اتر پردیش میں اب مرغی کے فضلہ سے بجلی اور سی این جی کی پیداوار ہوگی

Share Article

 

غازی آباد، اتر پردیش کے تمام اضلاع میں اب پولٹری فارم کے لئے بڑی خبر ہے۔ پولٹری فارم میں مرغی کے فضلہ (بیٹ) سے حکومت اب جلد بجلی اور بائیو توانائی سی این جی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس منصوبہ کے لاگو ہونے کے بعد مرغی کے فضلہ سے ہونے والی بیماری سے نہ صرف نجات ملے گی بلکہ بجلی اور بایو توانائی کی قلت سے بھی راحت ملے گی۔ اس سلسلے میں تکنیکی تعاون کے لئے حکومت نے بائیو توانائی ڈیولپمنٹ بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ پر کل 70 لاکھ فی یونٹ کی لاگت آئے گی۔

 

یہ اطلاع ضلع ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر وجیندر تیاگی نے دی ہے۔ڈاکٹرتیاگی نے بتایا کہ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے حکم نامہسبھی اضلاع کو جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن پولٹری فارم کے پاس کم از کم 30 ہزارمرغیاں ہیں، انہیں یہ ٹیکنالوجی مہیا کی جائے گی۔ اس منصوبہ کے تحت پولٹری فارم کے لئے بینک قرض اور گرانٹ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 ہزار سے زیادہ مرغی پالنے سے پانچ میٹرک ٹن فضلہ (بیٹ) جمع ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جنریٹر چلا کر بجلی اور سی این جی کی پیداوار کیا جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی تک امریکہ، آسٹریلیا، برازیل جیسے ترقی یافتہ ممالک میں تھی۔ اب اسے ہندوستان میں بھی لایا جا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *