اترا کھنڈ پر ہٹ ہوئی سربیائی فلم ’دیو بھومی ‘ عالمی فیسٹیول میں

Share Article

ٹورانٹو فلم فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہالی وڈ کی فلموں میں موضوعات کے تنوع کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔کینیڈا کے سب سے بڑے شہر میں منعقد اس 11 روزہ فلمی میلے کے دوران 400 سے زائد فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئیں۔ یہ 41 واں سالانہ فیسٹیول ہے اور اس فلمی میلے کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں پیش کی جانے والی فلمیں آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرتی ہیں۔اس مرتبہ اس فیسٹول میں ایک ایسی فلم کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا ہے جس کی شوٹنگ شمالی ہندوستان کی ہمالیائی ریاست اترا کھنڈ میں ہوئی ہے۔قابل غور ہے کہ ہندوستان کے مختلف خطے اور عمارتیں دنیا کے لئے ہمیشہ کشش کا باعث رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے بھی ہندوستان پر فلمیں بنی ہیں اور ایک بار پھر ہندوستان کا ایک خطہ فلمی دنیا کے لئے عظمت و فخر کی بات ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ فلم ہے کیا اور کون لوگ اس کے بنانے کے محرک بنے۔

12ٹورانٹو کے 41ویں انٹرنیشنل فلم فسٹول ( ٹی آئی ایف ایف) میں سربیا کے ایک فلم ڈائریکٹر گوران پاسکل جیوک نے اترا کھنڈ کو اپنی فلم ’’ دیو بھومی ‘‘ میں انٹرنیشنل فلم میپ میں شامل کیا ہے۔ شمالی ہندوستان کے اس پہاڑی خطے کو ڈائریکٹر نے ایک حسین ترین اور دلکش جگہ کے طور پر اپنی فلم میں دکھایا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ 2013 میں یہ خطہ زمین کے کھسکنے اور سیلابی آفت کی وجہ سے سخت ترین بحرانی کیفیت سے دوچار تھا۔
حالانکہ یہ خطہ سماجی اور اقتصادی اعتبار سے انتہائی پسماندہ ہے، اس کے باوجود اس خطے پر دھیان دینے کے تعلق سے 69سالہ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کے ذریعہ امیدوں اور انسانیت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ’دیو بھومی ‘ کے ڈائریکٹر کی متعدد فلمیں تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصہ سے کینس،وینس اور برلین میں منعقد ہونے والے ورلڈ ٹاپ فیسٹیول کے مقابلہ میں اعلیٰ انعامات حاصل کرتی رہی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی یہ فلم قابل ذکر ہے اور توقع ہے کہ یہ بھی یقینا فلم فیسٹیول کی زینت بڑھائے گی۔
اس فلم میں معروف اداکار ویکٹر بنرجی ایک ایسے آدمی کا رول ادا کررہے ہیں جو کہ ریاست اترا کھنڈ میں واقع ہمالیائی گائوں میں 40سال کے بعد اپنے بزنس کے سلسلے میں لوٹ کر آتے ہیں۔اس فلم کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں کچھ چیلنج مذہبی اور قدامت پسندی نوعیت کے تھے،جہاں ایک عورت کی تعلیم اور آزادی کے لئے محدود اور بہت ہی کم مواقع دیئے جاتے ہیں اور جہاں ذات پات کی خوب حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔مگر ان تمام مشکلوں کے باوجود پاسکل جیوک نے اپنی اس فلم’ دیو بھومی‘ کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ اترا کھنڈ ایک خوبصورت اور مترنم خطہ ہے۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انتہائی جذباتیت پائی جاتی ہے۔ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’’ ایک آدمی کسی خطے سے یا تو نفرت کرتا ہے اور کبھی لوٹ کر نہیں آتا ہے یا پھر اس خطے کی محبت میں گرفتار ہوجاتاہے اور لوٹ کر آجاتاہے ، میں اپنے دل میں ہندوستان کے لئے بہت محبت پاتا ہوں‘‘۔
اس فلم کو بنانے کا خیال اس وقت دل میں آیا جب پاسکل جیوک 2 سال قبل گوا میں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کے جیوری چیف تھے ۔ویکٹر بنرجی بھی جیوری کے ممبر تھے ،ان دونوں میں دوستی ہوئی اور پھر دونوںنے مل کر فیصلہ کیا کہ باہم مل کر ایک فلم پر کام کیا جائے۔پاسکر جیوک کا کہنا ہے کہ ہم دونوں کے ورلڈ ویوز اور فلمی دلچسپی ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے، لہٰذا ہم نے فوری طور پر اس کو عملی جامہ پہنا نے کی شروعات کردی۔
’دیو بھومی‘ کا اسکرپٹ پاسکل جویک اور بنرجی نے مل کر تیار کیا اور اس پورے اسکرپٹ کی شوٹنگ اترا کھنڈ میں ہوئی اور اس دوران ایک مہینے کے اندر ڈائریکٹر نے پوری ریاست اتر اکھنڈ کا دورہ کیا۔
باجودیکہ’ دیو بھومی‘ انڈو- سربیا کو مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے ،لیکن حقیقتاًاس میں ایک سربیائی فلم کی ہندوستان میں زیادہ شوٹنگ کی گئی ہے۔ پاسکل جیوک کہتے ہیں کہ میں یہاں کچھ ایسا غلط ہونا پسند نہیں کرتا ہوں جس پر تنقید ہو،یہ میرے لئے بہتر نہیں ہوگا۔ میں ایک غیر متعلقہ شخص ہوں ،میں کوئی جج نہیں ہوں۔
ویکٹر بنرجی کے علاوہ دیو بھومی کے اداکاروں میں گیتانجلی تھاپا، اترا بائوکر اور راج زتشی شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *