ویریندرسہواگ نے بتائی رازکی بات

Share Article

virender-sehwag

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق سلامی بلے بازویریندرسہواگ نے 13نومبرکواترپردیش کے شہرمیرٹھ میں منعقد ایک پروگرام میں کہاکہ کپتان بھلے ہی ٹیم کانگراں ہوتاہے لیکن کئی معاملوں میں اس کارول صرف رائے دینے والاہوتاہے اوریہی وجہ ہے کہ وراٹ کوہلی کے حمایت کے باوجود وہ ہندوستانی ٹیم کاکوچ نہیں بن پائے۔ویرونے کہاکہ کپتان کاٹیم سے جڑے مختلف فیصلوں پراثرہوتاہے لیکن کئی معاملوں میں آخری فیصلہ اس کانہیں ہوتاہے۔انہوں نے پروگرام کے دوران کہاکہ کوچ اورانتخاب میں کپتان کارول ہمیشہ رائے دینے والی رہی ہے۔وراٹ کوہلی چاہتے تھے کہ میں ہندوستانی ٹیم کاکوچ بنوں۔جب کوہلی نے رابطہ کیاتبھی میں نے درخواست دی ،لیکن میں کوچ نہیں بنا۔ایسے میں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ہرفیصلے میں کپتان کی چلتی ہے۔
انل کمبلے کی کوہلی کے ساتھ غیرمعمولی تعلقات کے باعث ہیڈکوچ کاعہدہ چھوڑنے کے بعدسہواگ بھی اس کے دعویدارمیں شامل ہوگئے تھے۔سچن تیندولکر،سوروگنگولی اوروی وی ایس لکشمن کی تین رکنی کرکٹ صلاح کارسمیتی نے حالانکہ روی شاستری کے نام پرمہرلگائی جواس سے ایک سال پہلے انل کمبلے کے دوڑمیں پچھڑگئے تھے۔ویروکے بارے میں کہاگیاتھاکہ انہوں نے صرف ایک لائن میں کوچ عہدہ کیلئے اپلی کیشن دیاتھا لیکن اپنے کرےئرمیں 104ٹسٹ اور251ونڈے کھیلنے والے اس سلامی ہرفن مولابلے بازنے اس سے انکارکیا۔انہوں نے کہاکہ میں نے سبھی رسمی طورپرکی تھی،ایک لائن والی بات میڈیاکے دماغ کی پیداوارتھی۔ویرونے مزیدکہاکہ جہاں تک بایوپک کی بات ہے توابھی تک کسی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیااورمیراایساکوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ہاں،یہ ضروری ہے کہ ہندوستان میں کرکٹ کے علاوہ بھی کئی ایسے کھلاڑی ہیں جن کی کارکردگی لوگوں کے سامنے آناچاہئے۔میرامانناہے کہ پہلوان سشیل کمارکی بایوپک آنی چاہئے،ان کومیں نے قریب سے دیکھاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *