پربھات رنجن
سماج وادی پارٹی کے اندرونی جھگڑے، اختلاف اور روٹھنے اور منانے کی کہانی تقریباً پانچ سال سے چل رہی ہے۔اختلاف کی یہ روایت اتنی چل پڑی ہے کہ نکڑ چوراہوں سے لے کر سماج وادی پارٹی کے کارکن تک اس کہانی کو دوہرانے لگے ہیں۔طوطا مینا کی کہانی تو پرانی ہوگئی ،مگر سماج وادی پارٹی میں طوطا مینا کی کہانی اب پھر سے دوہرائی جارہی ہے۔
اسمبلی انتخاب میں کچھ ملنا تو ہے نہیں،پھر کیوں نہیں ایک دوسرے کے سر پر پہلے ہی الزام تراشی کے ٹھیکرے پھوڑ لئے جائیں۔ حالانکہ کچھ سماج واد لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اندرونی اختلاف کی تنقید عوام کے درمیان ملائم سنگھ بہت سوچ سمجھ کر کر رہے ہیں۔ملائم سیاست کے دونوں دروازے کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف مسلم پرستی تو دوسری طرف اکھلیش کی انفرادی شبیہ کی تعمیر (پرسنل امیج بلڈنگ) ۔ سیاسی تماشے میں دونوں ساتھ ساتھ چلتا رہے۔ شیو پال اپنے ساتھ توہین کی باتیں کررہے ہیں،استعفیٰ کی دھمکی دے رہے ہیں،کچھ وزیروں کی بد عنوانی اور جرائم میں ملوث ہونے کے کردارp-3 کے بارے میں بول رہے ہیں،لیکن وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو اچھا اچھا بتا رہے ہیں۔
ملائم سنگھ بھی اپنے بھائی کی حمایت میں وزیر اعلیٰ کو ہڑکا رہے ہیں، شیو پال کے خلاف سازش کرنے والوں کو دیکھ لینے اور نکال باہر کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،سرکار کے کچھ وزیروں کے خلاف سخت مذمتی تجویز پیش کررہے ہیں،لیکن بیٹے اکھلیش کے خلاف کچھ نہیں بول رہے ہیں، بلکہ اکھلیش کو اچھا اچھا بتا رہے ہیں۔ ملائم سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ہیں۔ وہ کسی بھی لیڈر کے خلاف سیدھی کارروائی کرنے کے اہل ہیں اور اس کا انہیں حق ہے،لیکن وہ ایسا نہیں کررہے ہیں۔ وہ ایسا کیوں نہیں کررہے ہیں؟سماج وادی پارٹی کے ایک نظر انداز کئے ہوئے لیڈر نے کہا ’ سب گول مال ہے بھئی سب گول مال ہے‘اس گول مال کی سب سے اہم سچائی ہے مسلم طبقے میں یہ پیغام بھیجنا کہ ان کے لئے پارٹی تقسیم ہو سکتی ہے، ان کے لئے ملائم اپنے بیٹے کو بھی آڑے ہاتھوں لے سکتے ہیں،ان کے لئے پارٹی قربان ہوسکتی ہے۔ بدنام مافیا سرغنہ مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کا اتر پردیش میں سیاسی اثر اتنا بھلے ہی نہیں ہو،لیکن مختار بھائی جان کا مذہبی،سماجی مجرمانہ اثر کتنا گہرا ہے، یہ اتر پردیش کے لوگ اور خاص طور پر مشرقی اترپردیش کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔ قومی ایکتا دل کے سماج وادی پارٹی میں ضم ہونے کی ضد ملائم کے مسلم پیار کی سند ہے، جسے مشعل کی طرح لے کر شیو پال آگے آگے چل رہے ہیں۔
اس کے برعکس سماج کے دوسرے طبقوں میں اپنی نظریاتی شبیہ کھڑی کرنے کی اکھلیش کی جدو جہد بھی صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ اس گول مال کا مطلب اقتصادی پہلو بھی ہوسکتا ہے،جس کی بے چینی شیو پال کی بولی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ کمائی اکھلیش کی ہو رہی ہے اور اکھلیش کے چہیتے وزیروں کی ہو رہی ہے۔ دوسرے خیمے کے وزیر رین شیڈو علاقے میں پڑ گئے ہیں۔کمائی میں نوکر شاہی کے کچھ خاص حکومت کی حمایت یافتہ چہرے دھنو سیٹھ کی شکل میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ کچھ نوکر شاہوں کی کچھ چل نہیں پارہی ہے۔ یہاں تک کہ شیو پال کی پسند کے چیف سکریٹری دیپک سنگھل تک وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے سینسر کا شکار ہیں۔
سیاست کے گلیارے میں تو یہ بھی چرچا ہے کہ دیپک سنگھل کو چیف سکریٹری کی کرسی سے جلد ہی کھسکائے جانے کی تیاری ہے۔ اب آپ جب خبر کی تفصیل میں جائیں گے تو سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کی بولی اور بیانوں کے مضمرات آپ کی سمجھ میں صاف صاف آئیں گے۔
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر، پارٹی کے سابق ریاستی صدر ، ملائم سنگھ یادو کے بھائی، وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے چاچا اور اترپردیش سرکار کے کابینی وزیر شیو پال یادو نے گزشتہ دنوں مین پوری کے ایک عام اجلاس میں صاف طور پر کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور آفیسر جوا اور نقلی شراب کا دھندہ کررہے ہیں۔آفیسر ہماری سنتے نہیں ہیں۔ پارٹی کے لوگ زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی دھندوں میں لگے ہوئے ہیں، لیڈر تھانے کی دلالی کرتے ہیں، ریاست میں لاء اینڈ آرڈر نام کی چیز نہیں ہے۔ حالات نہیں سدھرے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔شیو پال نے کہا کہ تھانوں، تحصیلوں میں عوام کے کام نہیں ہورہے ہیں، زمینوں پر قبضہ کرنے والے، نمبر دو کا کام کرنے والے افسران کی وجہ سے سماج وادی پارٹی بدنام ہو رہی ہے۔ ہمارے کچھ کارکنوں ، عہدیداروں کے غلط کام کی وجہ سے اور زمین پر جبرا ً غیر قانونی قبضہ کرنے اور عوام کو ہراساں کئے جانے کی وجہ سے عام آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہے۔ تھانوں اور تحصیلوں میں عوام کی بات نہیں سنی جاتی۔ بار بار ہدایتوں کے بعد بھی کچھ عہدیداروں کے طریقہ کار میں سدھار نہیں ہو رہی ہے۔ ایسے میں استعفیٰ کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا۔ شیو پال بولے کہ تعمیراتی کاموں میں معیار کی اندیکھی کی جارہی ہے، اسٹی میٹ میں 10فیصد کا منافع ٹھیکہ دار کا ہوتا ہے پھر بھی انجینئر 20 فیصد تک ایسٹی میٹ بڑھا کر بناتے ہیں،لیکن اس کے بعد بھی معیار کے مطابق کام نہیں ہو رہا۔ یہ کہتے کہتے شیو پال یہ بھی بول گئے، میرا من کہیں سے انتخاب لڑنے کا نہیں ہے۔میں 2017 کے انتخاب میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے صرف تشہیر کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہیں سے بھی ٹکٹ کی مانگ نہیں کی ہے اور نہ کروں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ عجیب و غریب صورت حال ہے کہ سماج وادی پارٹی کے ہی دبنگ لوگ کمزور لوگوں کا استحصال کررہے ہیں، زمین پر قبضے جاری ہیں۔ تھانوں اورتحصیلوں میں دلالوں کا بول بالا ہے۔اگر یہ نہیں رک پایا تو وہ استعفیٰ دے کر اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔
شیو پال کے اس بیان کی خبر ملتے ہی سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم نے انہیں بلایا اور تفصیل سے بات کی۔ اگلے دن یوم آزادی کے موقع پر پارٹی دفتر میں منعقد جھنڈا لہرانے کی تقریب کے بعد ملائم نے اپنی تقریر میں یہ ایشو اٹھا دیا اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی موجودگی میں سرکار کے وزیروں اور نوکر شاہوں پر پھٹ پڑے۔ملائم نے جیسے ہی کہا کہ شیو پال کے خلاف سازش ہو رہی ہے، پورے اجلاس میں سکتہ طاری ہوگیا ۔ملائم نے کہا کہ شیو پال کام کررہے ہیں اور لوگ انہیں روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیو پال پہلے بھی دو بار استعفیٰ کی پیشکش کر چکے ہیں۔ ملائم خم ٹھونک کر بولے کہ اگر شیو پال گئے تو پارٹی بکھر جائے گی۔ ملائم نے کہا کہ اگر شیو پال چلے گئے اور میں کھڑا ہو گیا تو آدھے لوگ ادھر چلے جائیں گے اور آدھے میرے ساتھ۔ ملائم سنگھ یادو جب پارٹی دفتر میں منعقد اجلاس میں ناراضگی ظاہر کررہے تھے، وہاں موجود وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو مسکرا رہے تھے۔ ملائم رَو میں تھے، اسی درمیان پرائیویٹ سکریٹری اروند یادو نے ملائم کو پرچی دے کر یہ یاد دلایا کہ میڈیا والے بھی وہاں موجود ہیں۔ اس پر ملائم نے کہا، یہ سچائی ہے۔ اسے میڈیا کو جاننا چاہئے ۔ اس کے لئے میں پھر الگ سے میڈیا کو تھوڑے ہی بلائوں گا۔ پارٹی میں جو ہو رہا ہے، اسے میڈیا کو جاننا ہی چاہئے، ملائم نے کہا کہ اگر شیو پال نے استعفیٰ دیا تو سرکار ہل جائے گی۔ ملائم نے نوٹ گننے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا، اکھلیش کے وزیر صرف پیسہ گنتے ہیں۔ ایسے وزیر پارٹی پر بوجھ ہیں۔ کئی وزیر بد عنوانی میں ملوث ہیں ۔اگر ایسے لوگ نہیں سدھرے تو میں ان سب کو پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں وزیر اعلیٰ سے کئی بار ایسے لوگوں کے بارے میں بتا چکا ہوں،لیکن وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے، میری بات ہی نہیں مانتے۔
ملائم نے کہا کہ اتر پردیش سرکار کے زیادہ تر وزیر تو بنگلے میں ہی بیٹھے رہتے ہیں۔ انہیں اے سی کی عادت لگ گئی ہے۔ وہ ریاست میں دورہ نہیں کررہے ہی۔ شیو پال کی پارٹی میں توہین ہورہی ہے۔ان کے استعفیٰ کی پیشکش غلط نہیں ہے۔ شیو پال نے استعفیٰ دے دیا تو پارٹی کی ایسی تیسی ہو جائے گی۔ اکھلیش کی موجودگی میں نیتا جی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے وزیر محتاط رہیں۔ عوام سرکار بنانا اور ختم کرنا جان گئی ہے۔میں سب جانتا ہوں کہ شیو پال کے خلاف کون کون سازش کررہے ہیں، اس کا پیغام اچھا نہیں جارہا ہے، شیو پال کی توہین ہو رہی ہے،وہ غلط استعفیٰ نہیں دے رہے ہیں۔ ملائم نے پارٹی کے سمٹ جانے کے لئے بھی اکھلیش کو لپیٹ لیا اور کہا کہ سماج وادی پارٹی قومی پارٹی سے چھوٹی سطح پر آگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں اکھلیش کو خود جانا چاہئے تھا، لیکن وہاں وزیر کو بھیج دیا۔ نتیجہ مدھیہ پردیش میں بھی سماج وادی پارٹی ختم ہو گئی۔ اب صرف یو پی میں بچی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ملائم پہلے بھی عوامی طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پارٹی کے لیڈر زمین قبضہ کرنے اور پیسہ کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو وہ پارٹی چھوڑ دینے کی صلاح دے چکے ہیں۔
بہر حال اس اختلاف کے درمیان مافیا سرغنہ ایم ایل اے مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کے سماجوادی پارٹی میں ضم ہونے کی چرچا ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ شیو پال یادو نے سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو سے اس بارے میں پھر بات کی ہے۔ قومی ایکتا دل کا انضمام سماج وادی پارٹی سپریمو کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ قومی ایکتا دل کے سماج وادی پارٹی میں انضمام کا اعلان شیو پال نے ملائم کے کہنے پر ہی کیا تھا۔ بعد میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کی صلاح پر اسے رد کردیاتھا۔ اس سے ملائم اور شیو پال دونوں کی کافی کرکری ہوئی تھی۔ قومی ایکتا دل کا پارٹی میں ضم کرا کر سماج وادی پارٹی 15 چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر بن رہے مسلم فرنٹ کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں تھی،لیکن اس پر اکھلیش نے پانی پھیر دیا۔ قومی ایکتا دل کا مشرقی اتر پردیش کے تقریباً 20ضلعوں میں خاص اثر ہے۔ انضمام کا مسئلہ ڈھاک کے تین پات ہونے کی وجہ سے ہی اندرونی تنازع سطح پر آگیا ہے۔ حالانکہ اکھلیش
کو برا تب سے لگا تھا جب پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے شیو پال کے کہنے پر ملائم نے اکھلیش کے نزدیکی لیڈروں آنند بھدوریا اور سنیل ساجن کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔لیکن اس کے بعد اکھلیش روٹھ گئے تھے اور سیفئی مہوتسو کے افتتاح تک کوچھوڑ دیا تھا۔ پھر منانے کا سلسلہ چلا اور دونوں معطل لیڈر نہ صرف پارٹی میں واپس آئے بلکہ اکھلیش نے دونوں کو ایم ایل سی تک بنوا دیا۔
کابینہ کی میٹنگ میں نہیں گئے شیو پال
اتر پردیش سرکار کے سینئر کابینی وزیر شیو پال سنگھ یادو بدھ 17اگست کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ جبکہ یہ میٹنگ لازمی تھی اور اس میں وزیروں کی تنخواہ کے اضافے کا مسئلہ زیر غور تھا۔ کہا گیاکہ شیو پال سنگھ یادو مراد آباد میں کنیا ودیا دھن میں مصروف رہنے کی وجہ سے میٹنگ میں نہیں آئے۔جبکہ کئی اور وزیروں کو دیگر ضلعوں میں کنیا ودیادھن تقسیم کرنے جانا تھا ،لیکن وہ کابینہ کی میٹنگ میں شریک ہونے کے بعد گئے۔ شیو پال کا میٹنگ میں نہیں آنا چچا، بھتیجا کے درمیان اختلاف کا ہی نتیجہ بتایا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس مسئلے پر پوچھے گئے سوال پر خاموشی اختیار کئے رکھا۔ پارٹی میں چرچا ہے کہ ملائم کی ہری جھنڈی کے باوجود اکھلیش یادو قومی ایکتا دل کے سماج وادی پارٹی میں ضم ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں۔جو قیادت میں تنائو بڑھا رہا ہے۔
شیو پال بنائیںگے نئی پارٹی
سیاسی گلیارے میں چرچا ہے کہ ناراض شیو پال سنگھ یادو اپنی الگ پارٹی بنائیں گے اور جنتا دل (یو) کے ساتھ مہاگٹھ بندھن میں شریک ہوںگے۔ ملائم سنگھ یادو اپنے بھائی کا ساتھ دیںگے۔ اکھلیش اور رام گوپال کی وجہ سے ہی سماج وادی اپرٹی مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کے بعد الگ ہو گئی تھی اور اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔
سماج وادی پارٹی امیدوار نے کہا کوئی نہیں دے گا ووٹ
کانپور دیہات کی سکندرا اسمبلی سیٹ سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار مہندر کٹیار نے ٹکٹ واپس کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ پارٹی چھوڑنے کے بعد کٹیار نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے سینئر لوگوں میں خود ہی کافی اتھل پتھل ہے۔ سکندرا اسمبلی حلقے کا جوووٹر ہے، وہ سماج وادی پارٹی سے ناراض ہے۔ اب وہ سماج وادی پارٹی کو ووٹ نہیں دے گا، لہٰذا وہ سماج وادی پارٹی کے ت ٹکٹ سے انتخاب نہیں لڑیں گے۔ سماج وادی پارٹی کی ساڑھے چار سال کی حکوت سے علاقے کا کوئی بھی آدمی مطمئن نہیں ہے۔علاقے کے عوام اس بار سماجوادی پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس وجہ سے انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان بازیاں
پارٹی میں جو بھی سازش کررہا ہے،اسے نیتا جی سزا دیں۔ چاہے میں ہی کیوں نہ ہوں۔سرکار بننے کے فورا بعد نیتا جی نے اسے لے کر ہوشیار کیا تھا ،اسی وقت کارروائی ہو جانی چاہئے تھی۔ ملائم سنگھ ہم سب کے لیڈر ہیں۔ وہ جو فیصلہ لیں گے،وہی قابل قبول ہوگا( اعظم خاں)
ملائم سنگھ کے بیان سے صاف ہے کہ سرکار میں ایک نہیں بلکہ کئی وزیر اعلیٰ کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح سے انہوں نے ٹھیکہ دار ایم ایل اے کے بارے میں کہا ،وہ ملائم کی بے چارگی والی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے( ورندر مدان، کانگریس)
یہ سیفئی خاندان کا نیا ڈرامہ ہے۔ شیو پال یا اکھلیش استعفیٰ دیں یا نہ دیں۔ عوام انہیں رخصت کر دیں گے۔ملائم کا بیان سرکار کی ناکامی سے دھیان بانٹنے کی کوشش ہے۔اگر اکھلیش غلط ہیں تو ملائم سنگھ انہیں عہدہ سے ہٹائیں۔ اگر واقعی شیو پال کے خلاف پارٹی میں سازش ہو رہی ہے تو وہ بیان بازی کرنے کے بجائے استعفیٰ دیں( کیشو پرساد موریہ،اتر پردیش بھاجپا صدر)
سرکار بنی ہے ،تب سے ہی یہ سب چل رہا ہے۔ شیو پال نے تب استعفیٰ کیوں نہیں دیا تھا(رام اچل راج بھر، بہو جن سماج پارٹی)
شیو پال کو استعفیٰ کے بجائے کابینہ کی کلیکٹیو رسپانسیبلیٹی کی بنیاد پر بھتیجے سے استعفیٰ لینا چاہئے (ڈاکٹر سنجے سنگھ،کانگریس)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here