وندے ماترم سے بھی بڑے ایشوز ہیں مسلمانوں کے سامنے

Share Article

وسیم راشد

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے تئیں کانگریس کے قول و عمل میں بڑا تضاد رہا ہے۔ اس کے منشورات میں سیکولر ازم اورمساوات کی باتیں درج ہیں، مگر عملی طور پر یہ پارٹی مسلمانوں کے لئے آر ایس ایس اور بی جے پی سے زیادہ خطرناک ہے۔آر ایس ایس کو اس معنی میں بہتر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا جو بھی نظریہ ہے ’چاہے مسلم مخالف ہی کیوں نہ ہو‘،کھلے عام ہے۔، مندر مسجد کا ایشو ہو ،دفعہ 370 کا معاملہ ہو، مسلمانوں کو ریزرویشن دیے جانے کا قضیہ ہو یا دیگرکوئی اور موضوع، اس کا موقف واضح اور کھلا ہوا ہے،مگر ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس اس معنی میں آر ایس ایس اور بی جے پی سے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ خود کو سیکولر ازم اور مساوات کا علمبردار کہتی ہے، مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مسلمانوں کو زک پہنچانے کا کام اسی پارٹی نے کیاہے۔فرقہ ورانہ فساد کے واقعات ہوں ، سچر کمیٹی کو نافذ کرنے کامعاملہ ہو یا کوئی اور ایشو،ہر جگہ اس پارٹی نے مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیاہے۔ ایسی مثالوں سے آزاد ہندوستان کی تاریخ بھری پڑی ہے ،مگر ہم یہاں پر صرف ایک موضوع کا تذکرہ کریںگے، جس پر دانشوروں میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔موضوع ہے وندے ماترم کا اور جس پر اسپیکر میرا کمار نے سنبھل سے بی ایس پی کے ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی غلطی پر معافی مانگیں اور دوبارہ اس غلطی کو نہ دہرائیں۔ یہ انتباہ انہیں اس لئے دیا گیا ہے،کیونکہ انہوں نے راجیہ سبھامیں ’وندے ماترم‘پڑھنے سے واک آئوٹ کردیا تھا۔ اس گیت کی دھن پارلیمنٹ ملتوی کیے جانے کے موقع پر بجائی جارہی تھی۔ جیسے ہی دھن شروع ہوئی، شفیق الرحمن برق وہاں سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ ان کا باہر جانا راجیہ سبھا کی اسپیکر میرا کمار کو اتنا برا لگا کہ انہوں نے برق کو دوبارہ ایسا نہ کرنے کا انتباہ دے ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ شفیق الرحمن برق کے اس طرح اٹھ کر چلے جانے سے قومی گیت کی توہین ہوئی ہے۔ظاہر ہے اگر وطن پرستی کے اظہار کے لئے کوئی گیت گایا جاتا ہے تو ہر شہری کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس کو سنے ، گائے اور اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرے،مگر گیت کا کوئی بند مذہبی عقیدے کے مخالف ہو تو اسے نہ پڑھنے کا آئینی حق ہر ایک کو حاصل ہے۔ اتفاق سے وندے ماترم میں کچھ حصے ایسے ہیں جن کو اسلامی عقیدے کے مخالف سمجھا جاتا ہے لہٰذا برق صاحب کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ اس حصے کو نہ پڑھیں یا پورے گیت کو ہی نہ پڑھیں،لیکن پارلیمنٹ سے اٹھ کر باہر چلا جانا ،پارلیمانی رواداری کے خلاف ہے۔اگر انہیں اس گیت پر احتجاج کرنا ہی تھا تو سنجیدگی کے ساتھ اپنا احتجاج درج کراتے اور گیت ختم ہونے کے بعد اسپیکر سے بات کرتے۔لیکن انہوں نے پارلیمنٹ سے باہر جاکر احتجاج کا جو طریقہ اختیار کیا ،اس کو سنجیدہ احتجاج نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی ان کے اس طرزِ عمل سے اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے برق صاحب ایک معزز ممبر پارلیمنٹ ہیں اور مذہبی جذبے میں انہوں نے احتجاج کا یہ طریقہ اپنایا ہے لہٰذا اسپیکر کو بھی تحمل اور بردباری سے کام لینا چاہئے تھا اور انہیں انتباہ دینے اور غلطی پر معافی مانگنے پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔جہاں تک و ندے ماترم کے قومی گیت ہونے کی بات ہے ،جیسا کہ میرا کمار نے اپنے بیان میں کہا ہے تو ہم یہاں پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’’وندے ماترم ‘‘ قومی گیت ہے ہی نہیں۔ نہ جانے میرا کمارجو راجیہ سبھا کے با وقار عہدے پر فائز ہیں ،انہیں یہ بات کیوں معلوم نہیں ہے کہ جس کو وہ قومی گیت کہہ رہی ہیں، وہ قومی گیت ہے ہی نہیں۔دوسری بات یہ کہ وہ راجیہ سبھا کو چلاتی ہیں، لہٰذا انہیں یہ بات معلوم ہوگی کہ راشٹریہ گیت سے متعلق کیرالہ کا ایک معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تھا،جس پر 1986 میں سپریم کورٹ نے اپنا تاریخ ساز فیصلہ سنایا تھا کہ اگر کسی گیت سے ’چاہے وہ قومی گیت ہی کیوں نہ ہو‘، کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو ،تو اس گیت پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ظاہر ہے عدالت کے اس فیصلے سے میرا کمار ضرور واقف ہوں گی اور وہ یہ بھی جانتی ہوں گی کہ یہی وہ گیت یعنی وندے ماترم، ہے ،جس کو لے کر گزشتہ چند برسوں سے مسلمان سخت احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں، کیونکہ اس گیت میں کئی بول اسلامی عقیدے کے مخالف ہیں۔لہٰذا جب کبھی بھی یہ گیت گایا جاتا ہے، تو مسلمان خاموش رہتے ہیں۔اس گیت کے خلاف علماء کرام نے بھی عدم جواز کا فتویٰ دے رکھا ہے۔اب میرا کمار ہی بتا سکتی ہیں کہ ایک ایسا گیت جو قومی گیت نہیں ہے اور اس کی مخالفت مسلمان برسوں سے کرتے چلے آرہے ہیں، اس گیت میں شریک نہ ہونے پر انہوں نے برق صاحب کے خلاف ایسی ناراضگی کیوں دکھائی۔جبکہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتی ہیں کہ بی جے پی اس گیت کومسلمانوں پر تھوپنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اوربی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں تمام اسکول کے بچوں سے اس گیت کو زبردستی پڑھوایا جاتا ہے۔حالانکہ اس سلسلے میں کانگریس والی ریاستوں کے کئی اسکولوں میں اس گیت کو پابندی سے پڑھوایا جاتا ہے ،جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کانگریس بھی خفیہ طور پر بی جے پی کے ہی نقش قدم پر چل رہی ہے اور اب اسپیکر میرا کمار پارلیمنٹ میں برق کے خلاف سخت نوٹس لے کر بی جے پی کے منشورکو تقویت دے دہی ہیں ۔
اسپیکر میرا کمار کی پرورش و پرداخت جس ماحول میں ہوئی ہے ، وہاں مساوات اور مذہبی احترام کو بڑی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ان کے والد بابو جگجیون رام ایک ایسا نام ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے باربار مذہب اسلام کو بہترین مذہب کہا ہے۔پھرانہیں کے سائے میں پرورش پانے والی میرا کمار اسلامی عقیدے کے مخالف گیت سے واک آئوٹ کرنے پر اتنا سخت تیور کیسے دکھا سکتی ہیں۔ظاہر ہے ایسے میں یہی سمجھا جائے گا کہ یہ انتباہ ان کی اپنی سوچ نہیں ،بلکہ کانگریس کی اندرونی پالیسی کااثر ہے،جو مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے گاہے بگاہے انجام دی جاتی ہے۔اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ کہنے میں کوئی دریغ نہیں کہ آر ایس ایس تو مسلمانوں کی مخالفت کھلے عام کرتی ہے، مگر کانگریس آستین کاسانپ ہے ،جو سیکولرازم کا نقاب پہن کر آر ایس ایس اور بی جے پی کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے اور جب بات بگڑتی ہوئی دکھتی ہے ، تو قدم پیچھے کرلیتی ہے۔ ویسے بھی اس گیت سے واک آئوٹ کرنے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے 1997 میں بھی شفیق الرحمن برق اس گیت پر واک آئوٹ کرچکے ہیں، مگر اس وقت کوئی ایسا ہنگامہ نہیں ہوا اور نہ ہی ان سے اپنے عمل پر معافی مانگنے کے لئے کہا گیا ۔پھر کیا وجہ ہے کہ اب ان کے اس عمل کو ایشو بناکر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے،کہیں ایسا تو نہیں کہ ہندو ووٹر کو لبھانے کے لئے الیکشن اسٹنٹ کے طور پر اس ایشو کواٹھایا جارہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ایک غلط سوچ ہے اور اس سے مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں غلط پیغام جائے گا،کیونکہ میرا کمار کے سخت تیور سے ملک کی بیشتر مسلم تنظیمیں ناراض ہیں اور مسلمان ایسا محسوس کرر ہے ہیں گویا انہیں اسلامی عقیدے کے خلاف عمل کو اپنانے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے جبکہ اس گیت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ہاں جو قومی گیت ہے اور اس میں اسلامی عقیدے کے خلاف کوئی بات نہیں ہے یعنی جن گن من ادھینایک ‘ تو اس کو گانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ جب بھی گایا جائے گا تو مسلمان اپنے ملک کی سلامتی ،ترقی اور تحفظ کے لئے نہ صرف گائیں گے بلکہ ضرورت پڑنے پر عملی طور پر بھی بڑی سے بڑی قربانیاں پیش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اسپیکر میرا کمار کے اس سخت تیور نے مسلم مخالف ذہنیت کو پروپیگنڈہ کرنے اور ان کے خلاف زہر اگلنے کا ایک نیا موقع دے دیاہے۔ ایک وقت تھا کہ’ وندے ماترم ‘ ہر طرف بحث کا موضوع بنا ہوا تھا اورمسلمانوں پر اس کوقبول کرنے کے لئے زبردست دبائو ڈالا جارہا تھا،مگر اسلامی عقیدہ کیخلاف ہونے کی وجہ سے تمام مکتبۂ فکر کے مسلمانوں نے اس کی سخت مخالفت کی ،جس کے نتیجے میں حکومت کو اپنا پائوں پیچھے کرنا پڑا تھا اور اسکولوں میں مسلم بچوں پر جبراً پڑھوانے سے منع کردیا گیا،مگر دوبارہ اس ایشو کو اٹھا کر معاملے کو پھر سے ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے ،مگر شاید اس مرتبہ بھی حکومت یا اسپیکر کو کامیابی ہاتھ نہ لگے۔وندے ماترم ایک ایسا گیت ہے جس کو بی جے پی مسلمانوں کے خلاف کیش کرانا چاہتی ہے لہٰذا اسپیکر کو بہت سوچ سمجھ کر اور انتہائی سنجیدگی و تحمل کے ساتھ مسئلے کو اٹھاچاہئے تھا اور برق صاحب کو بھی اپنے رتبے، مرتبے اور وقار کا خیال رکھتے ہوئے سنجیدگی سے خاموش رہنے پر اکتفا کرنا چائے تھا۔ مسلمان وطن پرست ہیں ، تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔وندے ماترم کے دوران باہر جانے یا نہ جانے یا پڑھنے یا خاموش رہنے سے ان کی وطن پرستی پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ،ہمیں اپنی صفائی با ربارنہیں دینی ہے۔ہم اپنے قومی گیت جن من گن کو فخر سے گاتے ہیں اور گاتے رہیںگے ۔’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘قبال کا صرف ترانہ گانے کے لئے نہیں ہے۔ہم نے اس ترانے کو اپنی روح میں سمویا ہے۔ ہمیں کسی کو اپنے وطن پرست ہونے کا ثبوت نہیں دینا۔ مسلمانوں کو اب صرف تعلیم، روزگار اور صحیح لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔انہیں اس طرح کے فضول موضوعات میں نہ ڈالا جائےتو بہتر ہوگا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *