وجے مالیا اور سیاست کا گٹھ جوڑ آسمان میں گھوٹالہ

Share Article

روبی ارون
یہ ہندوستانی جمہوریت کا بازاری چہرہ ہے، جو کارپوریٹس کے مفاد کے مطابق فیصلے لیتا ہے، جہاں جمہوریت کے پاسباں بھوک سے مرتے کسانوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کا اپنا فرض پورا نہیں کرتے، لیکن صنعتی دنیا کے سپہ سالاروں کے قدموں میں ’’سرخ قالین‘‘ بن کر بچھ جانا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اس جمہوریت کے بازاری پن کا اس سے بڑا ننگا سچ اور کیا ہوگا کہ جب ملک میں ہر آٹھ گھنٹے پر ایک کسان بھوک کی وجہ سے اور محض پچاس روپے کے قرض کا شکار ہو کر خود کشی کر رہا ہے، تب سرکار بائیس ہزار کروڑ کی ملکیت کے مالک کنگ فشر ایئر لائنس کے چیئرمین وجے مالیا کو اور بھی مالا مال کرنے کی ترکیبوں میں مصروف ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار وجے مالیا کو ہزاروں کروڑ کی امداد دینے کی جگہ خستہ حال ہو چکے ایئر انڈیا کے انتظام و انصرام کو لے کر اتنی محتاط اور فکر مند کیوں نہیں ہے؟ آخر سرکار وجے مالیا کے تئیں اتنی نرم کیوں ہے؟

وجے مالیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے پٹیل نے سرکاری انڈین ایئرلائنس کو تباہ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انڈین ایئر لائنس کی بھی اڑانوں کو گھاٹے والے روٹ پر ڈال دیا گیا اور اس کی اڑانوں کو اس قدر بے قاعدہ کر دیا کہ مسافروں نے اس کی اڑانوں کا استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ پرفل پٹیل نے رہی سہی کسر 111طیاروں کو ایک ساتھ خرید کر پوری کر دی۔ وہ بھی قرض لے کر۔ سی اے جی کی رپورٹ میں بھی پرفل پٹیل کی مدت کار میں ایئر انڈیا میں ہوئی طیاروں کی خرید و فروخت پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔

اس کی وجہ ہے کہ منموہن سرکار کے بے حد رسوخ والے وزیر اور لیڈر۔ ان کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھی سرکردہ لیڈروں نے قدم تال ملا رکھا ہے۔ کانگریس کے راجیو شکلا، مرلی دیوڑا، ملند دیوڑا، جتن پرساد، ولاس راؤ دیش مکھ، ویالار روی، ایس ایم کرشنا، این سی پی کے شرد پوار، پرفل پٹیل، بی جے پی کے صدر نتن گڈکری، سشما سوراج، ارون جیٹلی، رام جیٹھ ملانی، جسونت سنگھ جیسے سینئر لیڈر پارٹی کے دائرے سے اوپر اٹھ کر وجے مالیا کے اشاروں پر سیاسی پیادوں کی طرح ناچ رہے ہیں۔
ان لیڈروں کو، ارب پتی وجے مالیا کے 1134 کروڑ کا سرکاری قرض معاف کرانے اور کرنے کی خاطر ہندوستانی عوام کے حلق سے ان کے حصے کا نوالہ تک چھیننے سے پرہیز نہیں ہے۔ لہٰذا، کنگ فشر ایئر لائنس کو سرکار بیل آؤٹ پیکیج دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ حالانکہ سرکار کی اس فائدہ کی نجکاری اور خسارے کو قومیانے کی عوام مخالف کوشش کی مخالفت راہل بجاج جیسے ممبر پارلیمنٹ اور صنعت کار کر رہے ہیں۔ لیکن کارپوریٹ کی پیٹھ پر سوار سرکار اور اپوزیشن نے اپنی عاشقی اور رنگین مزاجی کے لیے مشہور، چہیتے وجے مالیا کی عیاشیوں کو پروان چڑھانے کے لیے کمر کس لی ہے۔ اور ان سب کے درمیان سب سے مضبوط کڑی کا کام کرنے والا آدمی ہے ’’ستیش اوہری‘‘۔ ستیش اوہری ایک صحافی ہے، جو ایک میگزین نکالتا ہے، جس کا نام ہے ’’بزنس ایٹ زیرو آوَر‘‘۔ شوالک، پنچ شیل، گیتانجلی روڈ، نئی دہلی سے نکلنے والی یہ میگزین آپ کو بازار میں نہیں ملے گی۔ لیکن اس میگزین کے ایڈیٹر، پرنٹر اور پبلشر کے طور پر ستیش اوہری پاور گیلری میں رابطے بناتا اور بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کی دلالی کرتا ہوا ضرور مل جائے گا۔ دلالی بھی ایسی ویسی نہیں۔ بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کی، جس میں وجے مالیا جیسے صنعت کاروں کا نام خاص طور پر شامل ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں جب دلال نیرا راڈیا سے سی بی آئی پوچھ گچھ کر رہی تھی، تب نیرا نے ستیش کا نام تفتیشی اہل کاروں کو بتایا تھا۔ نیرا کے مطابق، ستیش اوہری کو گھوٹالہ اور اس کی جانچ سے متعلق سبھی کارروائیوں کی جانکاری پہلے سے ہی تھی۔ اسی ستیش اوہری نے زمین سے آسمان تک خوابوں کو بیچنے والے وجے مالیا کے لیے بھی کئی وزارتوں اور وزیروں کے درمیان ثالث کا کام کیا ہے۔
ہر سال خوبصورت ماڈلوں کے برہنہ کلینڈر بنوانے میں کروڑوں روپے اڑانے اور عالیشان پارٹیوں پر پانی کی طرح پیسہ بہانے والے اس شخص نے ، اپنے وسائل اور طبعی آرائشوں کی معرفت ہندوستانی سیاست کی اعلیٰ ہستیوں اور حکومت پراتنا مضبوط شکنجہ کس رکھا ہے کہ وہ بڑے غرور کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے کہ کنگ فشر ایئر لائنس کو خسارے سے نکالنا اور اسے منافع کا سودا بنانا حکومت کا کام ہے، اس کا نہیں اور اس کی اس بات پر ہمیشہ خاموش رہنے والے منموہن سنگھ بھی اس بحران سے راستہ نکالنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ حکومت پر چھوٹی سے چھوٹی بات پر دھاوا بولنے کو تیار بیٹھی اپوزیشن پارٹیاں بھی متفق ہو کر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔
مرکزی وزیر جتن پرساد براہ راست وزیر اعظم کی ہدایت میں تمام نیشنل بینکوں کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں تاکہ وجے مالیا کو اس مبینہ بحران سے باہر نکالا جا سکے۔ وزیروں اور بینکوں کی میٹنگوںکا دور شروع ہو گیا ہے، کہ کیسے اربوں کھربوں کے مالک وجے مالیا کی اقتصادی مدد کی جائے ۔ تھوڑے وقت میں اس کے نتائج بھی آنے شروع ہو گئے ہیں، کمپنیوں نے بغیر اپنابقایا وصول کئے ہی تیل کی سپلائی شروع کر دی ہے ۔ جبکہ تیل کمپنیوں کے تقریباً900کروڑ روپے بقایا ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہا ں نہ صرف منموہن سنگھ حکومت قصوروار ہے بلکہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں بھی برابر کی گناہگار ہیں۔ یہ سب مل کر عوام کے پیسے کو ملک کے امیروں میں تقسیم کر کے ملک چلانے کا دھندہ کر رہی ہیں۔ میڈیا اور میٹنگوں کے ذریعہ شگوفہ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ اگر کنگ فشر بند ہو گیا تو ملک پر بے روزگاری کا بوجھ بڑھے گا۔ لیکن حقیقت پر روشنی نہیں ڈالی جا رہی ہے کہ یہ بے روزگاری اس اعداد و شمار کی محض ایک فیصد ہوگی ، جتنی گزشتہ ساڑھے سات سالوں کے منموہن راج میں کسانوں کی بھوک اور قرض کے تلے دب کر خودکشی کی ہے۔
ملک کے لوگوں کی بدقسمتی دیکھئے ، کہ مہاراشٹر کے جس ودربھ علاقہ کے کسان دانے دانے کو ترس رہے ہیں، اسی ریاست کی مرکز میں نمائندگی کرنے والے مراٹھا لیڈر شرد پوار، وجے مالیا کے اوپر اس قدرمہربان ہیں کہ وہ وجے مالیا کے ساتھ تجارت میں بھی پارٹنر ہو گئے ۔ وجے مالیا کی آئی پی ایل ٹیم میں شرد پوار کی 0.5فیصد حصہ داری بھی رہی۔ شرد کے علاوہ جو بڑے سیاسی کارندے وجے مالیا کے پہلو میں پناہ لیے ہوئے ہیں ان میں راجیو شکلا، پرفل پٹیل اور مرلی دیوڑا جیسے لوگوں کا نام سرفہرست ہے۔
2003میں کنگ فشر وجود میںآئی۔ 2006میں یہ لسٹڈ ہوئی۔ تبھی سے وجے مالیا نے ادھار کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ 2008میں تیل کمپنیوں نے پہلی بار پیسہ نہ ادا کرنے کا سوال اٹھایا ، لیکن تب تک اس وقت کے وزیر شہری ہوا بازی اور وجے مالیا کے قریبی پرفل پٹیل نے وجے مالیا کو وزارت شہری ہوا بازی کی مقامی کمیٹی کا ممبر نامزد کر دیا تھا۔ مطلب یہ کہ جن کی پرائیویٹ ایئر لائنس تھی وہی ایئر لائنس کے دھندوں پر نظر رکھنے کے لیے مقرر کر دیے گئے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نہ تو تیل کمپنیوں نے جرأت کی کہ وہ وجے مالیا سے بقایا وصولنے کی بات کریں، نہ ہی ایئر پورٹ اتھارٹی نے فیس وصولنے کی جرأت دکھائی۔ اوپر سے بینکوں نے بھی وجے مالیا کو منھ مانگا لون دینے میں انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ دراصل جب تک پٹیل ہوا بازی وزیر رہے ، تب تک انھوں نے وجے مالیا سے خوب رشتہ داری نبھائی۔ پٹیل کی ہدایت پر کمائی کے تمام روٹ کنگ فشر کو ہی ملتے رہے۔ وجے مالیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے پٹیل نے سرکاری انڈین ایئرلائنس کو تباہ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انڈین ایئر لائنس کی بھی اڑانوں کو گھاٹے والے روٹ پر ڈال دیا گیا اور اس کی اڑانوں کو اس قدر بے قاعدہ کر دیا کہ مسافروں نے اس کی اڑانوں کا استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ پرفل پٹیل نے رہی سہی کسر 111طیاروں کو ایک ساتھ خرید کر پوری کر دی۔ وہ بھی قرض لے کر۔ سی اے جی کی رپورٹ میں بھی پرفل پٹیل کی مدت کار میں ایئر انڈیا میں ہوئی طیاروں کی خرید و فروخت پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ سی اے جی نے واضح طور پر کہا ہے کہ قرض لے کر کی گئی 111طیاروں کی خرید ہی ایئر انڈیا کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔
سی اے جی کے مطابق پرفل پٹیل کے وزیر شہری ہوا بازی رہتے ہوئے اس وقت کے ایئر انڈیا لمیٹڈ نے 50طیاروں کی خرید و فروخت کے لیے بوئنگ اور جنرل الیکٹرک کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ سی اے جی کے مطابق قرض لے کر کل ملا کر 111طیارے خریدے گئے۔ اس سے ایئر انڈیا پر 38,423کروڑ روپے کا قرض ہو گیا۔ یہ خرید و فروخت ایئر انڈیا کی ضرورت سے نہیں، وزارت کے فیصلہ سے متاثر تھی۔ وہیں دوسری طرف پٹیل نے اپنے رشتہ دار وجے مالیا کو بے حد فائدہ کا سودا کرایا۔ وجے مالیا نے پرفل پٹیل کی مدد سے اس وقت کی سب سے سستی مانے جانے والی فلائٹ ایئر ڈکن کے 21جہازوں کے بیڑے کو خریدا اور اسے کنگ فشر ریڈ کے نام سے رن وے پر اتارا۔ اس وقت بھی طیاروں کے ایندھن کی قیمتیں اور ایئر پورٹ سرچارج ہمیشہ 3000کروڑ سے اوپر ہی رہا، لیکن چونکہ پٹیل وزیر تھے تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ وجے مالیا کی طرف انگلی بھی اٹھا دے۔
وجے مالیا فیشن ڈیزائنر رینا ڈھاکا ، مس انڈیا نیہا دھوپیا ، اداکارہ شلپا شیٹی، سمیرا ریڈی ، بی گریڈ اداکارہ پائل روہتگی ، کلائوڈیا سیسل ، ڈمپل کپاڈیا، ایم ٹی وی کی وی جے سوفی چودھری جیسی بے شمار دوشیزائوں اور ریلائنس گروپ کے مالک مکیش امبانی کی بیوی نیتا امبانی سے گہری دوستی کے لیے مشہور ہیں۔ دوستی کے ذریعہ سیاسی گلیاروں میں اپنارسوخ بنانے میں یہ ماہر ہیں اور کسے ذریعہ بنا کر کس کی گردن تک پہنچنا ہے، یہ انہیں بخوبی معلوم ہے۔ مرکزی وزیر مرلی دیوڑاریلائنس کے مالک مکیش امبانی کے پِٹھو مانے جاتے ہیں ۔ مرلی دیوڑا کا کردار بھی وجے مالیا کے اس ادھار کے کھیل میں زبردست رہا۔ مکیش امبانی کی وجہ سے پیٹرولیم منسٹر بنے مرلی دیوڑا نے مکیش کی بیوی نیتا امبانی کی سفارش پر کنگ فشر ایئر لائنس کو 600کروڑ روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچایا۔ دیوڑا کے کہنے پر ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے تمام قاعدے قانون بالائے طاق رکھ کر گھاٹے میں چل رہی وجے مالیا کی کمپنی کو تیل ادھار دے دیا، جس سے حکومت اور کارپوریشن کو ہزاروں کروڑ کا نقصان پہنچا۔ فی الحال سی وی سی اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ راجیو شکلا سے وجے مالیا کی دوستی کی وجہ بھی، مکیش امبانی اور نیتا امبانی ہی ہیں۔ راجیو شکلا، امبانی گروپ کے اخبار ’’آبزرور‘‘ کے ایڈیٹر رہے ہیں اور ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد بھی اس کے ایڈیٹر بنے رہے۔ امبانی گروپ سے ان کی اتنی قربت رہی ہے کہ آج بھی پارلیمنٹ کے ان کے تعارف نامہ میں ان کا تعارف ’’آبزرور‘‘ کے ایڈیٹر کی شکل میں ہی ہے۔
وجے مالیا کے تئیں کچھ ایسا ہی رخ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کا بھی رہا ۔ مالیا کی کمپنی اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں وجود میں آئی۔ اس رشتے کو آج بی جے پی لیڈر اور مالیا ابھی تک نبھا رہے ہیں۔ جب یدیورپا کی حکومت خطرہ میں آئی تو نتن گڈکری کے کہنے پر مالیا،سشما سوراج کے ساتھ کرناٹک میں اپنے پیسے کی طاقت کے ساتھ ڈٹے رہے تو جھارکھنڈ میں بھی ان کا کردار بی جے پی کے حق میں رہا ۔ جب رام جیٹھ ملانی کی راجیہ سبھا سیٹ پھنسی تب مالیا کا پیسہ سر چڑھ کر بولا۔ مالیا اور جیٹھ ملانی دونوں ہی جیتے لیکن مالیا کی جیت کے نتیجے حیران کرنے والے رہے۔ انہیں سبھی پارٹیوں سے ووٹ ملے تھے۔
منموہن حکومت کے ایک با اثر وزیر ناراضگی کے انداز میں کہتے ہیں کہ یہ آزاد معیشت کا دور ہے تو پھرایسے میں پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنی کے خسارے کی تلافی حکومت بیل آئوٹ پیکیج دے کر کیوں کرے۔ دوسری بات یہ کہ وجے مالیا کوئی بھوکے ننگے تاجرتوہیںنہیں، دنیا کے سب سے بڑے شراب تاجروں میں ان کا شمار ہوتا ہے، وہ ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی خرید پر اربوں کھربوں روپے لٹا سکتے ہیں۔ چیئرگرلس کے عیش و آرام اور لیڈروں کی میزبانی میں، نئے سال کی پارٹی میں گووا میں وہ کروڑوں روپے دکھاوے میں خرچ کر سکتے ہیں تو پھر کیوں نہیں وہ اپنا گھاٹا اپنی دوسری کمپنیوں سے پورا کرتے ہیں۔
دراصل، یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جب تک وجے مالیا کے سگے پرفل پٹیل کا راج تھا تب تک مالیا نے خوب عیش کئے، لیکن اب ، جبکہ سی اے جی کے پاس وزارت ہوا بازی سے متعلق بے ضابطگیوں کے کئی معاملے جانچ کے لیے ہیں، تب مالیا پر بھی بقایا ادا کرنے کا دبائو ہے۔ اب ایندھن کی قیمتیں اور ایئر پورٹ سر چارج ہر قیمت پر ہر تین ماہ میں کلیئر کرنے کے فرمان کی انہیں تعمیل کرنی ہی ہوگی۔ ایسی صورت میں ان کے پاس سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ وہ خود کو دیوالیہ قرار دیں اور دین داری سے بچ جائیں۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *