگوں کی جانیں گئی ہیں ان کے خلاف حکومت سخت سے سخت ایکشن لے۔ حکومت نے اپنی جانب سے کارروائی تیز کر دی ہے۔۔۔ کئی پولس والوں کے خلاف ایکشن لے لیا گیا ہے۔ کچھ تھانے داروں کو معطل کر دیا گیاہے ، کئی چارج شیٹ درج ہوئی ہیں، کچھ کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ کشمیر کے حالات بہتر ہونے کی وجہ سے حکومت کو قدرے راحت ملی ہے، کیونکہ پولس کے ہاتھوں لوگوں کی موت کا سلسلہ تھم گیا ہے۔حالانکہ روز ہی کرفیو نافذ ہوتا ہے اور روز شام کو چھوٹ بھی مل جاتی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ کرفیو کی ڈھیل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آتا ہے، سب کچھ پر امن رہتا ہے۔ حکومت بھی اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ لوگوں کی ناراضگی ختم ہو جائے ۔جن کنبوں کے اہل خانہ مارے گئے ہیں انہیں حکومت معاوضہ دے گی اور ساتھ ہی ساتھ حکومت تعلیمی اداروں کو بہتر طریقہ سے چلانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ یہ ایک بہتر تبدیلی ہے جو کشمیر میں دیکھنے کو ملی ہے ۔ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بھی اس کی خواہاں ہے کہ امن کی بحالی ہو تاکہ لوگوں کی زندگی پرسکون ہو جائے ۔جیسے کہ شام کو جب ڈھیل دی جاتی ہے اس میں ایک دم سب کچھ نارمل ہو جاتا ہے۔بازار، ٹرانسپورٹ سمیت پورا ماحول نارمل ہو جاتا ہے۔ویسے رفتہ رفتہ لوگ خود ہی ہڑتال کی کال کو توڑ رہے ہیں، چوری چھپے دکانیں بھی کھول رہے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ کرفیو کے باوجود سرپرست رسک اٹھاکر بچوں کو اسکول بھی پہنچا رہے ہیں اور اپنی پرائیویٹ گاڑی کو بھی نکال رہے ہیں کیونکہ پتھرائو وغیرہ کے واقعات ختم ہو گئے ہیں۔لوگ کسی بھی قیمت پر امن چاہتے ہیں اور پر امن طریقہ سے زندگی جینا چاہتے ہیں۔کرفیو کے دوران جتنے بھی گھنٹے انہیں ڈھیل دی جاتی ہے سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے ۔ کچھ دنوں قبل تک کرفیو میں ڈھیل کے دوران لوگ گھروں سے باہر نکلنے تک سے ڈرتے تھے ،لیکن جب سے اسکول کالجوں میں امتحان کا وقت آیا ہے اس کا بہت فائدہ ہوا ہے، حالات بہتر ہو گئے ہیں۔سماج کے ایک بڑے حصہ نے اس ہڑتال سے خود کوعلیحدہ کر لیا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ  ہڑتال کی وجہ سے اپنی نوکریوں پر نہیں جا پا رہے تھے۔یہ وہی سرپرست ہیں جو ہڑتال کو چھٹیوں کی طرح منا رہے تھے،لیکن جب انہیں بچوں کے مستقبل کا خیال آیا تو یہ فوراً ہڑتال اور کرفیو کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔اس وقت تینوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی ایجنسی اس میں رخنہ نہ ڈالے۔حریت کانفرنس بھی اگرحکومت کے کرفیو پر نکتہ چینی نہیں کر رہی ہے تو حکومت بھی حریت کانفرنس کے کلینڈر پر زیادہ چھینٹا کشی نہیں کر رہی ہے۔ عام لوگ دونوں ہی چیزوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جو راحت مل رہی ہے اس کا بھی اور حریت کانفرنس کی جانب سے جو مل رہی ہے عوام اس  کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عوام کسی نہ کسی بہانے یہ چاہتے ہیں کہ حالات معمول پر آجائیں  اور دونوں پارٹی غیر جانبدار ہو کر عوام کی فلاح کے لیے کام کریں۔ وہیں حکومت بھی کرفیو نافذ کئے ہوئے ہے لیکن اس میں ڈھیل برتی جا رہی ہے۔ کوئی بیان بازی نہیں ہو رہی ہے اور گرفتاریاںبھی نہیں کی جا رہی ہیں، پولس آپریشن بند کر دئے گئے ہیں۔تبادلے روک دئے گئے ہیں۔ کسی بھی طرح لوگوں کو پریشان نہیں کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ حریت کانفرنس بھی وقت کو ٹالناچاہتی ہے کیونکہ سردیوں میں وادی بقیہ علاقوں سے منقطع ہو جاتی ہے۔ حریت کانفرنس کے لئے اس بار کا معاملہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا ہے۔حریت کے لیڈر بھی بیان بازی سے گریز کر رہے ہیں وہ بھی اب معاملہ ٹھنڈاکرنے میں مصروف ہیں۔ حریت کانفرنس کو بھی سمجھ میں آ گیا ہے کہ اس وقت کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔لوگوں کے مزاج کو دیکھتے ہوئے تو یہی لگتا ہے کہ ان کی ایک حرکت سے ہی لوگ ناراض ہو جائیں گے۔
کشمیر میں امن کی بحالی کے پیچھے حکومت یا حریت کانفرنس یا دہلی سے گئے کل جماعتی وفد کا کوئی کردار نہیں ہے۔اپنے بچوں کے خراب ہوتے مستقبل کے لئے کشمیری عوام امن کی بحالی کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔پہلے ایک نکلا، پھر دوسرا، پھر پورا ہجوم نکل آیا۔ سب کی زبان پر بس ایک ہی بات تھی کہ بس اب بہت ہو گیا۔چار ماہ سے کرفیو اور ہڑتالوں کے تشدد کو برداشت کر رہے عوام اس بات سے عاجز آ چکے ہیں کہ اگر یہ سب چلتا رہا تو ان کے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا۔اسکول اور کالجوں میں امتحان دینے کا وقت آ گیا ہے۔
سرپرستوں کا ایک بڑا طبقہ یہ کہنے کو کھڑا ہو گیا ہے کہ ہمارے بچوں کے امتحان ہونے دیجئے۔کچھ بھی ہو جائے۔آپ اپنی لڑائی اکتوبر کے بعد چھیڑئے، لیکن ابھی بچوں کے امتحان ہونے دیجئے۔ امتحانات کا یہ وقت بے حد مفید ثابت ہواہے۔حریت کانفرنس نے اسکولوں کا بائیکاٹ کیا تھا کہ آپ اپنے بچوں کو اگر اسکول بھیجیں گے تو اپنے جوکھم پر بھیجیں گے۔اس سے سرپرست بھی ڈر گئے تھے، انھوں نے سوچا کہ اگر بچوں کے امتحان نہیں ہو سکے تو تمام بچوں کا سال برباد ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ دہلی سے جب کل جماعتی وفد گیا تو لوگوں نے یہی کہا کہ آپ کو جو کرنا ہے کیجئے ،امن کے لئے جو بھی کوششیں ہونی چاہئیںکیجئے لیکن کشمیر کے تعلیمی نظام کو اس ہنگامہ سے محفوظ رکھا جائے۔
علاوہ ازیں اسکولوں میں تالے لگنے کے خلاف کئی بچے سڑکوں پر یہ مطالبہ کرنے اتر آئے کہ ہمیں امتحان دینے دئے جائیں۔کشمیر کے لوگوں کی بس ایک ہی اپیل تھی کہ ہمارے بچوں کا مستقبل بچایئے۔ان لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ریاستی حکومت ان کی اس مہم میں پورا پورا تعاون کرے، اسکولوں کو تحفظ فراہم کرائے تاکہ بچے اسکول اور کالج جا سکیں اور اسکول کالج ویونیورسٹی سطح کے جتنے بھی امتحانات ہیں وہ صحیح وقت پر ہو جائیں تاکہ طلبا کا سال برباد نہ ہو۔ امتحان کے لئے حکومت سخت ہو گئی کہ لوگوں کو امتحان میں بغیر پاس کئے ترقی نہیں دی جائے گی۔ اس میں وزیر صاحب کا بہت اہم کردار رہا کہ انھوں نے بے حد سختی سے اسکولوں کے اساتذہ کو کہا کہ وہ کسی بھی حالت میں اسکول پہنچیں، خواہ انہیں کار ہائر کرنی پڑے یا  انہیں پیدل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اسی طرح پرائیویٹ اسکولوں نے بھی بہت سختی برتی اور کہا کہ ان کے اسٹاف کو بھی ہر حال میں اسکول آنا ہے۔یہاں تک کہ بچے اسکول میں ہوں یا نہ ہوں۔ اس سے سرپرستوں، اساتذہ اور طلبا پر ایک طرح کادبائو پڑا۔ جس سے ہلکی پھلکی حرکتیںسڑکوں پر شروع ہو گئیں اور ایک بار جب سڑکوں پر حرکتوں کا دور شروع ہو اتو پھر سختی کا وہ ماحول دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ پھر آپ کو ہوائوں میں نرمی کا رخ نظر آنے لگتا ہے۔بچوں کا سال خراب ہونے کے خیال سے سرپرست بے حدپریشانی میں مبتلا ہو گئے۔
حکومت نے بھی عوام کے موڈ کو سمجھا اور ضروری احکامات جاری کئے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ طلبا کے پاس جو ایڈمٹ کارڈ ہیں اسے کرفیو پاس مان کر وہ اسکول اوریونیورسٹی پہنچ سکتے ہیں۔ پولس سے بھی یہ کہہ دیا گیا کہ ایسے طلبا کو نہ روکا جائے۔ اس طرح طلبا گھروں سے نکلنے لگے اور انھوں نے اپنے امتحان دئے۔سری نگر کے جتنے بھی بڑے اسکول ہیں، انہیں بھی کھول دیا گیاہے، لیکن اسکول بسوں کی خدمات بند کر دی گئیں ۔ان اسکولوں نے کہا کہ بچوں کو اسکول پہنچانے اور لے جانے کی ذمہ داری سرپرستوں کی ہوگی۔طلبا کے سرپرستوں نے بھی ان حالات سے نمٹنے کے لئے پوری حمایت دی۔ لوگوں نے کہا کہ اگر بسیں نہیں بھی آتی ہیں اور اگر حفاظتی دستے اسکول جانے میں کوئی پابندی عائد نہیں کریں گے تو ہم بچوں کو اسکول پہنچا دیں گے۔ کشمیر میں یہ سب بڑے پر امن طریقہ سے ہو رہا ہے۔یہاںکرفیو کے دوران بھی اسکول کھلے ہیں، بچے اسکول جا رہے ہیں۔ اسکول بسوں کو بند اس لئے کرا دیا گیا ہے کیونکہ ان پر حملے ہوتے تھے۔ نیوز بنتی تھیں، لیکن جب سے لوگ اپنی گاڑیوں سے بچوں کو اسکول پہنچانے لگے ہیں، تب سے پتھرائو بھی بند ہو گیا ہے، کیونکہ کسی ایک کار پر پتھرائو کرنے سے نیوز نہیں بنتی ہے اور لوگوں کی حمایت کھونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اس لئے بچوں کے اسکول جانے کے بہانہ ہی صحیح کشمیر میں زندگی معمول پر آ گئی ہے،کیونکہ حالات کو معمول پر لانے میں اس کا بہت بڑا تعاون ہے۔کوئی بھی امتحان ملتوی نہیں کیا گیا۔ بورڈ اور تمام یونیورسٹیز نے یہ اعلان کر دیا کہ ہر بچہ اپنے ایڈمٹ کارڈ کو کرفیو کے دوران استعمال کر کے امتحان دینے پہنچ جائے۔ اس سے تمام سختیاں ختم ہو جائیں گی۔ خواہ وہ حکومت کی ہو یا حریت کانفرنس کی۔ ایک آدمی نکلے، دس نکلے، قطاریں نکلیں، ہجوم نکلے اور پھر رفتہ رفتہ وہ سناٹا ختم ہو گیا۔
حکومت ہند نے اسکولوں کے لئے 100کروڑ کا پیکیج دیا کہ انفراسٹرکچرکو ڈیولپ کیا جائے۔ اسکولوں کو یہ احکامات دئے گئے کہ آپ اسکول کھولے رکھیں۔ حکومت ہند نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا کہ یہاں کے سرپرست اس بات سے عاجز آ چکے ہیں۔ حکومت نے سرپرستوں کے اس اشارہ کو سمجھا اور اس کا استعمال ڈیڈ لاک توڑنے میں کیا۔ حفاظتی اہلکاروں سے کہا گیا کہ سرپرست، بچے اور ان کی گاڑیوں کو کوئی نہیں چھوئے گا۔ اس سے خود ہی لوگ نکلے اورانھوں نے حریت کو فراموش کردیا۔ ایک نکلا، رفتہ رفتہ سب نکلے اور جو لوگ چاہتے تھے کہ ہڑتال رہے، کنفیوز کر رہے تھے وہ سمجھ گئے کہ اب ہماری ایک نہیں چلے گی۔ حکومت نے بہت اچھی چیز پکڑی تھی اور اسی کو حکومت آگے بھی بڑھا سکتی ہے۔یہاں کے جو لوگ ہیں ان کے درمیان سیکشن بن گئے  ہیں جس میں سے ایک بہت بڑا سیکشن یہ ہے جو چاہتا ہے کہ حالات معمول پر آئیں ۔ حکومت ہند کے لئے تو یقینی طور پر یہ بہت ہی اچھا موقع ہے کہ وہ نظام تعلیم کو ہی آگے لے جاتے ہوئے اس پر زور ڈالے کہ تعلیم چلتی رہے، اسکول، کالج چلتے رہیں تاکہ اسی بہانہ ہمارے یہاں ٹرانسپورٹ اور کاروبار بہتر طریقہ سے چلتا رہے۔
یہ ایسا موضوع تھا جس سے کشمیر کا ہر کنبہ پریشان تھا۔ سب کو اپنے بچوں کی فکر ستا رہی تھی۔بند کی حمایت کرنے والی تنظیمیں اور لیڈر خاموش ہو گئے ہیں۔ انہیں اب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں۔اس کے بھی کئی فائدے ہوئے۔ کشمیری عوام کے ساتھ حکومت اور حریت ، سب کو راحت ملی۔حریت کو لگا کہ یہ ایسا وقت ہے کہ اگر اب کوئی بیان بازی ہوئی اور اسکول کالج بند رہے تو عوام ان کی باتوں کو ماننے سے انکار کر دیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ اتنے دنوں تک کے ڈیڈلاک سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں رہے۔حریت کانفرنس نے حالات کا جائزہ لیا اور انتظام کرنے لگے کہ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، لوگوں کامزاج کیا ہے۔ حریت بھی اپنی عزت بچانے کے لئے لوگوں پر انگلی اٹھانے سے بچتی رہی۔ تاہم ماحول ایسا بن گیا کہ سب لوگ یہی چاہنے لگے کہ سب کچھ معمول پر آ جائے، نوکری پیشہ لوگ اپنی نوکری پر جانے لگیں۔لوگوں کے اسی مزاج کو دیکھتے ہوئے حریت بھی خاموش ہے، کسی بھی بھڑکائو بیان بازی سے بچ رہی ہے۔ویسے بھی سردی کا موسم آ رہا ہے ۔ برف باری کے سبب کشمیر میں کام متاثر ہوتا ہے۔وزیر اعلیٰ ، وزرائ، افسران تمام لوگ جموں چلے جاتے ہیں۔ جب تک یہ لوگ یہاں ہوتے ہیں ان کی گاڑیاں نظر آتی ہیں، کوٹھیوں کے ارد گرد لوگ ہوتے ہیں، سڑکوں پر ان کی آمد و رفت رہتی ہے۔جیسے ہی یہ سرکاری مشنری جموں منتقل ہو جائے گی تب یہاں کے لوگوں کا غصہ کم ہو جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *