اترا کھنڈ: تباہی کے اسباب قدرتی نہیں این جی ٹی کا فیصلہ

Share Article

ششی شیکھر
p-4bاتر کھنڈ میں جی وی کے کمپنی کے ذریعہ الکانندا ندی پر بنے شری گر باندھ کی وجہ سے تباہ ہوئی جائیداد کے معاوضوں کے لئے’ شری نگر باندھ آپدا سنگھرش سمیتی ‘ اور’ ماٹو جن سنگٹھن ‘ نے اگست 2013 میں نیشنل گرین ٹریبونل میں ایک عرضی دائر کی تھی۔ نیشنل گرین ٹریبونل نے تقریباً 18 بار سنوائی کے بعد 19 اگست 2016 کو اترا کھنڈ کے لئے تاریخی فیصلہ دیا۔ اپنے اس فیصلے میں جج یو ڈی سالوی اور ممبر اے آر یوسف نے جی وی کے کمپنی کو جون 2013 آفت میں شری نگر میں تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے متاثرین کو 92642795 کروڑ روپے کا معاوضہ دینے اور ہر وادی کو ایک لاکھ روپے دینے کا حکم دیاہے۔
غور طلب ہے کہ جی وی کی کمپنی کے باندھ کی وجہ سے شری نگر شہر کے شکتی بہار، لوور بھگیان، چوہان محلہ، گیس گودام، گھادیان گودام، ایس ایس بی، آئی ٹی آئی، ریشما فارم، روڈ ویز بس اڈا، نرسری روڈ، الکیشور مندر، گرام سبھا اولفلڈ کے فتح پور ریتی، شری ینت ٹاپو ریسورٹ وغیرہ جگہوں کی سرکاری ، نیم سرکاری، پرائیویٹ اور عوامی جائیداد بری طرح سے برباد ہوئی تھی۔
نیشنل گرین ٹریبونل کے اس حکم نے ثابت کیا ہے کہ جون 2013 کی آفت میں باندھوں کا بڑا کردار تھا۔ جون 2013 کی آفت میں باندھوں کے عمل کا ایشو بھی اٹھا تھا،لیکن سیاسی طور پر اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ اب اس حکم کے بعد سرکاریں جاگیں گی اور ندی اور لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی باندھ کمپنیوں پر لگام لگائیں گی،ایسی امید تو کرنی چاہئے ،لیکن ایسا ہوگا،اس کی گنجائش نہیں دکھائی دیتی ہے۔یہ حکم نہ صرف اترا کھنڈ اور نہ ملک میں باندھوں کے سلسلے میں اپنی طرح کا پہلا حکم ہے بلکہ پورے ملک میں باندھوں کے سلسلے میں متاثر علاقوں کے لئے یہ نیا راستہ دے رہا ہے۔ کہیں بھی باندھوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانوں کے لئے یہ حکم ایک نظیر ہوگا۔
اتھارٹی نے حکم دیاہے کہ الک نندا ہائیڈرو پاور کمپنی لمیٹیڈ اس حکم کی تاریخ کے 30دن کے اندر پبلک ریابلیٹی انشورنس ایکٹ 1991 کی دفعہ 7(A) کے تحت موجود انوائرنمنٹ ریلیف فنڈاتھارٹی کے ذریعہ سے سری نگر شہر میں جون 2013 کے سیلاب متاثرین کو معاوضہ کے طور پر 92642795 کروڑ روپے کی رقم جمع کرے گی۔ نیشنل گرین ٹریبونل (مہم اور عمل ) ایکٹ 2011 کے قانون 12کے تحت جمع کئے جانے والے معاوضے کی رقم سے ایک فیصد رقم کٹوتی کرکے کورٹ فیس کے طورپر رجسٹرار ،نیشنل گرین ٹریبونل کو سونپ دیا جائے گا۔ لاگت کی رقم کی شکل میں عرضی گزار اور مدعا علیہ کے نمبر4 سمیت ہر ایک کو ایک ایک لاکھ روپے کی رقم کی ادائیگی کرے گی۔

اترا کھنڈ کی 2013 کی آفت کو قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ مانا جا سکتاہے۔ اب اس ریکوگنائزیشن پر این جی ٹی کے فیصلے سے بھی مہر لگ گئی ہے۔ سوال ہے کہ کیا ہم اب بھی بیدار ہوں گے یا پھر اسی طرح قدرتی ذرائع کو تباہ کرتے رہیں گے اور نتیجے میں قدرت کے غصہ کا شکار بنتے رہیں گے؟۔

اتھارٹی نے اپنے 42 صفحات کے حکم میں بہت تفصیلی طور سے لکھاہے کہ جی وی کی کمپنی نے لگاتار ماحولیاتی حالات کی خلاف ورزی کی جس کے سبب سیلاب میں باندھ کے بڑے نقصان کی وجہ بنی۔ مختلف رپورٹیں بتاتی ہیں کہ مک ڈالے جاتے ہیں، وہاں سیکورٹی وال اور مک پر پیڑ لگانے اور جالی لگا نے کا کام کیا جاناچاہئے۔ مگر برسوں سے ندی کنارے مک رکھی گئی، لیکن پھر بھی اس پر پیڑ نہیں لگائے گئے۔ اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے حکم پر بنی روی چوپڑا کمیٹی کی رپوٹ کو بھی دیکھا جس نے موقعے پر معائنہ کیا تھا۔ اتھارٹی نے باندھ کمپنی کی ان دلیلوں کو ماننے سے انکار کیا کہ یہ علاقہ سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں آتا ہے،یہ قدرتی اسباب کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اترا کھنڈ سرکار کے وکیل نے اپنا دعویٰ رکھتے ہوئے پہلے تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ مقدمہ سننے لائق ہی نہیں، کیونکہ یہ سب قدرتی اسباب سے ہوا ہے اور اس میں جی وی کے کمپنی کا کوئی قصور نہیں ہے۔ لیکن اتھارٹی نے اپنے حکم کے پیرا 19 میں کہا ہے کہ ریاستی سرکار وادیوں کے ذریعہ جی وی کے کمپنی کو قصوروار ٹھہرانے کی کسی دلیل کے خلاف نہیں کر پائی ہے۔
اس فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اترا کھنڈ میں بربادی کے اصلی اسباب کیا تھے۔ ظاہر ہے عوامی پیسے کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہائیڈو پاور اسکیمیں ہیں۔ رینویل انرجی سورسیز منسٹری کے مطابق اترا کھنڈ میں مورچہ 2013 تک 98 چھوٹے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ لگائے جاچکے تھے جن کی کل صلاحیت 170.82 میگا واٹ تھی۔ تعلقہ 4 میں چھوٹی اور مینی مائیکرو پروجیکٹ کو بھی جوڑ دیا جائے تو اس طرح 83پروجیکٹ ہو جا تے ہیں۔ اترا کھنڈ سرکار کی کل 27191.89 میگاواٹ صلاحیت کے 337 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بنانے کا منصوبہ ہے۔ ظاہر ہے ان ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر میں پانی، جنگل اور زمین کا انتظام بھی ہونا ہے اور اس انسانی دست درازیوں کے ساتھ اگر قدرتی آفت مل جائے تو پھر تباہی کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہو جائے گا۔اتراکھنڈ میں 2013 کی تباہی میں کئی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بری طرح سے تباہ ہوئے تھے اور ساتھ ہی اس سے تباہی کا پیمانہ بھی کافی بڑھ گیا تھا۔جیسے تپو ون وشنو گاڑ ہائیڈرو پروجیکٹ 16 جون 2013 کو ہوئی بارش سے تباہ ہو گئی۔ باندھ بہہ گیا اور آس پاس کی سڑکوں کا نقصان ہوا۔ جے پی ایسو سی ایٹس کی 400میگاواٹ وشنو پریاگ ہائیڈرو پروجیکٹس نے اس آفت سے پھیلی تباہی کو بڑھانے میں اہم کردار نبھایا ۔ماٹو آرگنائزیشن کے مطابق اس پروجیکٹ کی وجہ سے لمبا گاڑ گائوں کو نقصان ہوا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اترا کھنڈ کی 2013 کی آفت کو قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ مانا جا سکتاہے۔ اب اس ریکوگنائزیشن پر این جی ٹی کے فیصلے سے بھی مہر لگ گئی ہے۔ سوال ہے کہ کیا ہم اب بھی بیدار ہوں گے یا پھر اسی طرح قدرتی ذرائع کو تباہ کرتے رہیں گے اور نتیجے میں قدرت کے غصہ کا شکار بنتے رہیں گے؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *