وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت

Share Article

سنتوش بھارتیہ
اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ قانون بنائے جاتے ہیں اور بناتے وقت ہی اسے توڑنے کے راستے بھی بن جاتے ہیں۔ قانون بنائے جاتے ہیں اور ان سے بچنے کا راستہ بھی انہی میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اسی کا سہارا لے کر عدالتوں میں وکیل اپنے ملزم کو چھڑا لے جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بہت سارے معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ مجرم باہر گھومتے ہیں، جب کہ بے گناہ اندر ہوتے ہیں۔ کسی نے دو سو روپے کی چوری کی، وہ جیل کے اندر اور جس نے دو سو کروڑ روپے کی چوری کی، وہ جیل کے باہر، کیوں کہ اس کے لیے وکیل راستے نکال لیتے ہیں۔ دو سو روپے چوری کرنے والے کے پاس وکیل کو دینے کے لیے پیسہ نہیں ہوتا، اس لیے راستہ نہیں نکل پاتا۔
لوک پال بل جس طرح پارلیمنٹ میں پیش ہوا، اس سے زیادہ بہتر تھا کہ یہ نہ پیش ہوتا، کیوں کہ اس سے مٹھی بند رہتی اور یہ مانا جاتا کہ کانگریس پارٹی ابھی بدعنوانی سے لڑنے کے راستے نہیں نکال پائی، لیکن اس نے بل پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ راستے نکالنا ہی نہیں چاہتی۔ شاید یہ بل کانگریس کی لیڈرشپ کا بل نہیں ہے، یہ ہندوستان کی نوکر شاہی کا بل ہے۔ پوری نوکر شاہی متحد ہو گئی اور اس نے کانگریس کے لیڈروں یا سرکار چلانے والوں کو بتا دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر انا ہزارے کے ذریعے تجویز کردہ لوک پال بل کو حمایت نہیں دے گی، کیوں کہ اس سے ملک نہیں چلے گا۔ نوکر شاہی کا ماننا ہے کہ ملک چلانے کے لیے کئی سارے ایسے کام کرنے پڑتے ہیں، جو پہلی نظر میں بدعنوانی کی فہرست میں آتے ہیں۔ اگر وہ کام نہ کیے جائیں تو جس طرح دنیا چل رہی ہے، ہمارا اس کے ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا، ترقی کا پہیہ رک جائے گا۔ کانگریس لیڈرشپ نے اس پر حامی بھردی، کیوں کہ کانگریس کے لیے بدعنوانی کبھی ایشو تھا ہی نہیں۔ اس کے لیے چھوٹی بدعنوانی تو ایشو ہے، لیکن بڑی بدعنوانی اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کا ماننا ہے کہ ملک چلانا ہے تو کچھ حد تک آنکھوں کو بند کرنا ضروری ہے۔ لیکن ملک کے لوگ اس سے کچھ الگ سوچتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بڑی بدعنوانی پر روک نہیں لگے گی تو چھوٹی بدعنوانی کسی بھی قیمت پر نہیں روکی جاسکتی ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، 1987-88 میں جب بوفورس کا معاملہ سامنے آیا اور یہ خلاصہ ہوا کہ سات یا ساڑھے سات فیصد کمیشن بوفورس نے ہندوستان میں مدد کرنے والوں کو دیا اور یہ بات سامنے آئی کہ سرکار میں بڑے عہدوں پر بیٹھنے والے لوگ اس میں حصہ دار تھے تو اُن دنوں بس کنڈکٹر کھلے عام عام آدمی سے ٹکٹ کے پیسے لیتا تھا اور چینج واپس نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ جب سات فیصد اوپر کے لوگ لے رہے ہیں تو دس فیصد کا ہمارا حق بنتا ہے۔ لوگ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھتے تھے اور پیسے واپس لینے کے لیے تھوڑی حیل حجت ہوتی تھی، پر نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ باقی پیسے واپس نہیں ملتے تھے۔ وہیں سے ہمارے ملک میں سات سے دس فیصد کمیشن لینے کا گویا کھلا چلن شروع ہو گیا۔ افسر، انجینئر اور ڈاکٹر بے شرمی کے ساتھ لوگوں سے پیسے مانگنے لگے۔ جو بدعنوانی پہلے صرف بڑے سرکاری محکموں تک محدود تھی، چھوٹے محکموں میں بہت چھوٹے پیمانے پر ہوتی تھی، جیسے اگر تاریخ بڑھوانی ہے تو آپ بیس روپے کا نوٹ پیش کار کے سامنے پھینک دیجئے تو تاریخ بڑھ جاتی تھی، لیکن اب وہی بدعنوانی اتنی بڑھ گئی کہ آج جب ہم اور آپ بات کر رہے ہیں، شاید کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں پر بغیر کچھ پیسے دیے فائل آگے بڑھ سکے یا آپ کا کام ہو سکے۔
بہت سارے لوگ ڈرائیونگ لائسنس کی مثال دیتے ہیں۔ کمپیوٹرائزیشن ہو گیا، آن لائن ایپلی کیشنز جانے لگیں اور کہا گیا کہ اس سے بدعنوانی پر روک لگے گی، لیکن بدعنوانی تو چوراہے پر آکر کھڑی ہوگئی۔ افسر پاس سے گزرتے ہیں اور چوراہے پر کھڑا سپاہی سامنے پیسے لیتا ہے۔ ممبئی میں تو رشوت لینے سے روکنے پر ایک سینئر افسر کو سپاہیوں نے ہی پیٹ پیٹ کر مار ڈالا، آگ لگا کر اسے جلا دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہم اگر سنجیدہ نہیں ہوں گے، اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بدعنوانی سے لڑتے دکھائی نہیں دیں گے تو ملک میں نچلی سطح پر بدعنوانی کم نہیں ہوگی۔ نتیجے کے طور پر اگر کسی کو ایپلی کیشن جمع کرانی ہے اور کہیں اس کا رشتہ نوکری سے ہے تو وہ ایپلی کیشن بغیر پیسہ دیے جمع نہیں ہو سکتی۔ جس ملک میں یہ حال ہو اور وہاں سرکار اتنا کمزور بل لائے تو لوگوں کو لگتا ہے کہ کانگریس بدعنوانی سے لڑنا ہی نہیں چاہتی۔ کانگریس کی قیادت میں بنی سرکار کو بڑے نوکرشاہوں کا دباؤ جھیلنا پڑ سکتا ہے۔ پر یہیں تو سیاسی قوتِ ارادی کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قوتِ ارادی ہو تو یہ سارے کام ہو سکتے ہیں، لیکن اگر سیاسی قوتِ ارادی نہ ہو اور آپ کو کام کرنا نہ آئے تو پھر نوکر شاہ آپ کے اوپر حاوی ہو جاتے ہیں۔ عوام کی نظر میں کانگریس بدعنوانی سے لڑتی دکھائی نہیں دیتی، اس کے لیے وہ اسے گنہگار مان رہی ہے، لیکن اس کی نظر میں باقی سیاسی پارٹیاں بھی کوئی بہت دودھ کی دھلی نہیں ہیں۔
لوگوں کو لگ رہا ہے کہ بہت ساری مخالف آوازیں صرف رسمی طور پر نکل رہی ہیں۔ ان کے من میں یہ بات گھر کر رہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ جمہوریت کے لیے بہت ہی خطرناک بات ہے۔ اس لیے، کیوں کہ ہر جگہ، جہاں بھی ہم نظر ڈالیں، لوگوں کا جمہوری نظام سے بھروسہ اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ راجا کوئی بھی ہو، ہماری حالت یہی رہنے والی ہے۔ ہمیں پٹنا ہے، بھوکوں مرنا ہے، بیمار رہنا ہے، ہمارے بچوں کو نوکری نہیں ملنی ہے۔ کل ملاکر امید کا ماحول ختم ہو رہا ہے۔ کانگریس پارٹی میں اگر سمجھدار لوگ ہیں تو انہیں اس حالت کو آج سمجھنا چاہیے۔ اس لیے، کیوں کہ اگر وہ ابھی نہیں سمجھیں گے تو ان کے بچوں کو، آنے والی نسل کو بہت ساری باتوں کے جواب دینے پڑیں گے اور اگر جواب نہیں دے پائیں گے تو ملک میں انہیں حقارت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ ایک افسوس اور ہے۔ آج ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو تمام سیاسی پارٹیوں سے کہہ سکے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ جو اقتدار میں ہیں اُن سے نہ کہے، لیکن جو اپوزیشن میں ہیں اُن سے تو کم سے کم یہ بات کہے۔ 120 کروڑ لوگوں کے ملک میں اس حالت پر علاوہ افسوس جتانے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ شاید یہ اس لیے ہو رہا ہے، کیوں کہ سیاسی لیڈروں نے ملک میں ماحول ایسا بنا دیا ہے کہ اچھے لوگ سیاست میں آنے کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ انا ہزارے اور ان کے ساتھی اس حالت میں عوام کو ساتھ نہیں لینا چاہتے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ اَنشن کریں گے اور ملک ہمیشہ کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے، کھڑا بھی ہو جائے، کیوں کہ لوگ کسی بھی موقع کو اپنے ہاتھ سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیے بنا جانے نہیں دینا چاہتے۔ یہ وہ علامت ہے، جسے سیاسی مشینری چلانے والوں کو سمجھنا چاہیے۔ اگر کہیں ایسا وقت آ جائے کہ لوگ یہی طاقت جمہوری دائرے سے باہر نکل کر دکھانے لگیں تو؟ انا ہزارے کی آج زیادہ ذمہ داری ہے۔ انہیں پورے ملک میں گھوم کر لوگوں کو اس حالت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ آواز غیر جمہوری نہیں، جمہوری۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تمہاری طاقت کیا ہے، اپنی طاقت سے تم سرکاریں بدل سکتے ہو، سرکاریں بنا سکتے ہو۔ اگر سرکاریں بدلنی ہیں تو کیسے بدلنی ہیں اور سرکاریں بنانی ہیں تو کیسی بنانی ہیں۔ یہ ملک گاندھی کے ہند سواج کی بنیاد پر چلے گا یا وال اسٹریٹ کے فلسفہ پر چلے گا۔ یہ ملک یہاں رہنے والوں کے خواب پورا کرے گا یا آئی ایم اے اور ورلڈ بینک کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سارے ملک کو ذہنی طور پر کند کر دیا جائے گا۔ سوال بڑا ہے، اس کا جواب بھی بڑا ہوگا۔ پر اُس جواب کو اگر سیاسی پارٹیاں نہیں تلاش کرتی ہیں اور انا ہزارے بھی اس جواب کو تلاش کرنے نہیں نکلتے ہیں تو اس ملک میں جمہوری نظام کے خلاف جو بھی آواز اٹھائے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک اس کی حمایت کردے۔ ایسے ہی حالات جرمنی میں تھے، جب ہٹلر سامنے آیا تھا۔ ہٹلر کی کتاب، اس کی سوانح عمری، اس کا ایک ایک جملہ ہندوستان میں صحیح ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، جن کے سہارے اس نے جرمنی میں لوگوں کو نظام کے خلاف تیار کر لیا تھا۔ آج کا سیاسی نظام اگر اسے نہیں سمجھتا ہے تو ملک کے نوجوانوں کو اس حالت کو سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت بہت مشکل سے ملتی ہے اور اسے بنائے رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
جمہوریت یا ادھوری جمہوریت بھی اگر ہاتھ سے جانے والی ہو تو کیسی چھٹپٹاہٹ ہوتی ہے، اگر اسے جاننا ہو تو پڑوسی ملک پاکستان میں دیکھنا چاہیے، جہاں پوری سرکار، اس کا وزیر اعظم بلبلا رہا ہے، تلملا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ فوج ہماری سرکار کا تختہ پلٹنے کی سازش کر رہی ہے یعنی جمہوریت کو ختم کرنے کی تیاری پاکستان میں فوج کے ذریعے ہو رہی ہے۔ ہمارے ملک میں پوری جمہوریت ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو اس کی حمایت میں کھڑا ہونا ہوگا، سیاسی پارٹیوں کے اوپر دباؤ بنانا ہوگا، انا ہزارے کے اوپر بھی دباؤ بنانا ہوگا کہ اس طریقے سے عوام نہیں کھڑے ہوتے، صرف اس کی حمایت ملتی ہے۔ عوام کو کھڑا کرنے کے لیے ان کے درمیان جانا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح، جیسے پانی گرم کرنا ہے تو آپ کو اسے آنچ کے اوپر رکھنا پڑے گا، بھلے ہی آنچ لکڑی کی آگ کی ہو، کوئلے کی آگ کی ہو، گیس کی آگ کی ہو یا سورج کی گرمی کی آگ ہو۔ بغیر آگ پر رکھے پانی گرم نہیں ہوگا۔ عوام کی تحریک، جمہوریت کو بنائے رکھنے اور جمہوریت میں رہنے والوں کے لیے خوشحالی لانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ عوام، اس کی تحریک مضبوط ہو اور جمہوریت بنی رہے۔ سبھی لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ عوام کے مفاد کے لیے کام کریں، نہ کہ ان کے حق میں، جو عوام کا مفاد نہیں چاہتے۔ ہم ایک بڑے بحران کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ کاش کہ منموہن سنگھ، سونیا گاندھی، لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج، اے بی بردھن، پرکاش کرات، ملائم سنگھ یادو، لالو یادو اور رام ولاس پاسوان اس سچائی کو سمجھتے۔ ان کا نہ سمجھنا علامتی طور پر جمہوریت کے لیے ایک گھنے کہرے جیسا ہے، جس میں ایکسیڈنٹ ہو سکتا ہے۔g

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *