ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ میں 2017 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بی جے پی کے لئے وقار کا مسئلہ ہے۔ بی جے پی اعلیٰ کمان اتراکھنڈ کو’’ کانگریس مکت ریاست‘‘ بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے تو وہیں ہریش راوت بھی اپنی تمام چالیں چل رہے ہیں۔ البتہ کانگریس کے ریاستی صدر کیشور اپادھیاے سے راوت کا اختلاف ان کی سیاسی رفتار کو کم کرسکتا ہے۔ا س رپورٹ میں انہی امور کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
راجکمار شرما
10بی جے پی کے سینئر سیاستدانوں کو اترا کھنڈ میں بہت جدو جہد کرنی پڑ رہی ہے۔ اترا کھنڈ کے تئیں پوری پارٹی بے حد محتاط ہے۔70 اسمبلی سیٹوں والی ہمالیائی ریاست کے لئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے دو دو انتخابی انچارج مقرر کئے ہیں۔ جے پی نڈا اور دھرمیندر پردھان کاشمار پارٹی میں سینئر لیڈر ہونے کے علاوہ بڑے آرگنائزر کے طور پر ہوتا ہے۔ مودی -شاہ کی جوڑی ہمالیہ پر کنول کھلانے کے ساتھ ملک کو کانگریس مکت ہمالیہ کا پیغام بھی دینے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔بی جے پی کو اترا کھنڈ فتح کرنے کا خواب جاگتے ہوئے ہی نظر آرہا ہے۔
مودی لہر کے دور میں ریاست میں سبھی پانچ کی پانچ پارلیمانی سیٹوں پر بھگوا لہرانے والی بی جے پی کے وجے رتھ کو ریاست کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے ایسے تھام لیا ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں کو اس سے چھٹکارا پانے میں مشکلیں پیش آرہی ہیں۔ گجرات ماڈل کا ڈھول پیٹ کر ہندوستان پر کامیابی کا پرچم لہرانے والی مودی-شاہ کی جوڑی ان دنوں ہمالیہ فتح کرنے پر نئی پالیسی کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ کیلاش وجے ورگیہ کو اتراکھنڈ بھیج کر ہریش سرکار میں منی پاور سے بھرپور بغاوت کا بگل بجانے والے بی جے پی کے سینئر لیڈروں کی ہریش سرکار کو ختم کرنے کی پالیسی پروان نہیں چڑھ سکی۔ مقدر کے سکندر ہریش راوت نے بی جے پی کی پالیسی کو بے اثر کردیا ۔ اس سیاسی شکست سے تلملا ئے بی جے پی کے قومی صدر شاہ کا اپنی پارٹی کے سینئروں پر بھروسہ نہیں رہ گیا۔ شاہ اپنے سینئر لوگوںکو درکنار کرکے کانگریس سے دھوکہ کرکے آئے ہوئے ان 10 لیڈروں پر کچھ زیادہ بھروسہ کر کے مشن 2017 فتح کرنے کی ذمہ داری انہیں ہی سونپنے پر غور کررہے ہیں۔ بی جے پی کے کارکن آج بھی ریاست کے حق کے لئے ’’ کھنڈوری ہے ضروری ‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں،لیکن عمر دراز ہونے کی وجہ سے قیادت انہیں لگاتار مسترد کررہی ہے۔ ریاست میں پارٹی ہائی کمان نے ہریش راوت سرکار کی ’پول کھولو یاترا‘ کی جس گرم جوشی کے ساتھ ابتدا کی تھی، اسے پروان چڑھنے سے پہلے ہی ہریش راوت نے ان سے الٹا سوال کرکے اس کی ہوا نکال دی۔چبھتے انداز میں ہریش نے جو سوال کئے ،اس سے بی جے پی کو جواب نہیں سمجھ میں آیا۔ہریش راوت نے پوچھا کہ ہمارے ہی لوگ جنہیں کل تک بی جے پی کے لوگ دیوی کی آفت ،زراعت سمیت کئی گھوٹالوں کے لئے ویلن بتاتی تھی، وہی لوگ آج بی جے پی کے ہیرو بنے بیٹھے ہیں،تو پھر پول کس کی کھولیں گے؟۔
جغرافیائی نقطہ نظر سے چھوٹی لیکن سیاسی نقطہ نظر سے بے حد اہم ریاست اترا کھنڈ کے تئیں پوری پارٹی بے حد محتاط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس 70سیٹوں والی ہمالیائی ریاست کے لئے شاہ نے دو دو انتخابی انچارج مقرر کئے ہیں۔ اس چھوٹی ریاست میں ذرہ بھر کی چوک کی گنجائش نہ رہے، اس کے لئے دو دو سینئروں کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ اترا کھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کے سوال پر کانگریس اور بی جے پی میں سیاسی دنگل کا ایک دور پورا ہو چکا ہے، جس میں سیاسی چوک کی وجہ سے بی جے پی کی عدالت میں بڑی کرکری ہو چکی ہے۔ ریاست میں 2017 میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں۔ بی جے پی ہمالیائی ریاست میں اقتدار واپسی کی قواعد میں لگی ہے۔ دوسری طرف کانگریس ہائی کمان ہریش راوت پر پورا بھروسہ کر کے چل رہی ہے۔
باکس
کانگریسیوں کو راوت- کانگریس کا خوف
ہندوئوں کا مذہبی شہر ہریدوار سے ہریش راوت سرکار کے خلاف اٹھی چنگاری کو شعلہ میں بدلنے کا بی جے پی کو انتظار ہے۔ کانگریس کے ایک سابق ایم ایل اے کے ذریعہ اندرا گاندھی کے نام پر منعقد پروگرام میں وزیر اعلیٰ راوت نے ریاستی تنظیم کے چیف کیشور اپادھیائے کے نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ لے کر یہ صاف کر دیا کہ راوت اپنے بل بوتے پر چل رہے ہیں،ریاستی تنظیم کے بل بوتے پر نہیں۔ پروگرام اندرا گاندھی کے نام پر منعقدہوا تھا،لیکن اس کے لئے کانگریس اعلیٰ کمان سے منظوری نہیں لی گئی تھی۔ اسی لئے کانگریسی اسے کانگریس کا پروگرام نہیں مان رہے تھے۔ اسی وجہ سے ریاستی صدر کیشور اپادھیائے بھی نہیں چاہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ یا کوئی دیگر لیڈر اس پروگرام میں شامل ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ جو لیڈر اس پروگرام میں جائے گا، اس کے خلاف کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ ہریش راوت اس پروگرام میں باقاعدہ شامل ہوئے ، کانگریسی کہتے ہیں کہ راوت کی من مانی کی وجہ سے ہی کانگریس کے سینئر لیڈر سابق وزیر اعلیٰ بہو گنا اور ڈاکٹر ہرک سنگھ سمیت 10 لیڈر کانگریس چھوڑ کر امیت شاہ کے کانگریس مکت اترا کھنڈ مہم کو قبول کرنے چلے گئے۔ وزیر اعلیٰ راوت اور ریاستی صدر کیشور میں ان دنوں سیاسی اہمیت کی کھینچا تانی زبردست طریقے پر چل رہی ہے۔ کانگریس کے سینئروں کے ساتھ ساتھ عام کارکنوں کو بھی راوت- کانگریس کے منظر میں آنے کا خوف ستا رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here