خطے میں ایران کا نفوذ کم کرنا چاہتے ہیں : ٹرمپ

Share Article

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ’یمن اور شام میں دہشت گردی‘کی سپورٹ کر رہا ہے۔جمعرات کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کی میزائل سرگرمیوں اور خطے میں تہران کے نفوذ میں کمی چاہتا ہے۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ ایرانی حکومت بات چیت چاہتی ہے جو بہت اچھی بات ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم بات چیت کریں گے مگر اس چیز کو باور کرانا چاہتے ہیں تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں فرانس کے صدر ان کے ساتھ مکمل موافقت رکھتے ہیں۔دوسری جانب ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ہم اس بات کا یقین چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔

 

 

فرانسیسی صدر نے کہا کہ فرانس کے اہداف میں ایران کی بیلسٹک میزائل سرگرمیوں میں کمی اور اس کے علاقائی نفوذ پر روک لگانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پیرس اور واشنگٹن کے درمیان ایک اور مشترکہ ہدف بھی ہے اور وہ ہے خطے میں امن جس کے لیے ہمیں نئے مذاکرات شروع کرنا چاہئیں۔ میکرون کا کہنا تھا کہ آج کے روز صدر ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والی گفتگو بہت اہم ہے۔اس موقع پر ٹرمپ نے باور کرایا کہ ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں کے ساتھ اور امریکا کے فرانس کے ساتھ تعلقات “خصوصی” نوعیت کے ہیں۔میکرون کے مطابق وہ فرانس اور امریکہ کے بیچ تاریخی تعلقات کے خواہاں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جاپان میں G-20 سربراہ اجلاس کے بعد چین پر نئے کسٹم محصولات عائد کرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ 28 اور 29 جون کو مقررہ مذکورہ سربراہ اجلاس کے دوران اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *