سپریم کورٹ سے واکس ویگن کو راحت، اگلے حکم تک کسی بھی تادیبی کارروائی پر روک

Share Article

 

۔ ڈیزل گاڑیوں میں اخراج چھپانے والے آلات کے استعمال پراین جی ٹی نے لگایا تھا 500 کروڑ جرمانہ

 

سپریم کورٹ جرمن کار کمپنی فاکس ویگن پر اپنی ڈیزل گاڑیوں میں اخراج چھپانے والے آلات استعمال کر ماحول کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے 500 کروڑ روپے کا جرمانہ لگانے کے این جی ٹی کے حکم کے خلاف کمپنی کی عرضی پر سماعت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اگلے حکم تک فاکس ویگن کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے پر روک لگا دی ہے۔

سات مارچ کو این جی ٹی نے فاکس ویگن پر 500 کروڑ روپے کا جرمانہعائد کیا تھا۔ این جی ٹی نے دو ماہ میں جرمانے کی یہ رقم جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے پہلے 17 جنوری کو این جی ٹی نے فاکس ویگن پر سو کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔ کمپنی پر یہ جرمانہ زیادہ نائٹروجن آکسائڈ کے اخراج کی وجہ سے دہلی میں فضائی آلودگی کو لے کر صحت کو ہوئے نقصان کو لے کر لگایا گیا تھا۔

این جی ٹی نے 18 جنوری کو سو کروڑ روپے جمع کر دیا تھا اور این جی ٹی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فاکس ویگن کو 100 کروڑ روپے جرمانہ بھرنے کے نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ این جی ٹی کے ذریعہتشکیل دی گئی کمیٹی نے فاکس ویگن پر غلط سافٹ ویئر کا استعمال کر دہلی میں فضائی آلودگی میں اضافہ کو لے کر 171.34 کروڑ روپے کا جرمانہ لگانے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فاکس ویگن کاروں سے سال 2016 میں تقریباً 48.678 ٹن نائٹروجن آکسائڈ کو دہلی کی ہوا میں گھول دیا۔

فاکس ویگن نے یہ بات قبول کی تھی کہ اس نے 11 ملین ڈیزل گاڑیوں میں غلط آلے کو استعمال کیا تھا۔ کمپنی نے سال 2015 میں 3 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کو واپس لے لیا تھا، جو ہندوستان کے بی ایس ۔4 کے معیار سے تقریباً 1.1 سے 2.6 گنا تک زیادہ آلودگی خارج کر رہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *