ودیا خوش قسمت ہیں

یہ تو ماننا پڑے گا کہ فلم کے لیے جتنی محنت اداکار کرتے ہیں اتنی ہی محنت فلم ساز بھی کرتے ہیں۔ اپنی آنے والی فلم میں ایک خاص طرح کے کردار میں نظر آنے والی ودیا بالن کے لیے اس سے بہتر کیا ہوگا کہ ایکتا کپور نے اپنی فلم ڈرٹی پکچرس کے سیٹ پر موبائل فون بین کردیے۔ ایسا اس لیے کہ پچھلے دنوں اس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ کرن جوہر کی فلم اگنی پتھ کے کئی کریکٹرس کے رول لیک ہو گئے تھے۔ کرن کے ساتھ ہوئے اس واقعہ کے بعد ایکتا کپور پہلے ہی محتاط ہوگئی ہیں اور تبھی انہوں نے اپنی فلم ڈرٹی پکچر کے سیٹ پر موبائل فون بین کر دیے ہیں، تاکہ فلم کے کریکٹر کا رول پراپر طریقے سے ریلیز کیا جاسکے۔ فلم کی کہانی 80 کی دہائی کی آئٹم گرل سلک اسمتا پر بیسڈ ہے۔ اس فلم میں ودیا بالن، نصیرالدین شاہ، عمران ہاشمی اور تشار کپور کام کر رہے ہیں۔ فلم کے لیے سبھی کریکٹرس کو مختلف لک دیے گئے ہیں۔ ایکتا نہیں چاہتی ہیں کہ ان کے کسی کاسٹ ممبر کا لک لیک ہو۔ اس لیے انہوں نے اپنی کاسٹ کو موبائل گھر پر چھوڑ کر آنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ تشار ایک جد و جہد کرنے والے رائٹر کا رول کر رہے ہیں، جب کہ نصیر 80 کی دہائی میں بچوں کی فلموں میں کام کرنے والے ایکٹر بنے ہیں۔ یہ پہلی فلم ہے، جو ساؤتھ فلم انڈسٹری پر بیسڈ ہے۔ اس فلم میں میل کریکٹر کو ہاٹ لک نہیں دیا گیا۔ نصیر فلم میں وگ پہنے نظر آئیںگے، لیکن ودیا فلم میں مختلف اسٹائل کی ڈریسز میں نظر آرہی ہیں۔ فلم میں ودیا کے تین سے چار لکس ہیں۔ تو کیا فلم میں ودیا عریاں ڈریسز میں ہوںگی، کیوں کہ ہواؤں میں کچھ ایسی ہی خبریں سننے کو مل رہی تھیں، لیکن فلم میکرس کی مانیں تو یہ صرف کمرشیل فلم ہے۔ دراصل 80 کی دہائی میں فلم انڈسٹری میں کچھ تبدیلی آئی تھی جس کا سیلیبریشن اس فلم میں دکھایا جارہا ہے۔ ودیا تو خوش قسمت ہی ہیں، کیوں کہ ایکتا جیسی سیریس اور کیرئرنگ فلم میکر کے ساتھ کام کرنے کا موقع جو انہیں ملا ہے۔
سناکشی کی سادگی
شادی کے حوالے سے انڈسٹری میں یوں کوئی کھل کر بولتا نہیں ہے۔ یہ تو سوناکشی ہی ہیں جن کی زبان پر بس وہی ہوتا ہے، جو دل میں ہوتا ہے۔ اپنی شادی کے حوالے سے بھی سوناکشی نے اپنی خواہش اور شرطظاہر کر دی ہے۔ اگر آپ کی لمبائی سوناکشی سنہا سے زیادہ ہے، آپ کے سینس آف ہیومر کی سبھی تعریف کرتے ہوں اور آپ کی انٹیلی جنسی سوناکشی کو متاثر کرتی ہے تو دبنگ گرل سوناکشی کا دل آپ جیت سکتے ہیں۔ مرد کی یہ خاصیتیں سوناکشی نے تب بتائیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسا شوہر چاہیںگی؟ انہوں نے فوراً بتا دیا کہ اگر کسی شخص کی ان خوبیوں نے انہیں متاثر کر دیا تو وہ اس کو دل دے سکتی ہیں۔ اس بات کا آپ یہ مطلب بھی نکال سکتے ہیں کہ سوناکشی کو لو میرج پر یقین ہے۔ زیادہ تر لوگ مانتے ہیں کہ شتروگھن سنہا اپنی بیٹی کے لیے دولہا تلاش کریںگے اور جس سے کہیںگے سوناکشی شادی کر لیںگی، لیکن ایسا نہیں ہے۔ سوناکشی ٹھہریں آج کی لڑکی، ارینج میرج جیسی پرانی باتوں پر انہیں یقین نہیں ہے۔ پہلے لڑکے کو دیکھ پرکھ لو پھر شادی کرو۔ سوناکشی بھی اس کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لو میرج کروںگی۔ شادی ناکام رہی تو پورا جرم میرا ہی رہے گا۔ ویسے سوناکشی سنہا ان دنوں شوٹنگ میں خاصی مصروف ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں لیٹ نائٹ شفٹ میں بھی کام کرنا پڑ رہا ہے، لیکن سوناکشی نے اس میں بھی اپنے لیے ایک سہولت ڈھونڈ لی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ سیٹ پر اکثر انہیں صبح ہوجاتی ہے۔ ایسے میں وہ آسمان میں چاند کی موجودگی میں اگتے ہوئے سورج کی ڈھیروں تصاویر کھینچتی ہیں۔ا س بارے میں پوچھنے پر وہ بے حد معصومیت کے ساتھ جواب دیتی ہیں۔ عیش و آرام سے بھر پور زندگی میں اتنی صبح اٹھنے کا موقع کبھی ملا نہیں۔ اب جب شوٹنگ کے سبب صبح ہوتی ہے، تو میں ان لمحوں کو اپنے کیمرے میں قید کر کے ہمیشہ کے لیے رکھ لینا چاہتی ہوں، جنہیں میں نے اب تک مس کیا ہے۔
کرینہ کی غلطی
بالی ووڈ کے تمام اسٹارس کا یہ خواب ہے کہ ان کا اسٹیچو لندن کے مشہور میڈم تساد میوزیم میں رکھا جائے۔ یہاں تک کہ اس بات پر تو کئی اسٹارس کے بیچ کئی اختلافات بھی ہوچکے ہیں۔ کرینہ کپور نے ایک گولڈن چانس کھو دیا ہے۔ بات کسی فلم کی نہیں ہے، بلکہ ان کے اسٹیچو کو لندن کے تساد میوزیم میں رکھے جانے کی ہے، لیکن اب بیبو کا ویکس اسٹیچو نہیں لگے گا۔ حالانکہ ان کی جگہ اب کسی اور بالی ووڈ ایکٹریس کو موقع مل سکتا ہے۔ ویسے اگر ایسا ہو جاتا تو بیبو پر کپور خاندان اور انڈسٹری کے ساتھ ان کے مداحوں کو بھی فخر ہوتا۔ میڈم تساد میوزیم میں کرینہ کپور کا موم والا اسٹیچو لگنے کی بات ہو رہی تھی، اس کی پلاننگ اب تو رد ہوگئی ہے۔ دراصل کرینہ کے منیجر اور اوینٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان اختلاف ہوگیا ہے۔ اب پتہ نہیں کہ اس کے بعد کرینہ کا موم میں ڈھلنے کا خواب پورا ہوگا بھی یا نہیں۔ ویسے تو اوینٹ مینجمنٹ کمپنی کے تساد میوزیم کے آفیشیلس سے اچھے ریلیشن ہیں۔ امیتابھ بچن کا پتلا لگوانے کا کریڈٹ بھی اسی کمپنی کو جاتا ہے۔ اس کے بعد سے میوزیم کے آفشیلس کسی بالی ووڈ سلیبریٹی کا پتلہ لگانے سے پہلے اس کمپنی سے ضرور بات کرتے ہیں۔ نئی بالی ووڈ سلیبریٹی کی تلاش میں میوزیم والوں نے پرینکا چوپڑا، کٹرینا کیف، مادھوری دیکشت، رانی مکھرجی اور کرینہ کپور میں سے پچھلے دنوں کرینہ کا نام فائنل کیا تھا۔ غلطی تو پوری طرح بیبو کی ہی ہے، لیکن یہ کپور بیٹی اپنی غلطی کبھی نہیں مانتی ۔ ان کے نشانے پر بلاوجہ مدھر بھنڈارکر اور ایشوریہ رائے آ گئے ہیں۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ہیروئن نامی فلم کرینہ کپور کو لے کر مدھر بھنڈارکر بنانا چاہتے تھے۔ کرینہ نے شرطوں کا اتنا بڑا پہاڑ لاد دیا کہ جب بوجھ اٹھانا مدھر کے لیے ناممکن ہوگیا تو انہوں نے کرینہ سے پیچھا چھڑایا اور ایشوریہ رائے کو راضی کر لیا۔ کرینہ نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مدھر ایسا بھی کر سکتے ہیں۔ مدھر سے تو کرینہ ناراض ہیں ہی، ایشوریہ پر بھی وہ بھڑکی ہوئی ہیں۔ بالی ووڈ میں ایک غیراعلان شدہ قانون ہے، جس کے مطابق کسی اداکار کو ہٹا کر اگر دوسرے اداکار کو لیا جاتا ہے تو فلم سائن کرنے کے پہلے دونوں اداکاروں کی بات چیت ہو جاتی ہے، لیکن ایشوریہ نے ایسا شائد اس لیے نہیں کیا، کیوں کہ کرینہ نے فلم سائن نہیں کیے تھے۔ ان سے مدھر کی بات چیت چل رہی تھی، لیکن بیبو کی نظر میں یہ بھی غلط ہے۔ ویسے بھی مدھر کی فلموں میں ہیروئنوں کے رول دمدار ہوتے ہیں۔ روینہ ٹنڈن جیسی عام ادکارہ بھی ان کی فلم میں کام کر کے بڑے انعام اپنے نام کر چکی ہیں۔ ایسے میں کرینہ کے ہاتھ سے فلم کا پھسل جانا انہیں کتنا ستا رہا ہوگا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
امیشا کا مفاد
کافی دنوں سے امیشا غائب سی ہو گئی تھیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گلیمر کی گلیوں کو بھول گئی ہیں یا اس انڈسٹری سے آؤٹ ہو گئی ہیں۔ ان کی کچھ نہ کچھ خبریں آئے دن سننے کو مل ہی جاتی ہیں۔ا میشا پٹیل اکثر کہتی ہیں کہ جذبات کا ان کی زندگی میں کوئی رول نہیں ہے، لیکن اس ہاٹ ہیروئن کے موجودہ رویے کو دیکھ کر تو ایسا قطعی نہیں لگتا ہے۔ غور طلب ہے کہ امیشا نے گزشتہ دنوں اپنا پروڈکشن ہاؤس اناؤنس کیا تھا۔ اب خبر ہے کہ وہ پرانے لور اور فلم میکر وکرم بھٹ کو اپنے پروڈکشن ہاؤس کے بورڈ میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔ امیشا کہتی ہیں کہ ان کے پروڈکشن ہاؤس کے بورڈ میں پہلے ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون تھے، لیکن اب وہ وکرم بھٹ کو بھی اس میں رکھنا چاہتی ہیں، کیوں کہ ان کی فلمیں واقعی پیسہ وصول ہوتی ہیں۔ وہیں وکرم بھٹ کو بھی یہ آئیڈیا برا نہیں لگا۔ حالانکہ ایک وقت میں امیشا اور وکرم لور تھے اور ان کا بریک اپ کافی خراب صورت حال میں ہوا تھا۔ پھر بھی دونوں کے من میں کوئی کھٹاس نہیں ہے، جو ہوا جب ہوا جیسے بھی ہوا، وہ ہو گیا بس، لائف آگے بڑھنے کا نام ہے۔ امیشا کے پروڈکشن ہاؤس کو جوائن کرنے اور نہ کرنے پر وکرم کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہے، کیوں کہ ان کا بھی ماننا ہے کہ یہ بزنس ہے۔ وکرم کہتے ہیں کہ جب وہ اجنبیوں کے لیے فلم بنا سکتے ہیں، تو پھر امیشا کے لیے کیوں نہیں، جو کبھی ان کی اچھی دوست ہوا کرتی تھیں۔ حالانکہ ان کی بھی اپنی فلم کمپنی ہے اور دوسرے کمٹمنٹس بھی، لیکن پھر بھی کچھ وجوہات سے تو وہ دوستوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ا س کے ساتھ ہی وکرم نے یہ بھی کہہ دیا کہ صرف پرانی دوستی کی وجہ سے ہی کسی کے ساتھ فلم نہیں بنائی جاسکتی۔ وکرم کو لگتا ہے کہ آج کل فلم میکنگ بہت ہی ایکسپینسیو ہوگئی ہے۔ ایسے میں آپ کسی کے لیے صرف اس لیے فلم نہیں بنا سکتے کہ آپ اسے پہلے سے جانتے ہیں۔ بھلے ہی وکرم کچھ بھی کہیں، لیکن ان کی باتوں سے ایسا تو لگتا ہی ہے کہ وہ امیشا کی دعوت کا انتظار کر رہے ہیں۔ تبھی انہوں نے باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ اگر امیشا انہیں اپنی کمپنی جوائن کرنے کا کوئی انوٹیشن دیتی ہیں، تو وہ ضرور شامل ہونا چاہیںگے، کیوں کہ ان کے پاس منع کرنے کا کوئی ریزن نہیں ہے۔ تو ہم انتظار کر سکتے ہیں کہ وکرم اور امیشا پھر ایک ساتھ نظر آئیںگے۔ بالی ووڈ میں لو، سیکس، دھوکہ اور ملنا بچھڑنا تو لگا ہی رہتا ہے۔ یہاں کب، کیا ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اب گلیمر ڈال امیشا پٹیل پر ہی نظر ڈال لیں۔ پہلے ڈائریکٹر اور پریمی وکرم بھٹ سے علیحدگی ہوئی، پھر فلموں کے آفر ملنے بند ہوگئے، پھر پروڈکشن ہاؤس کھولا اور اب اسے چلانے کے لیے واپس وکرم سے دوستی کی کوشش کر رہی ہیں۔ پہلے تو بالی ووڈ کے گلیارے میں تذکرہ تھا کہ امیشا نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کی پارٹی میں وکرم کو بلایا تک نہیں اور اب چاہتی ہیں کہ وکرم ان کے پروڈکشن ہاؤس کے لیے فلم ڈائریکٹ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *