یونیسیف کا سوشل میڈیا پر ویکسین بیداری مہم ہفتہ

Share Article

 

 

ویکسین سے تدارک والی بیماریوں کی وبا پھوٹنے کے دوران ، یونیسیف کی مہم میںبتایا جائے گا کہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے ویکسین پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

 

Image result for Vaccine awareness week on social media UNICEF

 

بچوں کی عالمی تنظیم یونیسیف(UNICEF) 24 اپریل سے والدین اور سوشل میڈیا کے صارفین کے درمیان ٹیکہ یا ویکسین کے محفوظ اور انتہائی موثر ہونے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک عالمی مہم بڑے پیمانے پر شروع کرے گی ۔ یہ عالمی مہم 24 تا 30 اپریل تک چلنے والے عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ (World Immunization Week) کے ساتھ چلائی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ تمام طبقات بشمول والدین مل کر ہر ایک بچہ کی زندگی کا تحفظ کر یں ۔
ایک عرصہ سے ٹیکہ کاری کے آن لائن مبلغوں کو ایک جگہ لانے کے لئے ہیش ٹیگ ’# ویکسینس ورک‘ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سال یونیسیف نے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی غرض سے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، اور گاوی ، دی ویکسین الائنس سے اشتراک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

Image result for Vaccine awareness week on social media UNICEF

بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل مہینے میں ہیش ٹیگ’ # ویکسینس ورک ‘کاا ستعمال کرکے سوشل میڈیا پر پسند اور شیئر کرنے پر فی پوسٹ ایک ڈالر کے حساب سے یونیسیف کو ایک ملین امریکی ڈالر تک رقم ادا کرے گا جس کا مقصد تمام بچوں کو وہ تمام ٹیکے لگوانے کی مہم کو یقینی بنانا ہے جو بچوں کی زندگی بچانے کے لئے ضروری ہیں ۔ ہر سال ٹیکوں کی بدولت 30لاکھ بچوں کی جان بچ جاتی ہے۔ بچوں کو ٹیکے کے ذریعہ خطرناک ، مہلک اور متعدی بیماریوں جیسے خسرہ ، نمونیا، ہیضہ ، اور ڈپتھریا وغیر ہ سے تدارک کیا جاسکتا ہے ۔ ویکسین کی بدولت ہی 2000 سے 2017 کے درمیان خسرہ سے چند ہی اموات ہوئیں اور پولیو کا بھی خاتمہ قریب ہے ۔ بلا شبہ ٹیکوں کی دریافت بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو محفوظ بنانے کا ایک انتہائی موثر اور کفایتی طریقہ ہے ۔ اگر ہر بچہ کی ٹیکہ کاری پر ایک ڈالر صرف ہوتاہے تو اس کے نتیجہ میں 44 ڈالر مالیت کا فائدہ ہوتا ہے۔

 

Image result for Vaccine awareness week on social media UNICEF

یونیسیف کے ٹیکہ کاری پروگرام کے سربراہ رابن نندی نے کہا کہ ’’ ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ’ # ویکسینس ورک‘ کی زیادہ سے زیادہ تشہیر ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ویکسین ( ٹیکے) بے ضرر اور محفوظ ہوتے ہیں اور وہ زندگیاں بچاتے ہیں ۔ یہ مہم دنیا کو یہ بتانے کا ایک موقع ہوگی کہ سوشل میڈیا تبدیلی لانے کا ایک طاقتور اور موثر ذریعہ ہے جو والدین کو ویکسین کے بارے میں قابل اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے ۔‘‘
یہ مہم ، ’پروٹیکٹیڈ ٹوگیدر : ویکسینس ورک‘ کے عنوان کے تحت ہفتہ بھر چلنے والی اس عالمی سرگرمی کا حصہ ہے جس میں والدین، کمیونیٹی ارکان سے لے کر طبی عملہ اور جدت کاروں کو ویکسین ہیرو کے خطاب سے نواز ا جائے گا۔
بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن کے شعبہ ویکسین ڈیلیوری کی عبوری ڈائریکٹر یولین مچل نے کہا کہ آج پہلے کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ بچوں کو ٹیکے اور خوراک پلائی جارہی ہے۔ ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یونیسیف نیز ان تمام عالمی و ملکی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے میں خوشی ہوگی جو تمام بچوں ، بالخصوص دنیا کے غریب ترین ملکوں کے بچوں کا مہلک بیماریوں سے تحفظ کے لئے ان تھک کو ششیں کر رہی ہیں ۔

 

Image result for Vaccine awareness week on social media UNICEF

 

ویکسین کی افادیت کے باوجود سال 2017 میں ایک اندازہ کے مطابق 15 لاکھ بچے ان بیماریوں سے لقمہ اجل بنے جن کا تدارک ٹیکہ کاری کے ذریعہ کیا جاسکتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ویکسین کی عدم دستیابی ہے نیز بعض ملکوں میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کے سبب والدین اپنے بچوں کو خوراک پلانے میں تاخیر یا کوتاہی برتتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں کئی متعدی بیماریاں وبائی شکل میں پھوٹتی ہیں۔ ان میں خسرہ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ بالخصوص اونچی آمدنی والے ملکوں میں زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر ویکسین کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

 

Image result for Vaccine awareness week on social media UNICEF

 

اسی لئے یو نیسیف کی مہم میں 60۔سکنڈ کی ایک فلم کو کشش کا محور بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پوسٹ اور پوسٹروں کے توسط سے ’ڈینجرس ‘کے عنوان سے یہ فلم اور وضاحتی انیمیشن خاکوں کے ذریعہ سے بچوں کی صفات کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ فطرتاً بہادر اور خطرات سے کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ اس فلم کا ویڈیو عربی ، چینی ، فرانسیسی، ہندی ، روسی ، اسپینی اور ٹیگالاگ (Tagalog)زبانوں میں دستیاب ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ والدین خود سے اپنے بچوں کو لاحق تمام خطرات سے نہیں بچا سکتے ہیں مگر وہ ویکسین کے ذریعہ بچوں کو ان خطرات سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ مزید برآں،یو نیسیف کے ماہرین ٹیکہ کاری کے بارے میں سوالات کا جوابات دیں گے۔ ان میں ویکسین کس طرح اثر کرتا ہے ، ان کا تجربہ کیسے کیا جاتا ہے، بچوں کو کیوں خوراک پلائی جانی چاہیے اور خوراک بروقت نہ پلانے کے کیا کیاخطرات ہیں وغیرہ سوالات شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *