وسندھرا راجے فرسٹ کلاس والی، ہم اکونامی کلاس والے : گہلوت

Share Article

 

وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بدھ کے روز ایک ہی جہاز میں سفر کرنے کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سے ملاقات نہیں ہونے پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ وسندھرا راجے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے والی شخص ہیں اور وہ (اشوک گہلوت) اکونامی کلاس والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ایئر پورٹ پہنچے، تبھی انہیں پتہ چلا کہ جس جہاز میں وہ جا رہے ہیں اسی میں وسندھرارجے بھی سفر کریں گی۔ لیکن، ان کا ٹکٹ اکونامی کلاس کا تھا، تاکہ وہ ان سے مل نہیں پائے۔ انہوں نے صاف کیا کہ طیارے میں فرسٹ کلاس والوں کو پہلے داخلہ دیا جاتا ہیں، جبکہ انہیں نکالا بھی پہلے جاتا ہے۔

 

گہلوت اور وسندھرا راجے بدھ کے روز ایئر انڈیا کی ایک ہی فلائٹ سے جے پور پہنچے۔ ہوائی اڈے پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ میڈم فرسٹ کلاس میں بیٹھی تھیں۔ وہ پیچھے اکو نامی کلاس میں بیٹھے تھے۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ آگے بیٹھی ہیں۔ اگر پتہ ہوتا تو ان سے بات ضرور کرتے۔

 

لوک سبھا انتخابات سے جڑے سوالوں پر گہلوت بولے کہ پورے انتخابات کا پولرائزیشن کرنے کی کوشش کی گئی۔بغیر ایجنڈا لڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات بہت اہم ہیں۔ سپریم کورٹ مان چکا ہے کہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے اورای وی ایم کو لے کر شک بھی ہے۔ اسی لئے تو ای وی ایم کے ساتھ وی وی پیٹ جوڑی گئیں۔ سولہ ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی اگر ان پر شک پیدا ہوتا ہے تو یہ مشینیں بیکار ہیں۔ سی ایم نے کہا کہ پہلے امریکہ، انگلینڈ میں بھی ای وی ایم سے انتخابات ہوئے تھے، لیکن وہاں بھی ای وی ایم ہٹا دی گئی۔ بہت ساری شکایتیں آ رہی ہیں۔ اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں ای وی ایم کی سیکورٹی ہونا چاہئے۔ وی ویپیٹ کی گنتی ہونی چاہئے۔

 

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ کیدارناتھ اور بدری ناتھ جائو۔ دھیان میں بیٹھ جاؤ۔ الیکشن کمیشن آنکھ بند کر دیکھتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں دھیان کر کے ووٹوں کے پولرائزیشن کوشش کر کامیاب نہیں ہو پائے گی ۔ بی جے پی اور پی ایم نے ان انتخابات میں مسائل پر مبنی سیاست نہیں کی، لیکن راہل گاندھی نے مسائل پر مبنی سیاست کی ہے۔ جودھپور سے ویبھوگہلوت کی جیت کے سوال پر گہلوت نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ قابل قبول ہو گا، عوام کا جو بھی مینڈیٹ ہوگاوہ ہم عاجزی سے قبول کریں گے اور ہر سیاسی پارٹی کو قبول کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *