ووٹ کی پٹری پر سوار ریل بجٹ

Share Article

چوتھی دنیا بیورو
 ریلوے کی اپنی ایک اہمیت ہے، چونکہ یہ عام لوگوں سے متعلق ہے، اس لئے سیاسی پارٹیاں ہمیشہ سے اسے اپنے فائدے کے حساب سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ اس بار کے ریل بجٹ کو بھی کچھ اسی طرح سے دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اسے چاپلوس اور رائے بریلی بجٹ کا نام دے رہی ہیں۔ ظاہر ہے، سرکار کو گھیرنے کی پوری طرح سے تیاری کی جا رہی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ریل بجٹ میں سرکار ان صوبوں پر زیادہ مہربان دکھائی دی، جہاں اسمبلی کے انتخاب ہونے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا  ہے کہ کیا ریل کا تحفہ دے کر سرکار چناؤ جیتنے کی تیاری کر رہی ہے؟فی الحال بجٹ سے کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔ راجستھان، آندھرا پردیش اور کرناٹک وغیرہ صوبوں میں اسمبلی کے انتخاب ہونے ہیں۔ یہ غیر متنازع سچ ہے کہ اس بار کے ریل بجٹ میں کل67نئی ایکسپریس ریل گاڑیوںمیں سے 14گاڑیاں ان تین صوبوں کے لئے چلانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔کانگریس نے اعلیٰ طبقے اور اعلیٰ متوسط طبقے کو خوش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس نے کچھ ٹرینوں میں وائی فائی سہولت دے کر، راجدھانی اور شتابدی ایکسپریس میں ’انوبھوتی ‘ نام کا کوچ جوڑ کر ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف ریلوے منسٹر ریلوے کے خسارے کی بات کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان سہولتوں میں پیسہ خرچ کر رہے ہیں، جن کی کوئی تُک نہیں ہے۔ وائی فائی کی سہولت پانے والے لوگوں میں کون سے لوگ ہوں گے؟ دیکھا جائے تو کانگریس سرکار نے ریل بجٹ کے بہانے اپنا انتخابی داؤں کھیل دیا ہے۔ ریل بجٹ میںریلوے میں سیکورٹی کی بات کہی گئی، روزگار کی بات کہی گئی، ساتھ ہی لوگوں کی جیب سے پیسہ نکالا گیا، لیکن راست طور پر نہیں، بلکہ با لواسطہ طور پر۔ اب ایسے میں دوسری پارٹی کے لیڈروں کو تو کانگریس کے اس انتخابی داؤں کا جواب دینا ہی تھا۔ اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو تو اس کا جواب دینا ہی تھا، لیکن چناؤ نزدیک ہونے کے سبب کانگریس کی حلیف سماجوادی پارٹی کے مکھیا ملائم سنگھ یادو، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایا وتی اور لالویادو جیسے کانگریس بھکتوں کے پاس بھی اس بجٹ کو غلط بتانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
بجٹ عوام مخالف ہے

ریل ہندوستان کی ریڑھ ہے۔ اس کا استعمال ہر خاص وعام کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ ریل بجٹ کا سبھی کو انتظار رہتا ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر سیاسی پارٹیاں اسے عوام کے لئے کم اور اپنے فائدے کے لئے زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ اس بار بھی کانگریس نے ان صوبوں پر زیادہ توجہ دی ہے، جہاں ودھان سبھا کے چناؤ ہونے ہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ ریل بجٹ انتخابی فائدے کے لئے ہے؟

ریل بجٹ کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کا رخ کافی تلخ ہے۔ سماجوادی کے سپریمو ملائم سنگھ نے تو یہاں تک الزام لگایا  کہ اس بجٹ میں عام آدمی کے بجائے کانگریس کی حکومت والے صوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اتنا عوام مخالف بجٹ آج تک نہیں آیا۔ یہ بجٹ سب سے زیادہ عوام مخالف اور مکمل جانبدار بجٹ ہے۔ کیونکہ اس میں پسماندہ علاقوں کو پوری سے محروم رکھا گیا ہے۔ کبھی کسی ریلوے منسٹر کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی، جتنی ان کی ہورہی ہے۔انھوں نے الزام لگایا کہ سرکار کو رائے بریلی اور امیٹھی کے علاوہ ، ملک کے دوسرے حصوں کا بھی دھیان رکھنا چاہئے تھا۔ سرکار میں رہ کر سرکار کی مخالفت ، یہ تو ملائم سنگھ جیسے سینئر لیڈر ہی کر سکتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عام لوگوں کو گمراہ کرنا اس سرکار کی پالیسی ہے۔ یہی ملائم سنگھ کی سیاست کرنے کا طریقہ ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی بجٹ کوپوری طرح مایوس کن بتایا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ بہار جیسے پچھٹرے صوبے میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی توسییع کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے کہا کہ بجٹ بنسل اور یوپی اے کا نہیں، بلکہ چاپلوسی والابجٹ ہے۔ اگر پون صاحب کو رائے بریلی اور امیٹھی کے لئے گاڑیاں چلانی تھیں، تو ٹھیک تھا، چلواتے، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ملک کے دیگر علاقوں کو اس کی ضرورت نہیں تھی؟ یہ بجٹ نہیں بکواس ہے۔ دوسری طرف، سابق ریلوے منسٹر اور راشٹریہ جنتادل کے سربراہ لالو پرساد یادو نے کہا کہ بنسل کا بجٹ بیکار اور عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وزیر ریل نے اپنے پارلیمانی حلقے چنڈی گڑھ پر خاص دھیان دیا ہے۔ چنڈی گڑھ ہوکر چار نئی ایکسپریس گاڑیاں گزریں گی۔ یاد رہے کہ چناؤ کے پیش نظر چنڈی گڑھ کو یہ سوغات ملی ہے۔
عوام کی پرواہ کسے ہے
ریلوے منسٹر نے بھلے ہی کرایوں میں پھیربدل نہیں کی، لیکن عوام کی جیب سے پیسہ کیسے نکالنا ہے، اس کا مکمل انتظام ریلوے بجٹ میں کر دیا گیا ہے۔ اب ٹرینوں میں ریزرویشن مہنگا ہوگا۔ ٹکٹ کینسل کرانے پر چارج پہلے زیادہ وصول کیا جائے گا، یعنی سرچارج کے نام پر مسافروں سے پیسہ وصول کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ، سپر فاسٹ چارج بھی بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ اگر گھر جانے کی جلدی ہو، تو تتکال ٹکٹ کے لئے پہلے سے زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ حالانکہ سلیپر کلاس اور سیکنڈ کلاس کی ریزرویشن فیس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، لیکن سلیپر کلاس میں تتکال فیس 15-25روپے ہو گئی ہے، یعنی دس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اے سی ۔2ٹیر میں تتکال فیس 100روپے اور اے سی ۔ 3ٹیر میں تتکال فیس 50روپے بڑھی ہے۔ وہیں اے سی چیئر کار اور اے سی اکونومی کلاس میں ریزرویشن فیس 15روپے بڑھ گئی ہے۔ اے سی ۔2، اے سی۔3، سپر فاسٹ فیس 15روپے اور اے سی ۔1میں سپر فاسٹ فیس 25روپر بڑھائی گئی ہے۔ سیکنڈ کلاس کی سپر فاسٹ فیس 5روپے، سلیپر کے 10روپے اور اے سی چیئر کار کے 15روپے بڑھائے گئے ہیں۔ یعنی سیدھے سیدھے تو کرایہ نہیں بڑھا ہے، لیکن پچھلے دروازے سے، کان کو گھماکر پکڑ لیا گیا ہے۔ یعنی اس طرح سے ریلوے کی کمائی اور عوام کی جیب ڈھیلی کرنے کا پورا پورا انتظام کر دیا گیا ہے۔
ریل نہیں، رائے بریلی بجٹ ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر گوپی ناتھ منڈے اس ریل بجٹ سے بیحد ناراض دکھائی دئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ریل بجٹ نہیں، بلکہ رائے بریلی بجٹ ہے۔ دیکھا جائے، تو 2013-14 کے ریل بجٹ میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے کا کچھ خاص ہی دھیان رکھا گیا ہے۔ ریل کوچ فیکٹری کے بعد رائے بریلی میں نیا ریل پہیہ یعنی کارخانہ لگانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہاں اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا  لمٹیڈ (سیل ) کے تعاون سے رائے بریلی میں نیا ریل پہیہ کارخانہ لگایا جائے گا۔ قریب 18سال بعد کسی کانگریسی وزیر کے ذریعے بجٹ پیش کیا جارہا تھا، اس لئے امید بھی لگائی جارہی تھی کہ بجٹ میں رائے بریلی کو ضرور کوئی بڑا تحفہ ملے گا۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کے گڑھ کہے جانے والے رائے بریلی میں اس بڑے پروجیکٹ کو اعلان کرکے بنسل نے پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریل پہیہ کارخانہ قائم ہونے میں پانچ سے چھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے میں اس اعلان کا فائدہ سونیا گاندھی سال 2014میں مجوزہ لوک سبھا چناؤ کے ساتھ ساتھ اگلے لوک سبھا چناؤ میں بھی فائدہ اٹھا سکیں گی۔ آپ کو بتادیں کہ قریب چھ ہزار کروڑ روپے کہ لاگت سے رائے بریلی کے لال گنج قصبے میں  بنائی گئی ریل کوچ فیکٹری کی لانچنگ سونیا گاندھی ریلوے منسٹر پون بنسل کے ساتھ گزشتہ سال 7نومبر کو کر چکی ہیں۔
مہنگائی بڑھانے والا بجٹ
تیل کی قیمتوں میںاضافہ ہونے سے مال ڈھلائی کا خرچ اوسطاً 5فیصد بڑھایا گیا ہے۔ اس کااثر راست طور پران اشیاء پر بھی پرْے گا، جن کا تعلق عام لوگوں سے ہے۔ عام لوگ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں، ایسے میں عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کاکرنٹ لگنے والا ہے۔ یہ  طے ہے کہ مال کا کرایہ  بڑھنے سے مہنگائی پھر سے بڑھے گی۔ غذائی اجناس کی ڈھلائی پہلے 1326روپے فی ٹن تھی، جو، اب بڑھ کر 1403روپے فی ٹن ہوجا ئے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 5.79فیصدکے اضافے سے گیہوں، چاول اور دالیں ، سب کی قیمتوں میں تقریباً 6فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پون بنسل کے مطابق، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ریلوے پر 3300کروڑ روپے کا  اضافی بوجھ پڑا ہے۔ بجلی اور ڈیزل مہنگا ہونے سے 2013-14 میں ریلوے پر 5100کروڑ روپے کا بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے۔ مال بڑھنے سے سیمنٹ، فرٹیلائزر اور کان کنی کمپنیوں پر سب سے زیادہ مار پڑے گی۔ریلوے نے ڈیزل اور رسوئی میں استعمال ہونے والے ایندھن کے نقل وحمل کے کرائیمیں 8فیصد تک کا اضافہ کیا ہے۔ اس سے خردہ سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مٹی کے تیل کی ڈھلائی پہلے  886روپے فی ٹن ہوتی تھی، جو،  اب 937  روپے  فی ٹن ہو جائے گی، یعنی اس میں بھی قریب 6  فیصد کا اضافہ ہوگا۔ رسوئی گیس کی ڈھلائی میں 6فیصد کا اضافہ ہوگا، یعنی گھرکے کچن کا بھی بجٹ بڑھے گا۔ اس کا اثر دوسری شکل میں بھی متوسط خاندانوں پر پڑے گا۔ لوہے اور اسٹیل کی ڈھلائی پہلے 1457روپے تھی، جو،  اب 1541  روپے فی ٹن ہو جائے گی۔ وہیں سیمنٹ کی ڈھلائی پہلے 685روپے فی ٹن تھی، جو،  اب بڑھ کر 724 روپے فی ٹن ہو جائے گی، لیکن وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ریل بجٹ کو اصلاحی اور آگے بڑھانے والا قدم بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریلوے منسٹر کا کام قابل تعریف ہے۔ ریلوے منسٹر نے خدمات بڑھا کر اور خرچ پر کنٹرول کرکے اچھا کام کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *