عابد انور
ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریباً 65 برس ہوچکے ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں یہاں کے عوام اور سیاسی لیڈروں کا ذہن جمہوری نہیں ہوسکا۔ وہ ہمیشہ اسی تاک میں رہے کہ انہیں کب موقع ملے کہ وہ ہڑپ کرجائیں، خواہ وہ اقتدار ہو، دولت ہو یا کوئی اور چیز۔ محنت کی بجائے شارٹ کٹ اپنانا یہاں کے لیڈروں کاہمیشہ وطیرہ رہا ہے۔ اگر ایک بار اقتدار میں آگئے تو ریٹائرمنٹ کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ان کی خواہش ہوتی کہ ان کی موت اسی وقت آئے جب وہ وزیر ہوں یا گورنر ہوں یا کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوں۔ ان کے جتنے بھی بیانات یا پالیسیاں ہوتی ہیں سبھی کا دائرہ اقتدار کے حصول تک محدود ہوتا ہے ۔ ہر کام وہ اسی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں کہ اگر اس میں ان کا کوئی فوری فائدہ نہیں ہے تو ان کے بچوں کا ضرور ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لیڈروں نے ان علاقوں پر توجہ دی جہاں ان کی جائدادیں تھیں، جس کی وجہ سے وہ اربوں میں کھیلنے لگے۔ ان علاقوں میں کام کرنے سے ہمیشہ گریز کیا جہاں سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ وابستہ نہیں رہا۔ بندیل کھنڈ کے بارے میں ہم آئے دن اخبارات میںپڑھتے رہتے ہیں۔ بھکمری، پانی کی کمی، زراعت کی کمی، قحط، لوگوں کا بڑے پیمانے پر علاقوں کو چھوڑنا وغیرہ وغیرہ، جب کہ وہاں معدنیات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ، ایچ ڈی دیوگوڑا ور اندر کمار گجرال وغیرہ کو چھوڑ دیں تو سارے وزرائے اعظم اترپردیش سے ہی آئے ہیں، لیکن اس کے باوجود تعلیم، صحت خدمات اور دیگر بنیادی مسائل سے یہ ریاست ہمیشہ دوچار رہی ہے۔ جرائم کے معاملے میں اس کا اپنا ریکارڈ بھی رہا ہے۔ آخر وجہ کیاہے کہ اترپردیش جو ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ہونے کا تاج رکھتا ہے، اس قدر مسائل کے دلدل میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگ کام کاج کے لیے دوسری ریاستوں میں کیوں جاتے ہیں۔ اس میں کس کی خطا ہے ، آخر کون ہے اس کا ذمہ دار؟ یہاں کے سیاسی رہنمائوں میں جوابدہی کا فقدان ہے۔ وہ عوام سے صرف انتخابات تک ناطہ رکھتے ہیں، بیشتر ممبران پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈ کی رقم خرچ ہی نہیں ہوپاتی۔ بہ مشکل ہندوستان میں بھر میں پانچ دس فیصد ممبران پارلیمنٹ ہوں گے جو پوری ترقیاتی رقم خرچ کرتے ہیں۔اس کی وجہ سے لوگوں میں وفاق کے تئیں نفرت پیداہوتی ہے اور جگہ جگہ سے الگ ریاست ، الگ ضلع یہاں تک کہ بعض جگہ الگ ملک بنانے کی بھی مانگ زور پکڑتی ہے۔
اترپردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی مانگ عوامی نہیں ہے ۔ عوام نے اس کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں چلائی، سوائے اجیت سنگھ کے جنہوں نے ہرت پردیش کا نعرہ دیا تھا، لیکن ان کی سیاسی وفاداریاں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں اور ان کا مطالبہ ہمیشہ حصول اقتدار کے ارد گردتک ہی محدودرہا ہے۔ اترپردیش سے الگ ہونے والی ریاست اتراکھنڈ کے لیے تحریک ضرور چلائی گئی تھی۔ اس وقت یوپی میں ملائم سنگھ کی حکومت تھی اور ملائم سنگھ ہمیشہ متحدہ اترپردیش کے علمبردار رہے ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر اترپردیش کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور ان کے دور میں یہ تفسیم بھی نہیںہوئی۔  9 نومبر 2000 کو اترانچل کے عارضی نام سے ریاست وجود میں آئی، جسے بعد میں بدل کر اتراکھنڈ کردیا گیا ۔ اتراکھنڈ ریاست کی تحریک سے وابستہ متعدد تنظیمیں سرگرم تھیں۔ 1994 میں جب رضاکاروںاور تحریک چلانے والوں کی ایک ریلی دہلی میں ہونے والی تھی اور جب  رضاکاروں اور سماجی کارکنوں کو لے کر بس یکم اکتوبر 1994 کو مظفر نگر پہنچی تو بس روکی گئی اور معاملہ بگڑ گیا اور نوبت پولس فائرنگ تک آگئی تھی، جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر دست درازی اور آبروریزی ہوئی تھی۔ اس کا مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں چلا تھا۔ اس وقت اس پر کافی بحث ہوئی تھی اور خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا تھا، اس پر ملائم سنگھ حکومت پر کافی تنقید کی گئی تھی۔ اب یہ صورت حال نہیں ہے، کہیں کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے، گاہے بگاہے پوروانچل کی آواز سنائی دے جاتی ہے، لیکن اس کی حیثیت نقار خـانہ میں طوطی کی آواز سے زیادہ کی حیثیت نہیں ہوتی۔ جب کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے اور نہ ہی مطالبہ کیا جارہا ہے تو آخر اترپردیش کی وزیر اعلیٰ محترمہ مایاوتی نے آناً فاناً ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا تقسیم ہی اترپردیش کی فلاح بہبود اور ترقی کی کنجی ہے ؟ اس کے پیچھے کیا سیاسی مقاصد کارفرما ہیں؟ یا صرف اقتدار میں بہت سے لوگوں کی شراکت داری مقصود ہے تاکہ کئی سارے لوگ مل کر ریاست کو لوٹ سکیں۔
مایاوتی کو لوگوں نے بہت ہی امید کے ساتھ بلاشرکت غیرے اقتدار پر بٹھایا تھا کہ وہ نہ صرف ریاست کو ترقی دیں گی بلکہ کمزور، محروم طبقوں، دلتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی مسلسل نا انصافیوں کا مدوا کریں گی، لیکن اترپردیش میں جس طرح کے واقعات پیش آئے اور خود مایاوتی نوٹوں کے ہار سے لے کر کئی تنازع میں پھنسیں، اس سے ان لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ جرائم کا گراف جس قدر تیزی سے بڑھا وہ بھی اپنے میں ریکارڈ ہے۔ گرچہ انہوں نے اپنے ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کو پولس کے حوالے کیا، لیکن اس سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کے ممبران اور وزراء پر بدعنوانی سمیت آبروریزی، قتل، دھمکانے، زمین ہڑپنے اور دیگر سنگین الزام لگتے رہے ہیں ۔ مایاوتی امن و قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ان کا جو نعرہ تھا ’’بھے مکت سماج‘‘ وہ کبھی پورا نہیں ہوا۔ خواتین وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود خواتین کے ساتھ چھیڑ خوانی، قتل، آبروریزی کے واقعات کی وجہ سے ریاست اترپردیش ہمیشہ سرخیوں میں رہی۔ ان کی ساری توجہ یادگار قائم کرنے، مورتیاں نصب کرنے، پارک بنوانے ، اپنا اور اپنی پارٹی نشان ہاتھی کا اسٹیچو بنانے تک ہی محدود رہی۔مایاوتی کا ایک اور مقبول عام نعرہ ’’سروجن ہتائے، سرو جن سکھائے‘‘ صرف یوپی روڈویز بسوں اور بورڈوں پر ہی چسپا ں ہوکر رہ گیا۔ عملی طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کیاگیا۔ مایاوتی نے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران سوشل انجینئرنگ، برہمن، مسلم اور دلتوں کے اتحاد کا نعرہ دے کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ہمیشہ اکیلی بیٹھتی تھیں، لیکن گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران اور اقتد ار میں آنے کے بعد بھی ایک طرف ستیش چند مشرا (برہمن) او ر دوسری طرف نسیم صدیقی (مسلم) کے ساتھ نظر آتی تھیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے دل میں تمام لوگوں کے لیے یکساں احترام ہے۔
دراصل چار ریاستوں کی تقسیم کا فارمولہ مایاوتی کے مشن 2012 کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔وہ اسے ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ مغربی یوپی بی ایس پی کے لیے کبھی بھی آسان نہیں رہا، اس لیے انہوں نے تقسیم کا یہ فارمولہ پیش کیا ہے تاکہ ووٹروں کو آسانی سے لبھایا جاسکے۔ وہ اس علاقے کے اہم ووٹر جاٹ اور مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی وکالت پہلے ہی کرچکی ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات 2007 میں مغربی یوپی کی زمین یعنی نوئیڈا ،غازی آبادسے لے کر ایٹہ، آگرہ اور بریلی ، پیلی بھیت سے میرٹھ ، سہارنپور تک بی ایس پی صرف 63 نشستیں جیت پائی تھی، باقی 157 سیٹوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس نقصان کی تلافی وہ تقسیم کا لالی پاپ دے کر کرنا چاہتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی پہل شروع کرتے ہوئے اس سلسلے میں اہم تجویز 15نومبر کو ریاستی کابینہ سے پاس کرا لی ہے۔ اب ریاست کو پوروانچل ، بندیل کھنڈ ، اودھ پردیش اور مغربی اترپردیش میں تقسیم کرنے کی تجویز قانون ساز کونسل سے پاس کرکے مرکزی حکومت کو بھیجی جائے گی۔ ریاست کی تقسیم کی سمت میں بی ایس پی حکومت کا یہ پہلا اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی مایاوتی نے اس معاملہ میں گیند مرکزی حکومت کے پالے میں ڈال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تین کے تحت نئی ریاستوں کی تشکیل، اس کے نام میں تبدیلی کرنے اور دوبارہ تشکیل دیے جانے کے معاملے میں فیصلہ مرکزی حکومت کو کرنا ہوتا ہے۔مایاوتی کا موقف یہ ہے کہ ریاست کی ترقی کے لیے چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ناگزیر ہے ۔ مایاوتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے ریاست کی ترقی کے لیے 80 ہزار کروڑ کے مالی پیکیج کا مطالبہ کئی بار مرکزی حکومت سے کی ہے، لیکن اس معاملے میں ابھی تک کوئی مثبت پہل نہیں کی گئی ہے، اس لیے ریاست کو چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کیا جانا ضروری ہے۔
مایاوتی کے اس اعلان کے ساتھ ہی ریاست میں سیاسی پارہ کافی گرم ہوگیا ہے۔ مایاوتی کے حریف اور اترپردیش کی تقسیم کے کٹر مخالف ملائم سنگھ یادو نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مایاوتی کی سازش ہے۔ یہ محض عوام کے بیوقوف بنانے اور اپنی سیاسی روٹی سینکنے کی ایک کوشش ہے۔ ملائم سنگھ کسی قیمت ریاست کا بٹوارہ نہیں چاہتے۔ انہوں نے مایاوتی سے سوال کیا کہ اگر وہ ریاست کی ترقی چاہتی تھیں تو چاڑھے سال سے کہاں تھیں۔مایاوتی کے اس قدم کو تمام سیاسیی پارٹیوں نے سیاسی کرتب بازی سے زیادہ کچھ قرار نہیںدیا ہے۔ لیکن ملائم سنگھ کے علاوہ کسی بھی پارٹی نے اس پر کھل کر اپنی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔ حالانکہ بی جے پی بھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کی حامی رہی ہے، لیکن یہاں معاملہ سیاسی فائدہ اٹھانے کا ہے اور وہ مایاوتی کو سیاسی فائدہ اٹھانے دینا نہیں چاہتی۔ اترپردیش ہی واحد ایسی ریاست ہے جہاں سے سب سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوکر آتے ہیں اور یہ ریاست مرکزی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس لیے یوپی اسمبلی کے آئندہ انتخابات یہ بھی طے کریں گے کہ مشن 2014 کون فتح کرے گا۔
تقسیم خواہ کسی بھی چیز کی ہو، ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ تقسیم ہونے والے کبھی ایک دوسرے کے دوست نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں زیادہ یقین رکھتے ہیں۔  ہندوستان میں بھی حالیہ عرصہ میں کئی ریاستوں کی تشکیل ہوئی ہے، لیکن معاملہ جوں کا توں ہے۔ جھارکھنڈ کو ایک ناکام ریاست کہا جاسکتا ہے۔ جھارکھنڈ معدنی دولت سے مالامال ہے، لیکن ترقی کے لیے ترس رہا ہے ۔ ترقی چھوٹی ریاست کی تشکیل سے نہیں ہوتی ہے بلکہ لیڈرشپ سے ہوتی ہے ۔ وسائل کے صحیح استعمال اور عزم کے اظہار سے ہی صحیح معنوں میں کسی ریاست کو ترقی دی جاسکتی ہے۔ اس وقت اترپردیش میں وہ سب کچھ ہے جو ترقی کے لیے ضروری  ہے، لیکن تقسیم کے بعد وہ صورت حال برقرار رنہیں رہے گی۔اترپردیش اس وقت سیاحت، معدنیات، صنعت، آئی ٹی آئی، تعلیم اور ترقی کے لیے درکار دیگر سیکٹروں وسائل سے مالا مال ہے، لیکن تقسیم کے بعد سب ایک دوسرے سے پچھڑ جائیں گے اور ترقی کا سلسلہ بھی رک سکتا ہے۔ اتر پردیش کی تقسیم کب ہوگی ، ہوگی بھی یانہیں یہ کہنا ابھی مشکل ہے، کیونکہ اسے مکمل قانونی عمل سے گزرنا ہوگا۔ اتراکھنڈ کے بارے میں اتر پردیش اسمبلی میں کئی بار قرارداد منظور ہوئی، پھر بھی کئی عشرے لگ گئے تھے۔ تقسیم کا یہ سوال اتر پردیش سے کہیںزیادہ مرکزی حکومت کے لیے درد سر ہے، کیونکہ اس کے آگے پہلے سے تلنگانہ کا معاملہ سراٹھائے کھڑا ہے۔حالانکہ چھوٹی ریاستیں انتظامی نقطہ نظر سے آسان سمجھی جاتی ہیں۔ ان چاروں مجوزہ ریاستوں کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی حالات ایک ہونے کی وجہ سے ان کے ترقی کی پالیسی بنانے میں سہولت ہوگی اور شبیہ کو بہتر کرکے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف کھینچی جاسکتی ہے۔ تقسیم کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب سیاسی پارٹیوں کی امنگوں سے نکل کرعوامی خواہشات کے سانچے میں ڈھلے اور عوامی فلاح بہبود کی راہ پر چلے ۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here