وجے یادو
اتر پردیش کے انتخابی مہابھارت میں بی جے پی کو اوما بھارتی کی شکل میں سارتھی کرشن تو مل گئے لیکن ابھی اسے پانڈئوں کومتحد کرنا ہوگا۔ سب سے اہم بات یہہے کہ پارٹی کو ارجن کی تلاش کرنی ہوگی، ورنہ اقتدار کی مچھلی پکڑنے کا ان کا یہ خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔پہلے صوبائی بی جے پی کے پانڈو کلیان سنگھ، کلراج مشرا، لال جی ٹنڈن، اوم پرکاش سنگھ اور راج ناتھ سنگھ ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ منتشر ہو چکے ہیں۔ کلیان بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔ راج ناتھ سنگھ قومی سیاست میں جم چکے ہیں۔ کلراج اور لال جی ٹنڈن بھی خود کو قومی لیڈر ہی مانتے ہیں۔ ایسے میں اوما کا ساتھ کون دے گا، کون ان کی بات مانے گا، یہ قابل غور ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اوما سارتھی کا کردار بخوبی ادا کریں گی لیکن جنگ جیتنے کے لئے سپاہیوںکی بھی ضررت ہوتی ہے جو فی الحال اتر پردیش میں پارٹی کے پاس نظر نہیں آ رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے بعد اترپردیش میں بی جے پی کے پاس اب ایسا کوئی چہرہ نہیں بچا ہے جو اس کی اقتدار میں واپسی کرا سکے۔ویسے اتر پردیش میں بی جے پی کے پاس بڑے نام اور چہروں کی کمی نہیں ہے۔ مرلی منوہر جوشی، مختار عباس نقوی، ونے کٹیار، مینکا گاندھی، ورون گاندھی اتر پردیش سے ہی ہیں لیکن ان میں ورون گاندھی کو چھوڑ کر کوئی جارحانہ نظر نہیں آتا۔اب بی جے پی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کسے ارجن کی شکل میں اوما کے ساتھ اتارے گی۔
انتخابی مہابھارت میں بی جے پی کے سامنے بہوجن سماج پارٹی ہوگی جو کارکنان پر مبنی ہے۔ تنظیمی سطح پر آج کی تاریخ میں بی جے پی کسی بھی طرح سے بی ایس پی کے سامنے نہیں ٹکتی ہے۔یہی حال سماجوادی پارٹی کا بھی ہے۔ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی تنظیم کافی مضبوط ہے۔ کانگریس اس معاملہ میں بی جے پی کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ تنظیمی سطح پر کانگریس بھی کافی کمزور ہو چکی ہے۔ بی جے پی پہلے کبھی تنظیمیطور پر مضبوط ہوا کرتی تھی۔ پارٹی کے پاس کارکنان کا ہجوم ہوتا تھا لیکن اب ایسا بالکل نہیں ہے۔ بی جے پی کارکنان پر مبنی نہیں بلکہ لیڈر پردھان پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ایسے میں انتخابات کے دوران پولنگ بوتھوں پر کارکنان کی ٹولی کھڑا کرنا بھی بی جے پی کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ ان حالات سے بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی قیادت انجان نہیں ہے۔مرکزی قیادت کی پہل پر ہی اتر پردیش میں بی جے پی کو دوبارہ زندہ کرنے کی مہم شروع کی جا رہی ہے۔اس کے لئے باقاعدہ کور گروپ کی تشکیل کی گئی ہے۔ سال 2011کی شروعات کے ساتھ ہی مکر سنکرانتی کے دن سے بی جے پی اپنی اس مہم کا آغاز کرے گی۔گائوں میں پیٹھ بنانے کے لئے بی جے پی کے لیڈر دیہی علاقوں میں رات کو قیام بھی کریں گے لیکن صرف اس سے ہی بات بننے والی نہیں ہے۔ ناراض کارکنان کو دوبارہ متحد کر کے ساتھ جوڑنے کی مہم کامیاب بنانی ہوگی، ورنہ اوما بھارتی کی مشکلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔بی جے پی کارکنان کے سامنے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اوما بھارتی اپنے بڑے بھائی کلیان سنگھ کے خلاف بول سکیں گی ؟اوما واقعی ایسا کر پاتی ہیں یا نہیں یہ کہہ پانا  بہت مشکل ہے۔ اس کی وجہ گزشتہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ہیں جب کلیان بی جے پی میں نہیں تھے اور اوما بی جے پی کی اسٹار پرچارک ہوا کرتی تھیں۔ اس دوران بھی اوما نے کلیان کے خلاف بولنے سے پرہیز کیا تھا۔ اب کلیان، ملائم سنگھ یادو کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ مغربی اتر پردیش میں ان کا اپنا اثرورسوخ ہے جہاں بی جے پی کو اپنی پیٹھ بنانی ہے۔ ایسے میں اوما کو کلیان سنگھ کے خلاف جارحانہ رخ اپنا ناپڑے گا۔ یہ وقت کی مجبوری بھی ہوگی اور تقاضہ بھی۔کلیان کی بی جے پی سے علیحدگی کے بعد سے پارٹی کایہ ماننا ہے کہ وہ کم سے کم پانچ لوک سبھا سیٹوں اور 31اسمبلی حلقوں میں کمزور ہوئی ہے۔ ان حلقوں میں لودھے رائے دہندگان کی تعداد زیادہ ہے۔ ایٹہ،بلند شہر، علی گڑھ، فرخ آباد اور پیلی بھیت لوک سبھا سیٹ پر کلیان سنگھ کی برادری کے رائے دہندگان کی آبادی نتائج کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں اگر اوما بھارتی بی جے پی میں آئیں گی توبی جے پی کو اس کا فائدہ ملنا طے ہے، پارٹی کی موجودہ سوچ یہی ہے۔
اوما بھارتی کی اتر پردیش کے راستے بی جے پی میں واپسی علاقائی لیڈروں کو ہضم نہیں ہوپا رہی ہے۔اوما کو قومی مجلس عاملہ میں نائب صدر بنائے جانے کی بات چل رہی ہے۔ایسے میں انہیں اتر پردیش کا چارج بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک توکسی کو دقت نہیں ہے لیکن اوما کے اتر پردیش سے ہی انتخاب لڑنے کی صورت میں یہاں کے لیڈران کو اپنا وجود خطرے میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اوما کی بی جے پی میں واپسی پر کھل کر نہ تو خوشی کا اظہار کر پا رہے ہیں اور نہ ہی غم کا ۔اوما بھارتی کے آنے سے غیر بی جے پی جماعتوں میں افراتفری ضرور مچ گئی ہے۔مخالفین نے ابھی سے الزام عائد کرنے شروع کردئے ہیں کہ اتر پردیش میں بی جے پی کا مشن 2012فرقہ واریت کو ہوادینے والا ہوگا۔ ہندو مسلم ووٹوں کے  لئے ہر ہتھکنڈے کا استعمال ہوگا۔ غیر بی جے پی جماعتوں کے الزامات غلط نہیں ہیں۔ اوما بھارتی جس رام مندر تحریک کی دین ہیں، وہ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ کے بعد ایک بار پھر سے تذکروں میں ہے۔ بابری مسجد شہید کئے جانے کے معاملہ میں اوما بھارتی بھی ملزم ہیں۔اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے بی جے پی ذرا بھی گریز نہیں کرے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی عادت کے سبب ہی اوما بھارتی سیاست کے افق پر پہنچی ہیں۔ انہیں سیاست میں خراب دن بھی دیکھنے پڑے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کرناٹک کے ہبلی شہر میں قریب 15سال پہلے فرقہ وارانہ تنائو پھیلانے کے الزام میں اوما کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔اس معاملہ میں انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا۔ اسی کے بعد اوما بھارتی کا سیاسی گراف نیچے آتا گیا اور آج جبکہ ان کی بی جے پی میں واپسی کی بات ہو رہی ہے تو انہیں اپنا گھر مدھیہ پردیش چھوڑنے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے۔آخر کیا سبب ہے کہ اوما بھارتی کی مدھیہ پردیش میں واپسی پر انہیں کے شاگرد لیڈر ہی رخنہ اندازی کر رہے ہیں۔ اس کی اہم وجہ اوما  بھارتی کا اکھڑمزاج اور ان کی تاناشاہی ہے۔بی جے پی میں رہتے ہوئے انھوں نے جس طرح سے لال کرشن اڈوانی کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔مدھیہ پردیش کے لیڈران کی اوما کے سامنے منہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔جن بابو لال گور نے اوما کا آشیرواد لے کر وزیراعلیٰ کی کرسی حاصل کی تھی، وہ بھی آج اپنی اس لیڈرکے منکر  ہیں۔ شیوراج سنگھ چوہان کو بھی وہ پھوٹی آنکھ نہیں بھاتی ہیں۔مدھیہ پردیش بی جے پی کے لیڈر ڈرتے ہیں کہ اگر اوما بھارتی بی جے پی میں آئیں گی تو وہ پھر سے پرانا رویہ اختیارکریں گی۔ اوما کی اس فطرت  سے اتر پردیش میں بی جے پی کے لیڈر ناواقف نہیں ہیں۔ مدھیہ پردیش کی بی جے پی میں اگر کئی گروپ ہیں تو اتر پردیش اس معاملہ میں اس کا بڑا بھائی ہے۔گروہ بندی نے ہی اتر پردیش میں بی جے پی کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ایسے میں اتر پردیش کے لیڈر اور کارکنان اوما بھارتی کی قیادت کہاں تک قبول کریں گے، یہ سوچنے والی بات ہے۔ ان سب کے درمیان ایک سوال اہم ہے کہ کیا اتر پردیش میں بی جے پی کے لیڈران ناکارہ ہو چکے ہیں جو اوما بھارتی مدھیہ پردیش میں اپنا سیاسی وجود نہیں بچا سکیں، ان سے بی جے پی اتر پردیش میں کسی کرشمہ کی امید کیسے کر سکتی ہے؟ بی ایس پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو بھی بیٹھے بٹھائے ہی بی جے پی نے ایک ایشو تھما دیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی مہابھارت میں مخالف جماعتوں کے چکرویو کو اوما بھارتی کیسے توڑتی ہیں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here