ووٹوں کی سیاست : اقلیتوں کو گمراہ کرتے سیاستداں

Share Article

سنجے سکسینہ 
p-11bاتر پردیش کے مسلم ووٹرس کو متحد کرنے اور ان پر اپنا دبدبا بنائے رکھنے کے لئے۔ سماجوادی حکومت تنظیم کے سربراہان کے ذریعہ ’’شام ، دام ، دنڈ ، بھینٹ‘‘ جیسے تمام ہتھکنڈے اپنارہی ہے۔سماجوادی اعلیٰ کمان توقع تھی کہ مسلمانوں کے سہارے نیتا جی دلی میں اپنی دعویداری مضبوط کریں ، لیکن مظفر نگر فسادات نے ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ فسادات نے ان کی حالت ’’خدا ہی ملا نہ وصال صنم ‘‘ جیسی کر دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کسی بھی طرح یو پی میں کم سے کم 60سیٹیں جیتنے کے خواب پالے بیٹھی ہے۔ ادھر کانگریس مسلم ووٹروں میں پکڑ مضبوط کرنے کے لئے کوئی کثر باقی نہیں چھوڑ رہی ہے۔سماجوادی پارٹی کا مسلم عشق کانگریس کو راس نہیں آ رہا ہے۔ فسادوں نے اسے سماجوادی حکومت پر وار کرنے کا ایک بہترین موقع دے دیا ہے تو سماجوادی پارٹی کے مکھیا ’’ابھی نہیں، تو کبھی نہیں‘‘ کی طرز پر مسلمانوں کولبھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔
فسادات کے بعد ہوئے سیاسی پولزرائزیشن کو بھنانے کے لئے ملائم اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اپنے سپہ سالار وں پر پر بھروسہ چھوڑ کر خود میدان میں کود پڑے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی پکڑ میں رکھنے کے لئے سماجوادی اعلیٰ پیمانے پر’’دیش بچائو، دیش بنائو‘‘ ریلیوں کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ 29اکتوبر کو اعظم گڑھ سے ریلی کا آغاز ہوا ، لیکن 09نومبر کو مغربی اتر پردیش کے بریلی ضلع کی ریلی میں مسلمانوں کو لبھانے کے لئے ملائم اور اکھلیش خود موجود رہیں گے۔ایک جانب مسلم ووٹوں کو لے کر مختلف سیاسی جماعتوں میں رسہ کشی مچی ہے تو دوسری طرف دانشور مسلم طبقہ اس بات کو لے کر متفکر ہے کہ اس کی قوم کو ووٹ بینک سے زیادہ ترجیح حاصل نہیں ہو پا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتیں ان کے بنیادی مسائل کو دور کرنے کے بجائے مذہب کے نام پر ان کا استحصال کرتی رہتی ہیں ، جیسا کہ جمعیۃ علمائے ہند کے سربراہ محمود مدنی بھی کہتے ہیں۔ مسلمانوں کو ڈرایا جاتا ہے اور جو فائدہ انہیں ملنا چاہئے وہ نظر نہیں آتا۔ آزادی کے بعد سے مسلمان آج بھی وہیں کھڑے نظر آتے ہیں ، جہاں سماجوادی پارٹی اور بی ایس جیسی پارٹیوں کے وجود میں آنے سے پہلے کھڑے تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں کی ہی اگر بات کی جائے تو اتر پردیش میں مسلمانوں کی صورتحال میں اس دوران کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ شرح خواندگی پہلے بھی کم تھی اور آج بھی کم ہے۔ سرکاری نوکریوں میں بھی ان کی نمائندگی کوئی قابل قدر اضافہ نہیں ہو پایا ہے ، تو وہیں ان کی مالی حالت بھی اوسطاً پسماندہ ہے۔ملک میںسطح افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں مسلمانوں کی تعداد چوتھائی (25فیصد ) برقرار ہے۔
ریزرویشن سے دلتوں اور پسماندہ ہندوئوں کا تو فائد ہوا، لیکن مسلمانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں مل پایا۔بی ایس ، ایس پی اور کانگریس وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو نوکریوں میں ریزرویشن کا مدعا اچھالتی رہتی ہیں، لیکن اس میں سنجیدگی کا فقدان رہتا ہے۔ آئین میں ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کا نظم ہے۔مسلمانوں میں کوئی درج فہرست ذات نہیں ہوتی ، اسی لئے درج فہرست طبقہ میں کوئی مسلم برادری شامل نہیں ہے۔ پچھڑے طبقے کی جو فہرست ہے اس میں نائی، انصاری، درزی، رنگریز ، میراثی ، بھشتی، کنجڑا،دھنیافقیر، گھوسی، افالی، دھوبی ، منیہار اور ہلوائی جیسی ایک درجن مسلم برادریاں شامل ہیں۔ ، جنہیں ریزرویشن کا فائدہ ملنا چاہئے چونکہ ان برادریوں میں خواندگی کا فیصد کافی کم ہے ، اس لئے وہ ریزرویشن کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔
سماجوادی پارٹی نے 2012کے اسمبلی انتخابات کے وقت مسلمانوں کو ریزرویشن کی بات کہی تھی، لیکن سماجوادی پارٹی حکومت کے برسراقتدار ہونے کے بعد ڈیڑھ سال بعد بھی اس کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ پسماندہ طبقہ کے لئے جو 27فیصد ریزرویشن طے ہے، اس میں ان مسلم برادریوں کے لئے ان کی آبادی کے تناسب کوٹہ طے کرنا بھی آسان نہیںہے۔ قبل میں ہوئی اس طرح کی کوشش کو عدالت بھی خارج کر چکی ہے۔راجناتھ سنگھ جب یو پی کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے پسماندہ طبقہ کی پوری فہرست کو تین زمروں میں تقسیم کر کے سب کے لئے الگ الگ کوٹہ طے کر دیا تھا، لیکن ان کے اس فیصلہ کو عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ یہی حال سرکاری نوکریوں کا ہے۔ اکثر مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں نوکریوں میں شراکت بڑھانے کے لئے خصوصی بھرتی مہم چلانے کی بات ہوتی ہے، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہونے کے سبب نوکری کی درخواست میں یہ شرط تو جوڑی نہیں جا سکتی کہ اس کے لئے صرف امیدوار ہی درخواست کر سکتے ہیں۔لہٰذا ، یہاں بھی مسلمان پچھڑ جاتا ہے۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مسلمانوں کی بات کی جائے تو وہ تعلیم کے معاملہ میں دیگر برادریوں سے پسماندہ ہوا ہے ۔ قومی خواندگی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کی کل آبادی میں سے 65فیصد لوگ خواندہ ہیں تو مسلمانوں کی شرح خواندہ 59فیصد ہی ہے۔ دس سے 14سال کی عمر کے ایک چوتھائی مسلم بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ گریجویٹ سطح پر 25میں سے ایک اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر 50میں سے ایک ہی طالب علم مسلم ہوتا ہے۔ بات نوکری کی کی جائے تو آئی اے ایس سطح پر صرف تین فیصد، آئی پی ایس میں چار فیصد اور آئی ایف ایس میں صرف 1.8فیصد ہی مسلمان کامیاب ہو پاتے ہیں۔ انڈین ریلویز میں مسلمانوں کا نمائندگی 4.5فیصد، جن میں98فیصد سے زیادہ ذیلی عہدوں پر ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی 4فیصد ، عدلیہ میں سات فیصد اور ریاستی خدمات کے لئے اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ منتخب امیدواروں میں مسلمانوں کی شراکت محض2.1فیصد ہی ہے۔ اتر پردیش کے مختلف سرکاری منصوبوں کے مستفدین میں تین سے 14فیصد ہی مسلمان ہیں جبکہ ہندوستان کی کل آبادی میں23فیصد غریب اور ان میں بڑا حصہ مسلمانوں کا ہے۔بات حفاظت کی کی جائے تو مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے انسداد فرقہ وارانہ فساد بل لانے کی بات طویل عرصہ سے چل رہی ہے، لیکن کب یہ بل آئے گا، کوئی نہیں جانتا۔ کچھ سالپہلے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بیان دیا تھا کہ ہندوستان کے قدرتی وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے، اس پر کافی شور شرابہ ہوا تھا اور وزیر اعظم کو صفائی پیش کرنی پڑی تھی، لیکن اس سے مسلمانوں کو فائدہ کم نقصان زیادہ اٹھانا پڑا۔
بات یو پی کی جائے تو یہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20فیصد ہے۔ یہاں 100سے زائد ایسی سیٹیں ہیں، جہاں مسلم رائے دہندگان فیصلہ کن پوزیشن میں ہوتا۔ سماجوادی پارٹی کے طاقتور ہونے سے پہلے تک مسلمانوں کے پاس سیاسی متبادل کم تھے۔ اجودھیا کا متنازعہ ڈھانچہ مندہم کئے جانے تک مسلمان کانگریس کے ساتھ جڑا۔ اس کے بعد کچھ انتخابات میں وہ پوری طرح سماجوادی پارٹی کے ساتھ رہا۔ سماجوادی پارٹی کا امیدوار ہارے یا جیتے ،لیکن مسلمانوں نے ووٹ سماجوادی کو ہی دیا۔ لہٰذا سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کی کتنی فلاح کی یہ کوئی دعوے سے نہیں کہہ سکتا ہے، لیکن اس نے مسلمانوں کو بی جے پی کی فرقہ پرستی کو خوب بھنایا۔بی ایس پی بھی وقتاً فوقتاً مسلمانوں پر ڈورے ڈالتے رہی۔ بی ایس پی کے مضبوط ہونے کے بعد مسلم ووٹروں نے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو ہرانے کے لئے جو بھی جیت رہا ہو، اس کو ووٹ دینا شروع کر دیا۔ اس کے اس فیصلے سے 2002اور 2007کے انتخابات میں بی ایس پی کو بھی فائدہ ہوا، لیکن 2012میں وہ پھر سماجوادی پارٹی کے ساتھ آ گیا اور انہیں اقتدار کی دہلیز تک پہنچا دیا۔ مسلمان اس بات سے دکھی ہے کہ سیاستداں اس کو گمراہ کر کے اپنامقصد پورا کرنے کی سازش رچتا رہتا ہے اور بھولے بھالے مسلمان ٹھگے جاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *