p-10bجون 2013 میں اتر اکھنڈ میں ہوئے حادثہ کے تین سال پورے ہونے کے بعد بھی سرکار گہری نیند سے بیدار نہیں ہوئی ہے۔ انوائرنمنٹ اسٹنڈرڈ کی اندیکھی کرکے علاقے میں پھر سے ڈیولپمنٹ کے کام تیزی سے کئے جارہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کی بار بار وارننگ کے باوجود بھی سرکار قدرتی آفتوں کو روکنے کے لئے بڑے باندھوں کی افادیت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میں اب بے بس عوام قدرتی آفت کو تقدیر کا کھیل مان کر تباہی و بربادی کو جھیلنے کے لئے مجبور ہے۔
بھاری بارش اور گلیشیر کے پگھلنے کو اس بڑے حادثے کی بنیادی وجہ بتانا اصل ایشوز سے منہ چرانے کے مترادف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ندیوں کے قدرتی راستے میں انسانی عمل کے ذریعہ رکاوٹ پیدا کرکے لگاتار ان کا راستہ بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے میں ندیوں پر بڑے بڑے باندھوں کی تعمیر نے اب قدرتی آفات کے اسکیل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جون 2013 کے حادثے کے پہلے قدرت نے کوئی انتباہ نہیں دیا تھا۔ اس سے پہلے 2012 کے اگست اور ستمبر مہینے میں اسّی گنگا اور کیدار گھاٹی میں بادل پھٹنے سے بھیانک تباہی ہوئی تھی۔ جون 2013 کے حادثے کا ایک سیاہ رخ یہ بھی ہے کہ الکنندا ندی پر بغیر وشنو پریاگ باندھ کا دروازہ کھولے دو کلو میٹر لمبی جھیل کی تعمیر ہوئی تھی۔ اس کے بعد پانی کے دبائو سے ایک دروازہ ٹوٹ گیا اور لام بگڑ، وینایک چٹی، پانڈوکیشور وغیرہ گائوں کی طرف پانی تیزی سے بڑھا۔ پانی کے تیز بہائو میں کئی گائوں، پل اور بازار بہہ گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے وشنو پریاگ باندھ کا دروازہ کھول دیا جاتا تو اس بھیانک حادثے کے زور کو کم کیا جاسکتا تھا۔ دیو ڈویژن سے 30 کلو میٹر اوپر سری نگر ہائیڈرو پاور پروجیکٹ نے بھی حادثے کی شدت کو بڑھانے کا ہی کام کیا۔ جون 2013 کے حادثے کے پہلے باندھ کے گیٹ آدھے کھلے تھے، ان کو پورا بند کر دیا گیا،جس سے باندھ کی جھیل کی آبی سطح تیزی سے بڑھی۔ بعد میں جب باندھ کے گیٹ پر پانی کا دبائو بڑھنے لگا تو کنارے کے رہنے والے لوگوں کو بغیر انتباہ دیئے آنا فاناً میں گیٹ کھول دیا گیا۔ مندا کنی ندی میں بھی پھاٹا بیونگ اور سنگولی بھٹواڑی جیسی کئی چھوٹے بڑے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ باندھ کی تعمیر میں دھماکہ خیز مادے کا استعمال،سرنگ اور پہاڑ کے اندر بنے پاور ہائوس اور دیگر تعمیری کاموں کا ملبہ اب مقامی لوگوں کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق باندھ منصوبوں کا 150لاکھ کیوبک میٹر ملبہ ندیوں میں بہا ہے، جس سے ان علاقوں میںندیاں زبردست تباہی لارہی ہیں۔
روی چوپڑا کمیٹی کی رپورٹ میں بڑے باندھوں کو انسانوں کے لئے تباہ کن بتایا گیا تھا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ماحولیات اور فوریسٹ کنٹرول اور اترا کھنڈ سرکار کو حکم دیاتھا کہ اترا کھنڈ سرکار سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک کسی بھی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو منظوری نہ دے۔ غور طلب ہے کہ اپریل 2014 میں سپریم کورٹ نے بھی اترا کھنڈ میں چل رہے 23 ہائیڈرو پاور پروجیکٹر بند کرنے کے حکم دیئے تھے۔ اس کے باوجود قدرتی آفتوں سے کوئی سبق نہ لیتے ہوئے سرکار نے ماحولیاتی معیار کا لحاظ رکھتے ہوئے وشنو گاڑ پیپل کوٹی اور لکھوار اسکیموں کو منظوری دے دی۔ سپریم کورٹ نے سرکار کو جلد روی چوپڑا کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔ سرکار نے روی چوپڑا کمیٹی کا سخت رخ دیکھ کر باندھ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایک اور نئی کمیٹی کی تشکیل کر دی۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس وقت کے ماحولیاتی وزیر پرکاش جاویکر کو خط لکھ کر کہا کہ جب تک کوئی کمیٹی اترا کھنڈ میں ہائیڈو پاور پروجیکٹ کو ہری جھنڈی نہیں دے دیتی، کیا تب تک آپ نئی کمیٹی بناتے رہیں گے۔ حالانکہ اس سے پہلے دسمبر 2014 میں انوائرنمنٹ منسٹری نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ قبول کیا تھا کہ اترا کھنڈ میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی وجہ سے جون 2013 میں آئی آفت کی تباہی بڑھی تھی۔اب حالات یہ ہیںکہ سپریم کورٹ میں دونوں کمیٹیوں کی رپورٹ داخل کی گئی ہے اور باندھ کمپنیوں نے بھی کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں لگا رکھی ہیں۔ سرکار اور باندھ کمپنیوںکی سانٹھ گانٹھ کی وجہ سے یہ ایشو قانونی دائو پینچ میں الجھ کر رہ گیاہے۔ لیکن سرکار کو یہ دیکھناہوگا کہ باندھوں کی حمایت اور مخالفت سے زیادہ اہم اترا کھنڈ اور یہاں آنے والے سیاحوں کی سیکورٹی اور ماحولیاتی تحفظ کا موضوع ہے۔
ترقی اور انرجی کے نام پر لوٹ
بڑے باندھوں کی مخالفت میں آندولن شروع ہوتے ہی سرکار فوری جاگ جاتی ہے۔ حالانکہ ہر سرکار کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ ماہرین ماحولیات کی مانگ اور آندولنوں کی وجہ سے کہیں باندھ کا کام نہ رک جائے۔ وہیں ماہرین ماحولیات کو نظر انداز کرنے والی باندھ کمپنیاں بھی باندھ پر ہوئے خرچ کا رونا رونے لگتی ہے۔پہلے تو باندھ کمپنیاں عوامی مفاد کو درکنار کر کے باندھ تعمیر پر زور دیتی ہے، بعد میں جب مقامی لوگ ماحولیاتی تحفظ اور اپنی سیکورٹی کی مانگ کو لے کر سڑک پر اترتے ہیں تو انہیں انٹی ڈیولپمنٹ بتایا جاتا ہے، ڈیولپمنٹ اینڈ انرجی کے نام پر پہلے تو فطرت کی کھل کر خلاف ورزی کی جاتی ہے اور بعد میں قدرتی آفتوں کی صورت میں عوام کو بے سہارا چھوڑ کر سرکار ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔ پھر شروع ہوتا ہے دوبارہ ترقی کے کام کرنے کے نا م پر پیسوںکا کھیل، جس میں پھر نئے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں اور پیسوں کی لوٹ میں بندر بانٹ ہوتاہے۔ اس میں عام آدمی کا کردار صرف تماشہ بین کا ہوتا ہے، جو سرکار اور باندھ کمپنیوں کی ملی بھگت کو سمجھ کر بھی ٹھکا سا محسوس کرتا ہے۔
اس ہاتھ لو اس ہاتھ دو
حالانکہ اب باندھ کمپنیوں نے مقامی لوگوں کی مخالفت کو دبانے کا ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ اب وہ باندھ تعمیر میں مقامی لوگوں کو چھوٹے چھوٹے ٹھیکے دینے لگی ہے۔اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ اب قدرتی آفت جھیلنے کے بعد بھی مقامی لوگ مخالفت کے لئے سامنے نہیں آتے ہیں۔ چھوٹے ٹھیکو ں کالالی پاپ تھما کر باندھ کی مخالفت کو دبا دینا باندھ کمپنیوں کی بڑی جیت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here