وجے مالیہ کی بادشاہت زوال پذیر

Share Article

کچھ  صنعتکار ایسے ہوتے ہیں جودوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ لوگ ان سے سیکھتے ہیں، لیکن وجے مالیہ کے ساتھ الٹا ہے،وہ جو کرتے ہیں وہ کوئی دوسرا  نہیں کرتا۔ آئی پی ایل کی مثال لے لیں۔ ٹا ٹا اور برلا دونوں آئی پی ایل میں نہیں کودے۔ ایسا نہیں تھا کہ ان کے پاس پیسہ نہیں تھا، لیکن یہ لوگ جانتے تھے کہ آگے چل کر اس میں گھوٹالہ ہونا ہے اور ایسا ہوا بھی۔ ایک اور اہم فرق مالیہ اور دیگر صنعت کاروں میں ہے اور وہ فرق نظریے  کا ہے، سوچ کاہے۔ اے380- طیارے کے بارے میں ایئر دکن نے کہا تھا کہ اگر ہمیں اے 380-مل جاتا ہے تو ہم ان ساری جگہوں پر اسے چلائیں گے جہاں راجدھانی جاتی ہے اور راجدھانی کے کرائے کے برابر ہی کرائے پر۔ دوسری جانب کنگ فشر نے کہا تھا کہ ہم اے 380-طیارے میں نائٹ کلب چلائیں گے۔ ہم اے 380-طیارہ چلاکر انڈیا کو فخر کا احساس کرائیں گے۔38 ہزار فٹ کی اونچائی پر لوگوں کوکھانا کھلائیں گے، لیکن کنگ فشر کو اے 380- طیارہ اڑانے کا موقع ملا ہی نہیں۔ یہی ان دونوں کمپنیوں کے نظریہ میں فرق تھا۔ باوجود اس کے 59ممالک میں مالیہ کی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ یوروپ کے تقریباً تمام ممالک میں فیکٹریاں ہیں، ہیڈ کوارٹرہیں۔ صرف سوئٹزرلینڈ میں ہی ان کی 4-5کمپنیاں ہیں۔ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ مالیہ تو سچ مچ بادشاہ ہیں۔ ان کی کمپنیاں منافع کمانے کی مشین ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ان کی کمپنی ایک ایک کرکے خسارے میں جارہی ہے۔ ان کا مینجمنٹ ناکام ہوتا جارہا ہے۔ جو کچھ اچھا دکھائی دے رہا ہے، وہ سب بھرم سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ کنگ فشر نقصان میں چل رہی ہے۔ آئر لینڈ کی ایک کمپنی خریدنے کے چکر میں مالیہ نے اپنے پیروں پر کلہاڑی مارلی۔
آخر مالیہ کے کاروبار کے بکھرنے کی کہانی کیاہے؟ یہ سمجھنے کے لئے سب سے پہلے کنگ فشر کے مالک وجے مالیہ کی شخصیت کو جاننا اور سمجھنا ہوگا۔ مالیہ کے والد وٹھل مالیہ بنگلور کے بہت بڑے بزنس مین تھے۔ بنگلور اس زمانے میں چھوٹاسا شہر تھا۔ وٹھل کا شراب کا کارو بار تھا۔ ان پر اندراگاندھی نے کچھ چارج لگائے تھے، جس کے بعد ان کا پورا کنبہ لندن شفٹ ہوگیا ۔وہ انڈیا کے باشندے نہیں تھے ۔ انہوں نے دوسرے ممالک کی بھی شہریت لے رکھی تھی ، جیسے نیدر لینڈ، آئر لینڈ اور یوکے۔
لندن میں ایک کمپنی ہے ورجن کمپنی جس کا مالک ہے رچرڈ بریڈسن۔ اسی کا دیسی ایڈیشن ہے وجے مالیہ۔ بریڈسن کا کام ہے فلائنگ ، ہائی لائف دکھانا اور ایسے بزنس میں شامل ہونا جو اونچے درجے کے ہیں۔ بریڈسن ایئر لائنز میں گلیمر لانے والے آدمی ہیں۔ مالیہ نے بھی ان کی نقل کرتے ہوئے کنگ فشر ایئر لائنز جب شروع کی تو ماڈل نظر آنے والی ایئر ہوسٹس کی لائن لگادی۔بریڈسن کی دلچسپی میڈیا کے شعبہ میں تھی ہے۔ ان کی ٹی وی کمپنی ہے۔ لہٰذا مالیہ نے بھی ایک قومی میڈیا ہاؤس میں سرمایہ کاری کی۔ لائف اسٹائل سے جڑے پروگرام دکھانے والے چینل پر اکثر اوقات مالیہ خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ چھائے رہتے ہیں۔ بریڈ سن ، انگلینڈ کی سیاست میں بھی ہاتھ آزما چکے ہیں۔ ایک وقت بریڈسن نے لندن کے میئر پوسٹ کے لئے اپنی دعویداری بھی پیش کی تھی۔ مالیہ بھی پیسوں کے بنیاد پر پچھلے دروازے سے راجیہ سبھا میں پہنچ چکے ہیں۔ مالیہ صرف ورجن کے مالک کی نقل کررہے ہیں۔ بگھی پر کھڑے ہوکر فوٹو کھنچوانا، لڑکیوں کو لے کر گھومنا اور اپنے سامنے لڑکیوں کے سوئم سوٹ میں کیلنڈرشوٹ کروانا جیسے کام۔ پھر بھی ان دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ بریڈ سن نے سارے کام خود کے پیسے سے کیے۔ مالیہ نے ان کی نقل تو کرلی لیکن کوئی ٹھوس بنیاد ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ پوری عیاشی اپنے والد کے پیسوں سے کررہے تھے۔ مالیہ صرف دوسروں کے آئیڈیے پر کام کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے ایسے تمام کاموں کا نتیجہ ناکامی کی شکل میں نکلا۔ صرف ایک ہی کاروبار ان کا چل رہا ہے۔ وہ بھی ان کے والد کا بنایا ہواہے۔ ان کااپنا بنایا ہوا ایک بھی کاروبار نہیں چلا۔ یہ ریکارڈ ہے۔ ایئر لائنس بیٹھ گئی۔ بنگلور میں پراپرٹی کا کام شروع کیا۔ علاوہ ازیں تیسرا کام کوئی نظرہی نہیں آیا ۔شراب کا بزنس ان کے والد کا تھا۔
جب سستے کرایے کی ایئر لائنس کا زمانہ آیا تو سب سے پہلے ایئر دکن ایئر لائنس آئی، جیٹ آئی، اسپائس آئی۔آخر میں کنگ فشر آئی، لیکن یہ سستے کرایے کی ایئر لائنس نہیں تھی۔یہ لگژری ہائی کلاس ایئر لائن تھی۔ انھوں نے ایئر لائن کی شروعات کی ۔ اس سیکٹر میں سب کچھ لیز کا ہوتا ہے۔ ایئر لائن میں سوائے برانڈنگ کے، کمپنی کا کچھ نہیں ہوتا ہے۔طیارے بھی لیز پر ملتے ہیں۔ ایئر پورٹ پر جگہ مل جاتی ہے،وہ بھی لیز پر ہوتی ہے۔آپ ادائیگی کرتے رہیںگے، وہ چلتا رہے گا۔پائلٹ اور ایئر ہوسٹس کو تنخواہ دیتے رہو وہ اڑاتے رہیں گے۔مالیہ اس انڈسٹری کا ماڈل سمجھے یا نہیں سمجھے لیکن بریڈسن کی نقل کرتے ہوئے اس سیکٹر میں کود گئے۔
جب سے انھوں نے خود کی ایئر لائنس کنگ فشر شروع کی تو شروع میں کافی شور شرابہ ہوا۔ پائلٹ کی بھرتی میں انہوں نے دلچسپی نہیں دکھائی، لیکن ایئر ہوسٹس کی بھرتی انہوں نے خود کی۔ سب ماڈل جیسی ایئر ہوسٹیس تھیں۔ یہ بہت بڑی بے وقوفی تھی۔ ایئر بس  لیزنگ کمپنی ہے، جو طیارے لیز پر دیتی ہے۔ کنگ فشر نے اس کمپنی سے لیز پر اے320-اور اے 321-لئے تھے۔ اے ٹی آر لئے۔ غیر ملکی پائلٹ لئے۔ایگریمنٹ میں ایک شرط یہ بھی  ہے کہ لیز کے آخر میں آپ کو ایئر کرافٹ اسی جگہ واپس کرنے ہوں گے جہاں سے لئے گئے تھے۔یعنی لندن میں اور اسی حالت میں جیسے کہ اس وقت تھے، لیکن دس سال طیارہ چلانے کے بعد اسی جگہ پر ،اسی حالت میں واپس کرنا ممکن نہیں ہے۔مالیہ نے اے ٹی آر (پلین) لئے جو انڈیا میں اڑنے لائق نہیں ہیں۔ غیر ملکی پائلٹ کیوںلئے، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔غیرملکی پائلٹوں کی پریشانی یہ ہے کہ ایک ماہ جہاز اڑاتے ہیں پھر انہیں 15دن کی چھٹی چاہئے۔ اس وجہ سے کم جہاز  اڑانے کے لئے زیادہ پائلٹوں کی ضرورت تھی۔ ایئر لائن کیسے چلے گی،خدا ہی بہتر جانے۔اسی دور میں مالیہ نے ایک اور ایئر لائنس کمپنی خریدی۔ ایئر دکن یہ کیپٹن گوپی ناتھ کی کمپنی تھی۔ انھوں نے بھی سب لیز پر لیا تھا۔ شروعات کے اچھے وقت کا انھوں نے فائدہ اٹھایا۔ جب برا وقت آیا تو کمپنی فروخت کر کے چلے گئے۔ایئر دکن کو30جون 2007 تک 419کروڑ اور کنگ فشر کو 577کروڑ کا نقصان ہو چکا تھا ،پھر بھی خسارہ میں چل رہی ایئر دکن کو مالیہ نے 750کروڑ میں خرید لیا۔یہاں بھی مالیہ نے گوپی ناتھ کے ساتھ بے ایمانی کی۔ آخر میں 200کروڑ روپے نہیں دئے۔مرتا کیا نہ کرتا۔ حالانکہ ، کمپنی کو خریدتے وقت بھی دونوں کمپنیاں بھاری نقصان میں چل رہی تھیں۔ایئر دکن کے پاس بھی ایئر بس تھی،اے ٹی آر جہاز تھے۔ ایئردکن میں انڈین پائلٹ تھے، اس کے ٹکٹ انٹر نیٹ پربک ہوتے تھے۔ کنگ فشرکا پورا نظام ہی الگ تھا۔ ایئر دکن کو خریدنے سے مالیہ کے پاس زیادہ انفراسٹرکچر آ گیا۔ ایئر دکن کا ایئر پورٹ اتھارٹی سے معاہدہ بہت اچھا تھا، لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کی عقل تو مالیہ کے پاس نہیں تھی۔ اس کے برعکس اس کو سنبھالنے کی ذمہ داری بڑھ گئی۔اس کے علاوہ آرگنائزیشن میں ملازمین کے درمیان بے چینی اور تذبذب تھا کیوںکہ ایئردکن میں ایئر ہوسٹس کی تنخواہ 8ہزار روپے تھی۔جب کہ کنگ فشر میں ایئرہوٹس کی تنخواہ40ہزار روپے۔کیا ہوگا،کسے کہاں بھیجا جائے گا۔انتظام کیسے ہوگا؟ اس سب کو لے کر ملازمین میں بے اطمینانی تھی۔ اس پر مالیہ نے ایک اور بے وقوفی کی۔ انھوں نے 100اے ٹی آر پائلٹوں کو ٹریننگ پر بھیج دیا۔ٹریننگ کر کے واپس آئے تو ان پائلٹوں کے پاس اڑانے کے لیے طیارے ہی نہیں تھے، کیوںکہ پہلے سے ہی کنگ فشر کے پاس زیادہ پائلٹ تھے۔ اب گھر بیٹھے ان پائلٹوں کو 20ہزار روپے مہینہ تنخواہ دینی پڑ رہی ہے،لیکن مالیہ نے اس مشکل کا بھی کوئی حل نہیں نکالاہے۔ نتیجتاً پریشانیاں سلجھنے کی بجائے بڑھتی گئیں۔
مالیہ کے لیے ایک اہم پریشانی کا سبب پٹرولنگ کرائسس بنا۔ اے ٹی ایف چارج بڑھنے لگا، چونکہ ہر کمپنی کا کریڈٹ رہتا ہے، وہ ادا کرتی رہتی ہیںتو ایندھن ملتا رہتا ہے۔ مالیہ کے پاس پیسے کم ہوتے گئے۔ تمام کمپنیوں نے ان کا کریڈٹ بند کر دیا۔ تب ان کے دوست ان کی مدد کے لیے آگے آئے۔ مرلی دیوڑا اور پرفل پٹیل نے میٹنگ کی اور یہ فیصلہ لیا کہ مالیہ کی تینوں کمپنیوں کو ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا، آئی او سی ایل اور بی پی سی ایل سے ’کیش ان کریڈٹ‘ پر سہولت دلائی جائے۔ آج مالیہ کا ان تینوں کمپنیوں سے کیش ان کریڈٹ ہے۔ یہاں بھی مالیہ پر ادھار چل رہا ہے۔ کیش ان کریڈٹ پر ہی سب چل رہا ہے۔ کمپنی کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہونے کے بعد بھی مالیہ نے خود کے لیے اے 319طیارہ لے لیا۔ ظاہر ہے اس کا خرچ بھی ان کی کمپنی ہی اٹھاتی ہوگی۔ پرائیویٹ طیارے سے متعلق ڈی جی سی اے نے کئی بار انہیں نوٹس بھیجے، لیکن مالیہ نے کبھی جواب نہیں دیا اور دیتے بھی کیوں؟ مالیہ خود ممبرآف پارلیمنٹ ہیں، وزیر ان کی جیب میں ہیں۔ ایک ہی وزیر، پرفل پٹیل 8سال سے ہیں۔
ایئر لائنس کے دن بہ دن خسارے میں جانے پر بھی مالیہ نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ دنیا کو اپنی بادشاہت دکھانے کے لیے مالیہ نے ایک اور کمپنی خریدی آئرلینڈ کی جان میکن۔ یہ کمپنی اسکاچ بناتی ہے۔ بولی (بیڈنگ پروسس) کے ذریعہ مالیہ نے یہ کمپنی خریدی تھی۔ اس کمپنی کے سی ایف او، جان بیگیرو نے بیڈنگ میں ایک بہت ہی اہم شرط رکھ دی تھی۔ شرط کے مطابق اس کمپنی میں جو بھی پیسہ آئے گا وہ واپس نہیں جائے گا۔ مالیہ نے ہر جگہ سے پیسہ نکال کر کسی طرح سے وہ کمپنی خرید تو لی، لیکن اس سے مالیہ کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ دراصل مالیہ کی یہ پرانی عادت رہی ہے۔ دکھاوے کے لیے وہ ہمیشہ اونچے داموں پر کمپنیوں کو خریدتے رہے ہیں۔ یہاں پر ’سہارا‘ کی بات کی جاسکتی ہے۔ نریش اگروال کی کمپنی نے سہارا ایئرلائنس کی قیمت کم کر کے اسے خریدنے کی کوشش کی، جب کہ مالیہ نے ایئر دکن کو زیادہ پیسہ دے کر خریدا۔دراصل مالیہ نقل کے سوائے کچھ نہیں کر سکتے۔ انتظامیہ کے معاملے میں یہ ہمیشہ پھسڈی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا انتظام ایسا رہا کہ شروع سے ہی کنگ فشر کو خسارہ ہوتا رہا۔ آج حالت یہ ہے کہ اس کمپنی کو بند کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا ہے۔ اس کمپنی کو فائدہ نہیں ہوا ہے۔ یہ کمپنی کبھی بھی بند ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *