راہل گاندھی کی شہریت پر اٹھا سوال، 22 اپریل تک الیکشن کمیشن نے مانگا جواب

Share Article

لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش کی امیٹھی اور کیرالہ کی وایناڈ سیٹوں سے امیدوار کانگریس صدر راہل گاندھی کی شہریت پر سوال اٹھا ہے۔ امیٹھی سے آزاد امیدوارکے طورپر الیکشن لڑ رہے دھرولال کے وکیل روی پرکاش نے الیکشن افسر کے سامنے راہل کی شہریت کو لے کر سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے الیکشن افسر سے شکایت کی ہے کہ راہل گاندھی نے برطانوی شہریت لی تھی اس لئے ان کا اندراج (نامزدگی)منسوخ کیا جائے۔

روی پرکاش نے برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے کاغذات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے۔ راہل گاندھی کے وکیل راہل کوشک نے شکایت میں اظہار اعتراضات پر جواب کیلئے وقت مانگا۔ الیکشن افسر نے 22 اپریل پیر کی صبح ساڑھے دس بجے کا وقت طے کیا ہے۔

اس دوران کانگریس کے ضلع صدر یوگیندر مشرا نے ہفتے کو کہا، ’جو بھی اعتراضات داخل کیا گیا ہے، ان کا مقرر تاریخ پر قانونی طور پر جواب دیا جائے گا‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے کانگریس صدر راہل گاندھی کی شہریت کو لے کر درخواست دائر کرنے والے سے جمعہ کو کہا کہ وہ اپنی شکایت اٹھانے کیلئے مرکزی حکومت کی مجازاتھارٹی سے رابطہ کریں۔

جسٹس ڈی کے اروڈا اور جسٹس منیش ماتھر کی بنچ نے آر کے سنگھ کی درخواست پر مذکورہ ہدایت دی۔ بنچ نے ایک دسمبر 2015 کے حکم کو بھی نوٹس میں رکھا، جس کی ہدایات دی گئی تھی کہ درخواست گزار اس مسئلہ اٹھانے کے لئے مرکزی حکومت سے رابطہ کرے۔درخواست میں الزام ہے کہ ایک معاملے میں راہل گاندھی نے برطانیہ میں انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیا ہے اور خود کو برطانیہ کا شہری ظاہرکیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *