اتراکھنڈ: بالا کرشن کی جعلسازی کا پردہ فاش

Share Article

راجکمار شرما

بابارام دیو اینڈ کمپنی کی جعلسازی کا انکشاف ہونے سے عوام میں یہ پیغام جا رہا ہے کہ کالے دھن کی واپسی اور نظام میں تبدیلی کی بات کرنے والے پنتجلی پیٹھ کے کرتا دھرتا رام دیو کے معاون بال کرشن خود ایک بڑے جعلساز ہیں۔ بال کرشن کے پاسپورٹ کی جانچ کے دوران ان کے ذریعہ دو برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پہلے سرٹیفکیٹ میں ان کے والدین کی قومیت ہندوستانی ، جبکہ دوسرے سرٹیفکیٹ میں انہیں نیپالی بتایا گیا ہے۔ ہریدوار میونسپل کارپوریشن میں پھیلی بدعنوانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آچاریہ بال کرشن نے گرو شنکر دیو کی طرف سے دئے گئے حلف نامہ کو بنیاد بنا کر پانچ دسمبر 1997کو پہلا برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ اسی سرٹیفکیٹ کی بنیادپر بال کرشن نے 1998میں پاسپورٹ بنوایا۔ 16مئی 2006کو انھوں نے گرو شنکر دیو کے فرضی دستخط سے بنے ایک دیگر حلف نامہ کے سہارے برتھ سرٹیفکیٹ کے لئے دوبارہ درخواست دی، جس میں انھوں نے خود اوراپنے والدین کو نیپالی شہری بتایا۔ میونسپل کارپوریشن کے افسران نے بھی نذرانہ حاصل کرکے بنا کوئی جانچ کئے دوسرا برتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔
دو دو برتھ سرٹیفکیٹ ، ایک میں ہندوستانی شہریت اور دوسرے میں نیپالی شہری بتایا جانا ہی بال کرشن کے گلے کی پھانس بن گیا۔ ہریدوار کے سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ نے بال کرشن کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی لے کر ہریدوار پہنچی تین رکنی سی بی آئی ٹیم کو مہیا کرا دی ہے۔ سی بی آئی نے پاسپورٹ رینول کرانے کے وقت پیش دستاویز اور ایل آئی یو رپورٹ بھی ریاستی پولس سے حاصل کر لی ہے۔ سی بی آئی کو تفتیش کے دوران دو پاسپورٹ تو نہیں ملے، لیکن دو بکلیٹ جاری ہونا روشنی میں آیا ہے، جبکہ پاسپورٹ ایک ہے۔ بال کرشن نے 29اپریل، 1998کو جو پاسپورٹ حاصل کیا، اس کی میعاد دس سال تھی، جس کا 7فروری 2007کو رینول کرا لیا گیا۔ ساتھ ہی ایک جمبو بکلیٹ جاری کرا کر پہلے والی بکلیٹ منسوخ کرا دی گئی۔ بکلیٹ کی جانچ ہی بال کرشن کی پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
آچاریہ کے  بھائی کی شہریت نیپالی ہے، آچاریہ بھی نیپالی نژاد ہیں،ان کے والدین آج بھی نیپال میں رہتے ہیں۔ سی بی آئی آچاریہ کی پیدائش کے معاملہ کی گتھی سلجھانے کے لئے دو ٹیمیں بنا کر در در کی خاک چھاننے میں لگی ہے۔سی بی آئی گرو شنکر دیو کے دستخط شدہ دو حلف نامے، جو آچاریہ نے دو بار الگ الگ اپنے مفاد کے لئے استعمال کئے ،ان کی تہہ تک جانا چاہتی ہے۔ گرو شنکر دیو کا اچانک غائب ہونا اور ان کے قتل کے خدشہ کے ساتھ شک کی سوئی انہیں کی طرف جانایوگ پیٹھ کو داغدار بنا رہا ہے۔ اکھاڑا پریشد کے ترجمان ہٹھ یوگی کہتے ہیں کہ سی بی آئی کو شنکر دیو کی موت کی حقیقت کا انکشاف کر کے دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی کر دینا چاہئے۔ سنت ہٹھ یوگی کا دعویٰ ہے کہ بال کرشن کی ڈگری بھی فرضی ہے۔ دونوں نے دان کی رقم اپنی تجارت میں لگا کر ٹرسٹ کے جذبات کے برعکس کام کیا ہے ۔ پنتجلی یوگ پیٹھ کے ماہنامہ ’’یوگ سندیش‘‘ کے مئی 2011کے شمارہ میں سمراٹ اشوک کے بعد کے حکمرانوں اور بودھ دھرم پر کی گئی نکتہ چینیوں کا معاملہ بھی ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔
بودھ کمیون انٹر نیشنل اینڈ لارڈ بدھا ویلفیئر سوسائٹی نے ایک مفاد عامہ کی اپیل داخل کر کے ایسی اشاعت پر روک لگانے اور رسالہ کا رجسٹریشن خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس ایس پی ہریدوار کے مطابق، سی بی آئی آچاریہ کے پاسپورٹ رینول کے سلسلہ میں ایل آئی یو رپورٹ اور قانونی رائے نظر انداز کئے جانے کی تہہ تک جانا چاہتی ہے۔ حکومت کی کارروائی سے دویہ یوگ پیٹھ احاطہ میں سناٹا طاری ہے۔ رام دیو کے ذریعہ مقبوضہ کئی گرام سبھائوں کی 45ایکڑ زمین آزاد کرا کر دیہی باشندوں کو واپس کر دی گئی ہے۔ بابا کا ساتھ دینے کا دم بھرنے والی نشنک حکومت نے ان کے ذریعہ گرام سبھا کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے کے معاملہ کا ایسے وقت پر انکشاف کیا ، جب بابا پر چاروں جانب سے حملے ہو رہے تھے۔ بابا رام دیو کے ذریعہ نارائن دت تیواری کو پٹا کر سینکڑوں بیگھے زمین ہتھیانے کا معاملہ بھی طول پکڑ رہا ہے۔ بابا اینڈ کمپنی نے جس طرح اپنے شیش کے محل سے حکومت پر پتھرپھینکا، اسی کا نتیجہ تھا کہ رام دیو کو خواتین کے کپڑے پہن کر رام لیلا میدان سے بھاگنا پڑا۔ حمایتی کہتے ہیں کہ بابا رام دیو کوحکومت سے سیدھے ٹکرانے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *