فحش گانے کبھی نہیں گائوں گی: شیریا گھوسال

Share Article

شریا گھوسال کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب خود کو آڈینس کی ڈیمانڈ کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ شریا کی آواز دل کو سکون پہنچاتی ہے۔ آج آئٹم سانگس ہندی فلموں میں اہم جزو بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف انھوں نے اے میری زندگی، چلو تم کو لے کر چلیں، جیسے گانوں سے لوگوں کو دیوانہ بنایا، تو وہیں لوگوں کے آئٹم سانسگس کے تئیں بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے انھوں نے او بلما، او لالا، چکنی چمیلی ،چلائو نہ نینو سے بان رے، تیرا عشق بڑا تیکھا، جیسے گانے بھی گائے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، وہ آئٹم کے نام پر فحش گلوکاری کبھی نہیں کریں گی۔ پیش ہیں ان سے ہوئی تفصیلی بات چیت کے اہم اقتباس:

آپ ہر خاص و عام کی پسند ہیں ، پہلے اور اب کے گانوں کے بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟
پرانے دور کی موسیقی کی بات کریں، تو تب موسیقی میں میلوڈی تھی، خاص رومانٹک میلوڈی ، لیکن آج کے گانوں میں وہ بات ، وہ کشش نہیں ہے۔ پہلے گانے دل کو چھو لینے والے ہوتے تھے، لیکن آج کے گانوں میں وہ بات نہیں ہے۔دراصل اس وقت اچھے نغمہ نگار بھی تھے، حالانکہ بہتر لکھنے والے آج بھی ہیں، لیکن ان سے کام نہیں لیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے فلمسازوں کو لگتا ہے کہ آج کے وقت میں تڑکتے بھڑکتے گانے ہی لوگوں کو پسند آ رہے ہیں۔
بطور گلوکارہ آپ کو کون سی بات زیادہ خوشی دیتی ہے؟
جب میں باہر کسی مال، پارٹی، شادی وغیرہ جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ لوگ میرے گانوں کو انجوائے کر رہے ہیں ،گنگنا رہے ہیں، تو مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔
آپ کس طرح کے گانے زیادہ پسند کرتی ہیں؟
میں ہر طرح کے گانے گاتی ہوں، ٹھمری سے لے کر کلب نمبر تک، لیکن مجھے جذباتی اور دل کو چھو جانے والے گانے زیادہ پسند ہیں۔
آپ کی زندگی کا سب سے اچھا لمحہ؟
جس لمحہ مجھے فلم ’دیوداس‘ میں پارو کی آواز کے لئے منتخب کیا گیا، وہ لمحہ واقعی میری زندگی کا سب سے یاگار لمحہ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے بعد میری زندگی اور اس کے معنی ہی بدل گئے۔
آپ کو لگتا ہے کہ موجودہ ڈیمانڈ کے مطابق آئٹم سانگس گانا اب گلوکاروں کی مجبوری بن گئی ہے؟
ہاں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں، لیکن اتنا آسان بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہے، یہ کافی مشکل کام ہے۔ اچھے میلوڈی والے گانے آپ دل سے گاتے ہیں، جبکہ ایسے گانے، جن میں مشکل الفاظ ہوں ان پر گانا اور یہ امید بھی کرنا کہ وہ سب کو پسند آئیں گے ، واقعی مشکل کام ہے۔ تین منٹ کا گانا یا تو ہٹ ہو جاتا ہے یا پھر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آپ ایک ریالٹی شو سے انڈسٹری میں آئیں، اس طرح کے شوز کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟
جب میں نے ٹیلنٹ شو ہنٹ میں حصہ لیا تھا، تب ان شوز میں اتنے آڈینس نہیں ہوتے تھے۔ آج کل ٹیلنٹ ہنٹ شو کے سبب ہی لوگ راتوں رات مقبول ہو جاتے ہیں۔
مستقبل کے لئے آپ کی کیا پلاننگ ہے؟
زندگی بھر ہمیشہ گاتی رہوں، یہی میری پلاننگ ہے ۔ دراصل میں سماج کے لئے کچھ اچھا کرنا چاہتی ہوں، اس لئے ابھی بہتر موقع کی تلاش میں ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *