یونیورسٹی نئی بلندیوں کی جانب گامزن: وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر

Share Article

 

جامعہ کے اے جے کے ایم سی آر سی میں سابق طلباء کو مبارکباد، نئے طلباء کا خیرمقدم

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اے جے کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سنٹر کے دو سابق طلباء سوہانی کنور،اسکرین رائٹر اور نیٹ فلکس لیلی کی شریک قلم کار، اور صحافی، مصنف و دستاویزی فلم ساز، نتاشا بدھاور کو آج ایک تقریب میںان کے کام کو مد نظر رکھتے ہوئے سراہا گیا وہیں نئے طلباء کا طلباء کا خیر مقدم کیا گیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں دونوں کو توصیفی اسناد اور مومنٹو پیش بھی کیا۔اس موقع پر امریکہ کی ہوفسٹرا یونیورسٹی سے آنے والے فل برائٹ اسکالر پروفیسر آسیش کمار کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ وہ اس وقت اے جے کے ایم سی آر سی میں نئے نصاب کی تیاری اور میڈیا لیب کے قیام میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔

اس موقع پر پروفیسر نجمہ اختر نے نئے آنے والے طلباء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انہیں خوش ہونا چاہئے کہ انہیں ملک کے ایک بہترین میڈیا ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تعلیمی بلندیوں کی طرف مستقل گامزن ہے اور اس کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے معزز وزیر اعظم، جناب نریندر مودی سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا، انھوں نے کہا وزیر اعظم نے یونیورسٹی کے طلباء اور تدریسی عملے کی تعریف کی ہے، یہ ملک کے سب سے بڑے قائد کی طرف سے آنے والی ایک بہت بڑی تعریف ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔انہوں نے کہابہت سے لوگ یونیورسٹی میں داخلے کی خواہش مند ہوتے ہیں اور آپ منتخب ہونے والے ان چند افراد میں سے ہیں جنھیں یہاں داخلہ ملا ہے، اس کے لئے آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔وائس چانسلر نے طلباء کو نوجوان دوست کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اے جے کے ایم سی آر سی میں اپنے وقت کا بہترین استعمال اپنی تعلیم پر مرکوز کرتے ہوئے کریں اور اپنے والدین اور یونیورسٹی دونوں کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

پروفیسر اختر نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلباء کی جسمانی اور فکری ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ اگر ان کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ فوری طور پر ذمہ داران کو اس سے آگاہ کریں تاکہ بر وقت اس کا حل تلاش کیا جا سکے۔وائس چانسلر نے کہا،صنفی بھید بھاو اور جنسی ہراسانی کے خلاف ہمارے پاس صفر رواداری کی پالیسی ہے، انھوں نے کہا کہ تمام طلبہ خصوصا طالبات کو کیمپس میں آزادی کے احساس سے لطف اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرنا چاہئے۔انہوں نے میڈیا، ادب اور تعلیم کے شعبوں میں ممتاز کارناموں پر کنور اور بدھاور کو بھی مبارکباد پیش کی اور طلباء کوان جیسے افراد کو مشعل راہ بنانے کی بات کہی۔

کنور اور بدھاور دونوں نے اے جے کے ایم سی آر سی کے سابق طلباء کی حیثیت سے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا اور کہا کہ انھوں نے یونیورسٹی میں جو علم اور تربیت حاصل کی تھی وہ ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی میںبہت کام آیا۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اساتذہ اور فیکلٹی کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں یہی چیزیں میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد ان کی مدد کریںگی۔کنور نے اے جے کے ایم سی آر سی سے 2004 میں پڑھائی مکمل کی تھی، انہوں نے راگنی ایم ایم ایس 2 اور لپ اسٹک انڈر مائی بر قع جیسی سنیما اور ٹیلیویژن فلموں میں کام کیا ہے۔بدھوار نے 1995 میں ماس کمیونیکیشن میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی، وہ ایک میڈیا پریکٹیشنر اور مصنف ہیں ،انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز این ڈی ٹی وی سے کیا تھا، جہاں وہ پہلی خواتین کیمرہ کاروں میں سے ایک تھیں۔ وہ ایک مشہور کالم نویس اور مصنف بھی ہیں، ْمائی ڈاوٹرس ممٗ اور ْ اممورٹل فا ر اَ مومنٹ ٗ جیسی کتابیں لکھی ہیں۔ فی الحال، وہ کاروان محبت میڈیا میں ڈائریکٹر ہیں، جو ایک قومی مہم ہے ، اس کا مقصد نفرت انگیز جرائم اور بڑے پیمانے پر سیاست سے متاثرہ افراد کی حمایت کرنا ہے۔

اس سے قبل وائس چانسلر کا خیرمقدم اے جے کے ایم سی آر سی کے ایکٹنگ ڈائریکٹر پروفیسر شوہنی گھوش نے کیا۔ اس تقریب میں دیگر افراد کے درمیان اے جے کے ایم سی آر سی کے فیکلٹی ممبران عملہ کے ساتھ ساتھ اسٹوڈنٹس ویلفیئر کی ڈین سیمی فرحت بصیر نے بھی شرکت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *