اتر پردیش: ذات پات میں الجھی سیاست

Share Article

اجے کمار
ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کبھی کانگریس کا مضبوط قلعہ تصور کی جاتی تھی، لیکن اب یہ دلت، پسماندہ اور مسلم سیاست کے عروج و زوال کا مرکز بن گئی ہے۔ کبھی جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی کی سیاسی جاگیر رہے اس صوبہ پر اب ملائم سنگھ اور مایاوتی جیسے لیڈروں کی سیاسی فصل لہلہا رہی ہے۔کبھی اقتدار کسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو کبھی کسی کے۔ دونوں ہی جماعتوں کے سورمائوں نے پہلے کانگریس کی زمین ہتھیائی ، اس کے بعد کچھ وقت کے لیے تیزی سے ابھر ی بی جے پی کو کنارے کر دیا۔آج کل مایاوتی کا اقتدار نیست و نابود کر کے سماجوادی اپنا پرچم لہرا رہے ہیں۔مایاوتی دلتوں کے طفیل سے اقتدار میں آئی تھیں، تو وہیں ملائم سنگھ اور اکھلیش مسلمانوں کے دم پر اقتدار میںواپسی کی بات تال ٹھوک کر مختلف اسٹیجوں پر کرتے ہیں۔

یاست میں سب سے بڑی سیاسی تبدیلی 1989میں نظر آئی۔ یہ وہ دور تھا، جب رام مندر تحریک پورے ملک میں رفتار پکڑ رہی تھی۔ کانگریس بھی اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہی تھی، لیکن ایودھیا میں وشو ہندو پریشد کو مندر بنانے کے لیے شلانیاس کرنے کی اجازت دینا کانگریس کو بہت مہنگا پڑا۔ حالانکہ کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت نے بابری مسجد سے دور شلانیاس کی اجازت دی تھی، لیکن پھر بھی مسلمان کانگریس سے ناراض ہو گئے۔ یہ نہ صرف ریاست بلکہ ملک کی سیاست میں بھی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ بوفورس اور بابری مسجد تنازعہ کے سائے میں ہوئے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں جنتا دل نے فتح حاصل کی اور بی جے پی کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔

اتر پردیش واحد ایسی ریاست ہو گئی ہے، جہاں وزیر اعلیٰ کھلے عام کسی مخصوص طبقہ کی تعریف میں قصیدہ خوانی کرتے ہیں۔ ویسے تو کانگریس کو ہی یہاں کی ذات پات پر مبنی سیاست کا بانی ماناجاتا ہے ۔ دانشمندوں اور ماہر معاشیات کے مطابق، ریاست میں ذات پات پر مبنی سیاست کی شروعات آزادی کے کچھ دنوں بعد ہی ہو گئی تھی۔ زمینداری کے خاتمہ کے بعد درمیانی سطح کی پسماندہ برداریوں کو ملی زمین سے 60 کی دہائی میں ’’سبز انقلاب‘‘ آیا، جس سے خوشحالی آئی اور اس نے پسماندہ طبقہ میں سیاسی طاقت بننے کی بھوک پیدا کی، جس کی آبادی قریب 57فیصد تھی۔سماجوادی آئیڈیولوجی کے حامل ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے ’’پچھڑا پاوے سو میں ساٹھ‘‘ کا نعرہ دیتے ہوئے پسماندہ طبقوں کی اس چاہت کو اصولی بنیاد دی تو چودھری چرن سنگھ نے اسے کافی حد تک آگے بڑھایا ۔ وی پی سنگھ کے وقت منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ ہونے کے بعد پسماندہ ذاتوں کی سیاست وسیع ہوتی چلی گئی۔ ریاست کے 9فیصد یادووں، 18فیصد مسلمانوں اور کچھ دیگر پسماندہ ذاتوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے خوب سیاسی طاقت حاصل کی۔ وہیں کانشی رام نے سرکاری نوکریوں میں آئے دلتوں میں بیداری پیدا کرنے کی شروعات کر کے دلتوں کو اپنے اختیارات کے تئیں بیدار کرنے کا کام مشن کی شکل میں کیا۔ ریاست کے 19 فیصد دلتوں اور دیگر کم و بیش ووٹوں کے ساتھ بی ایس پی نے اقتدار میں آنے کا راستہ اپنے لیے ہموار کیا۔
آزادی کے بعد کے زمانے میں ریاست میں کانگریس کا دبدبہ رہا۔ ریاست کی سیاست اس کے آگے پیچھے ہی گھومتی تھی۔ کانگریسیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے ریاست کی ترقی کا جتنا دھیان نہیں رکھا، اس سے کہیں زیادہ وہ ذات پر مبنی سیاست کو فروغ دیتے رہے۔ کبھی دلت اور مسلمان اس کے مضبوط ووٹ ہوا کرتے تھے۔ شاید انتخاب جیتنے کا یہ اس کا شارٹ کٹ راستہ تھا، جو کانگریسیوں کو خوب لبھاتا تھا۔ کانگریس کی ذات پر مبنی سیاست کا ہی نتیجہ تھا کہ ریاست میں آگے چل کر کئی ایسے قدآور لیڈر ہوئے، جنھوں نے ذات پر مبنی سیاست کو نہ صرف بڑھاوا دیا،بلکہ اس کے دم پر اقتدار کی سیڑھیاں بھی چڑھیں۔ذات پات کی سیاست سے ابھرے لیڈروں نے ہی کانگریس کو نیست و نابود کرنے کا کام کیا۔ آزادی ملنے کے کچھ دنوں بعد ریاست میں کانگریس کو چیلنج دینے کے لیے سوشلسٹ پارٹی اور بھارتیہ جن سنگھ کا طلوع ہوا، لیکن دونوں جماعتیں 15سال تک کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنے میں ناکام رہیں۔ 1967میں چودھری چرن سنگھ نے کانگریس سے الگ ہو کر ریاست میں پہلی بار غیر کانگریسی حکومت بنانے کا کرشمہ کر دکھایا۔ اس حکومت کی عمر زیادہ لمبی نہیں رہی۔ ایمر جنسی کے سائے میں ہوئے 1977کے انتخاب میں ملک اور ریاست میں جنتا پارٹی کی حکومت بنی، لیکن تین سال بعد ہی کانگریس پھر اقتدار میں واپس لوٹ آئی۔ریاست میں سب سے بڑی سیاسی تبدیلی 1989میں نظر آئی۔ یہ وہ دور تھا، جب رام مندر تحریک پورے ملک میں رفتار پکڑ رہی تھی۔ کانگریس بھی اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہی تھی، لیکن ایودھیا میں وشو ہندو پریشد کو مندر بنانے کے لیے شلانیاس کرنے کی اجازت دینا کانگریس کو بہت مہنگا پڑا۔ حالانکہ کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت نے بابری مسجد سے دور شلانیاس کی اجازت دی تھی، لیکن پھر بھی مسلمان کانگریس سے ناراض ہو گئے۔ یہ نہ صرف ریاست بلکہ ملک کی سیاست میں بھی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ بوفورس اور بابری مسجد تنازعہ کے سائے میں ہوئے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں جنتا دل نے فتح حاصل کی اور بی جے پی کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ جنتا دل حکومت میں بھی باہمی انتشار سامنے آیا۔ دوسری طرف مندر تحریک مزید تیز ہوتی گئی۔اس سے نمٹنے کے لیے وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کا کارڈ چلا تو بی جے پی نے لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کا۔ریاست میں اعلیٰ ذات کی آبادی 20 فیصد ہے۔ اس ووٹ بینک پر کبھی کانگریس کا راج تھا، لیکن رام لہر چلنے کے سبب یہ بی جے پی کی جھولی میں کھسک گیا۔ ان سب سے بالکل الگ کانشی رام کی قیادت میں ایک خاموش انقلاب چل رہا تھا،جسے دلت ترقی کا نام دیا گیا۔ اس میں پسماندہ طبقوں کے لیے تو جگہ تھی ،لیکن اعلیٰ ذاتوں کے لیے دروازے بالکل بند تھے۔ بی ایس پی نے پہلی بار 1989میں ریاستی اسمبلی میں اپنے قدم رکھے اور اس کے 13امیدوار انتخاب جیتے۔ منڈل اور مندر کی سیاست سے یہ طبقہ محفوظ تھا۔
1991میں رام لہر کے باوجود بی ایس پی نے 12سیٹیں جیت لیں اور اسے 9.52 فیصد ووٹ ملے۔ 1992 میں بابری مسجد منہدم کرنے کے بعد بی جے پی یہ مان کر چل رہی تھی کہ اس کے حق میں ہندو اکثریت ہے۔ملائم سنگھ یادو یہ جان چکے تھے کہ بی جے پی کو اکیلے روک پانا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا، یہی سوچ کر انھوں نے بی ایس پی سے ہاتھ ملایا، جس نے بھاری پھیر بدل کیا۔ بی ایس پی کو 67 سیٹیں ملیں اور 11.11 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ بی جے پی اقتدار سے باہر ہو گئی اور دلتوں نے پہلی بار اقتدار کا ذائقہ چکھا، لیکن بی ایس پی کے بانی کانشی رام اور مایاوتی کی نگاہیں کہیں اور ہی تھیں۔ کانشی رام نے ریاست میں اپنا سیاسی جانشیں مایاوتی کو بنا دیا۔ اس درمیان ریاست میں سماجوادی، بی ایس پی کا اتحاد گھسٹ گھسٹ کر چلتا رہا ۔ آخر کار مئی 1995 میں بی جے پی اور بی ایس پی کے درمیان غیر متوقع معاہدہ ہوا۔ بی ایس پی نے ملائم سنگھ یادو حکومت سے حمایت واپس لے لی ۔ بی ایس پی کے اراکین اسمبلی کو اغوا کرنے کا واقعہ 2جون کو پیش آیا، آخر کار پھر مایاوتی وزیر اعلیٰ بنیں اور ریاست کے دلتوں کوپہلی بار اپنا وزیر اعلیٰ ملا۔ اس پورے سلسلہ نے ریاست میں ذات پات پر مبنی سیاست کی زمین کو مزید پختہ کر دیا۔ مایاوتی حکومت صرف پانچ مہینے ہی چل سکی، لیکن اس نے بی ایس پی کو مزید تقویت دی۔ اس کا ردعمل بھی ہوا اور ملائم سنگھ کے حق میں مسلمان اور یادو رائے دہندگان پولرائز ہوئے۔1996کے اسمبلی انتخاب میں بی ایس پی نے کانگریس سے ہاتھ ملا کر پسماندہ اور دلتوں کو ساتھ لے کر اپنی طاقت بڑھانے کا تجربہ کیا۔ اس نے 67سیٹیں جیتیں اور اسے 19.67فیصد ووٹ ملے۔ بی جے پی اور بی ایس کے درمیان6-6مہینے وزیر اعلیٰ کے لیے سمجھوتہ ہوا اور مایاوتی پھر اقتدار میں آئیں۔ بی ایس اور بی جے پی کا یہ قرار پھر ٹوٹا۔2002کے اسمبلی انتخاب بی ایس پی اکیلے دم پر لڑی اور 98سیٹیں جیت کر بی جے پی کو تیسرے نمبر پر دھکیلنے میں کامیاب رہی۔ اس بار بی جے پی نے دلتوں اور اعلیٰ ذاتوں پر بھروسہ کیا تھا، جو دھرا کا دھرا رہ گیا۔ 2002کے اسمبلی انتخاب میں دلت اور اعلیٰ ذاتوں کے اتحاد کے قابل قدر نتائج نظر آئے۔ بی ایس پی نے 2007کے اسمبلی انتخاب میں بھی اسے آگے بڑھایا۔ بی ایس پی سوشل انجینئرنگ کے دم پر 206 سیٹیں حاصل کر کے تقریباً ڈیڑھ دہائی کے بعد ریاست میں اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ اسے دلتوں کے علاوہ پہلی بار اچھی خاصی تعداد میں اعلیٰ ذات کہلانے والی برادریوں کے ووٹ ملے۔ ساتھ ہی کچھ فیصد ووٹ مسلمانوں کے بھی ملے۔ اقتدار میں آنے کے بعد مایاوتی نے اپنی سیاست ’’سروجن ہتائے سروجن سکھائے‘‘ کی پالیسی پر آگے بڑھانے کی کوشش تو کی، لیکن دلت ان کے ایجنڈے میں سب سے آگے رہے۔ ادھر ملائم سنگھ کلیان سنگھ سے دوستی کرنے کے لیے مسلمانوں سے معافی مانگتے رہے اور ان کے مسائل کو اٹھاتے رہے۔ خواہ معاملہ سچر کمیٹی کا ہویا پھر رنگناتھ مشرا کمیشن کا، سماجوادی پارٹی مسلمانوں کے قریب آنے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑتی تھی۔کانگریس بھی اپنی واپسی کے لیے مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے میں مصروف تھی، لیکن اس کی کچھ مجبوریاں بھی تھیں۔ کانگریس کے پاس مرکز کا اقتدار تھا، ملائم سنگھ اس پر مسلمانوں کے مفاد میں فیصلہ لینے کا دبائو بناتے تھے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے کچھ فیصلے تو لیے ،لیکن ا ٓئین کے برعکس کام کرنے کے سبب اسے فضیحت اٹھانی پڑی۔ ملائم سنگھ ہوا میں تیر چلاکر مسلمانوں کو خوش کرنے کا کھیل کھیلتے رہے۔ وہ کانگریس کی مرکزی حکومت اور بی ایس پی کی ریاستی حکومت کو مسلم مخالف قرار دینے میں لگے رہے۔ مسلمانوں کو ان کی باتوں پر یقین ہو گیا اور انھوں نے اس بار سماجوادی پارٹی کو اکثریت کے ساتھ اقتدار میں پہنچا دیا۔ لہٰذا ایک بار پھر ریاست کی سیاست پر ذات پات کا کھیل حاوی رہا، جسے سماجوادی حکومت آگے بڑھانے میں لگی ہوئی ہے۔ اس نے عوام کا دکھ درد ذات پات کے نظریہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی جس طرح کا رویہ اپنا رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ اسے صرف مسلمانوں نے جیت دلائی ہے اور وہ انہیں کے لیے کام کرے گی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اکھلیش حکومت اے ٹی ایم (اہیر، ٹھاکر، مسلم) سے چل رہی ہے۔
اتر پردیش ذات پات کی سیاست سے کب نجات پائے گا، اس بات کے امکانات کم ہیں۔ نوجوان طبقہ بھی بنیادی تبدیلیوں کو نظر انداز کر کے ذات پات کے سہارے فوراً فائدہ اٹھانے کے لیے بیتاب نظر آتا ہے۔ ماہرسماجیات ریاست میں خواندگی اور ترقی کا فیصد بڑھنے سے ذات پرست طاقتوں کے کمزور پڑنے کا اندازہ لگا رہے تھے، وہ بھی نظر نہیں آیا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر دیپک ملک کہتے ہیں کہ امید کے برعکس نوجوان طبقہ ذات پرستی اور فرقہ پرستی کی سیاست کا ہتھیار بن گیا ہے۔ وہ ذات پرستی کی سیاست کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ تک نظریاتی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ذات پرستی کی سیاست کو خارج کرنے اور سماج میں بنیادی تبدیلی کے لیے کام کرنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل کمی آ رہی ہے۔ پورا سماج اس فوری مفادات کی طرف دیکھنے کے رجحان کا شکار ہو گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *