اتر پردیش میں ذات اور مذہب کے نام پر پھر سے بیوقوف بنانے میں لگی ہیں سیاسی پارٹیاں

Share Article
پربھات رنجن دین
p-5اتر پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخاب کا وقت نزدیک آتا جارہا ہے، ویسے ویسے دلت اور مسلم ووٹوں کو لے کر سیاسی پارٹیوں میں مارا ماری اور سبقت لے جانے کا ماحول بنتا جارہا ہے۔اس وقت دو اہم سوال اتر پردیش کے سیاسی منظر پر منڈلا رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ملائم سنگھ یادو مسلم ووٹوں پر اپنی پکڑ برقرار رکھ پائیں گے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مایاوتی دلت ووٹوں پر اپنی پکڑ 2007 کی طرح رکھ پائیں گی؟ان دونوں سوالوں کے جواب موجودہ سیاسی ماحول میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کا حتمی جواب نہ ملائم کے پاس ہے اور نہ مایاوتی کے پاس۔ایک تیسرا سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے اور مایاوتی کے ہاتھوں سے دلت ووٹ چھیننے میں کیا بی جے پی کامیاب ہو پائے گی؟ اس میں بھی شبہ ہی ہے۔ یعنی اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے ما قبل کی سیاسی صورت حال بے یقینی کے ماحول سے گزر رہی ہے۔
بر سر اقتدار سماج وادی پارٹی نے پنچایتی انتخاب میں اقتدار کا کس طرح استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ اسے اسمبلی انتخاب میں دیکھنا پڑے گا۔ بہار میں مہا گٹھ بندھن سے الگ ہوکر سماج وادی پارٹی مسلم ووٹروں کو ناراض کرنے کا کام پہلے ہی کر چکی ہے۔ اقتدار کے غرور میں گاؤں ، قصبوں ، پنچایتوں اور بلاکوں میں خاص طور پر یادو دبنگوں کے ذریعہ دہشت کا راج چلانے کی وجہ سے اتر پردیش کا دلت طبقہ، سماج وادی پارٹی سے پوری طرح ناراض ہے۔ادھر مایاوتی کی ذات کے دلت ووٹروں کو چھوڑ کر دیگر دلت ووٹرس بہو جن سماج پارٹی سے گریز کررہے ہیں۔کیونکہ زیادہ تر دلتوں کا ماننا ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے بہو جن سماج پارٹی صرف ایک دلت ذات جاٹو اور ایک اعلیٰ ذات برہمن کو اہمیت دیتی ہے۔ دیگر سب لوگ حاشئے پر ہی رہتے ہیں۔ یہی حال سماج وادی پارٹی کے دور کار میں خود کو حاشئے پر محسوس کرنے والے غیر یادو پسماندہ طبقہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے ووٹرس ہیں۔ پسماندہ میں کورمی، لودھی ، جاٹ، گوجر، سونار، گوسائی ،کلوار، عرق جیسی غیر یادو پسماندہ برادری شدید ناراضگی کی حالت میں ہے۔ وہ خود کو نظر انداز کیا گیا طبقہ محسوس کررہے ہیں،لیکن انہیں کہیں اپنی سیاسی پناہ نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے مایوس کن ماحول میں غیر جاٹو دلت، غیر یادو پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے ووٹرس سیاسی ماحول کا نبض پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہی سب کچھ بھانپتے ہوئے بی جے پی اپنا ریاستی صدر اور انتخابی چہرہ طے نہیں کرپارہی ہے۔ ذات و برادری کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں بی جے پی خود کو کہیں پر بھی یقینی طور پر کھڑا نہیں کر پارہی ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے اور ری پبلکن سینا کے قومی صدر آنند راج امبیڈکر کے یو پی میں کم سے کم 200 سیٹوں پر انتخاب لڑنے کے اعلان سے بھی بہو جن سماج پارٹی اور بی جے پی کے لیڈروں کی پیشانی پر بل کھاتی لکیریں صاف صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ آنند راج دلتوں کو یہ بات بار بار سمجھا رہے ہیں کہ مایاوتی بابا صاحب کے نام کا استعمال اپنی ذاتی اہمیت کو بڑھانے کے لئے کررہی ہیں۔
بہر حال ہندوستانی جمہوریت کا مطلب آبادی کی تعداد ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا کس ذات کی بھیڑ کہاں زیادہ ہے اور اس کا کیا تناسب ہے ،یہی ملک کی سیاست کی سمت طے کرتی ہے ۔اتر پردیش میں دلت ووٹروں کا تناسب تقریبا 22 فیصد ہے۔ اس میں جاٹو کو چھوڑ کر دیگر دلتوں کے بارے میں یہ قطعی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ بہو جن سماج پارٹی کی طرف ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں دلتوں کا بھاری سپورٹ بی جے پی کو ملا تھا، یہاں تک کہ جاٹو بھی بڑی تعداد میں بہو جن سماج پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کی طرف چلے گئے تھے۔ بہو جن سماج پارٹی کے یکطرفہ نسل پرستی سے تنگ آکر دیگر دلتوں نے 2012 کے اسمبلی انتخاب میں سماج وادی پارٹی کو سپورٹ دیا تھا، لیکن سماج وادی پارٹی نے اپنے دور کار میں دلتوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کی کوئی کامیاب کوشش نہیں کی،بلکہ سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے انہیں پریشان ہی کیا۔ پروموشن میں ریزرویشن نہیں دینے کی پالیسی سے بھی یو پی کے دلت، سماج وادی پارٹی سے بہت زیادہ ناراض ہیں۔ ادھر مایاوتی کی بھی دلتوں پر پکڑ لگاتار ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ مایاوتی نے 2012 کے اسمبلی انتخاب میں 126سیٹیں کھوئی تھیں اور 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں انہیں ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہو پائی۔ دلتوں کا سپورٹ بنائے رکھنے کے لئے بی جے پی لگاتار جد و جہد کر رہی ہے۔ لوک سبھا کا انتخاب جیتنے اور مرکز میں سرکار بننے کے بعد سے وزیر اعظم نریندر مودی لگاتار امبیڈکر کو عظیم بنانے میں لگے ہیں۔ لیکن کبھی ان کی اپنی پارٹی کے کچھ لیڈر تو کبھی سنگھ کے لیڈر تو کبھی اچانک بدلے ہوئے حالات ،ان کی اس مہم کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔حیدرآباد میں روہت بیمولا کے سرخیوں میں آنے اور تمام دلت واد سیاست دانوں کے سامنے آنے کے بعد جب روہت بیمولا کے دلت ہونے کے بجائے پسماندہ طبقہ کا ہونے کی بات سامنے آئی تب جاکر دلت غصہ تھوڑا کم ہوا،لیکن تب تک مودی کے خلاف لکھنو میں ’گو بیک‘ کے نعرے لگ گئے اور بی جے پی کی امبیڈکر منصوبوں پر پانی پھر گیا۔ بی جے پی میں بڑے تام جھام سے شامل کئے گئے اودت راج ، کوشل کیشور، سابق آئی پی ایس آفیسر برج لال، بہو جن سماج پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے جوگل کیشور اور پارٹی کے پرانے دلت لیڈر اس سیاسی حملے کا کارگر مقابلہ نہیں کر پائے، اس کے بجائے کانگریس کے موقف کی حمایت میں ہی بیان دینے لگ گئے۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ لکھنو میں امبیڈکر یونیورسٹی احاطے میں مودی کے خلاف نعرے بازی کرانے کا پلاٹ بی جے پی کے ہی کچھ دلت لیڈروں نے تیار کیا تھا۔
لب لباب یہ ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی کا انتخاب دلت اور مسلم ووٹروں کے درمیان سینڈویچ بنا ہوا ہے۔ اب ہندوستان کی جمہوریت کی حالت اس نکتے پر پہنچ چکی ہے جہاں بھیڑ پر مبنی ہندوستانی جمہوریت میں اپنی دکان چلانے والی سیاسی پارٹیاں مکمل ووٹ کے بارے میں زیادہ پرواہ نہیں کرتیں۔ سیاسی پارٹیوں کو صرف تعداد سے مطلب رہ گیا ہے۔ لیڈر اب لوگوں کو صرف گنتی کی شکل میں ہی دیکھتے ہیں۔ اسی گنتی کی بنیاد پر کوئی پارٹی دوسرے کو کوستا ہے تو کوئی پارٹی اپنی پیٹھ تھپتھپاتی ہے۔ مسلم ووٹوں کی کھال کھینچنے میں سرگرم سماج وادی پارٹی پر یہ کہہ کر حملہ کیا جارہا ہے کہ لجسلیٹیو اسمبلی کی 36 سیٹوں پر ہونے والے انتخاب میں سماج وادی پارٹی نے صرف چار مسلمانوں کو ہی ٹکٹ دیا۔ اسے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ تک بتایا جارہا ہے۔ دوسری طرف مجلس اتحاد المسلمین کے سپریمو اسد الدین اویسی بھی بی جے پی پر کم اور سماج وادی پارٹی پر زیادہ حملہ کررہے ہیں۔ اویسی نے فیض آباد کی بیکا پور اسمبلی سیٹ پر ہو رہے ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار اتار کر یہ پیغام دیا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخاب میں وہ بھی ایک اہم کھلاڑی ہیں۔ بیکا پور ضمنی انتخاب میں اویسی نے دلت امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ اویسی نے اپنی منشا حتمی طور سے بتائی بھی کہ وہ دلت اور مسلم ووٹروں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ ’’ ملک میں سیاست امیر لوگ چلا رہے ہیں،ایک غریب اور دلت آدمی کو چنئے، لوگ آپ کی عزت کریں گے، دلت اور مسلمان اگر ساتھ مل کر لڑیں گو تو پھر کوئی طاقت انہیں ان کے حق سے محروم نہیں کر پائے گی‘‘۔ گزشتہ دنوں فیض آباد کے ایک انتخابی اجلاس میں پو پی کے کسانوں کی بد حالی کے تئیں ریاست کی سماج وادی پارٹی سرکار اور مرکز کی بی جے پی سرکار پر اویسی نے تیکھا حملہ کیا۔ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کرکے بھول جانے والی سماج وادی پارٹی کو اویسی نے آڑے ہاتھوں لیا۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بہو جن سماج پارٹی اور اویسی کی پارٹی میں اگر تال میل ہوا تو مسلمانوں کا اچھا خاصا ووٹ کھینچنے میں وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
پسماندوں کو دھکیل رہی ہے انتہائی پسماندوں کی گول بندی
انتہائی پچھڑی ذات کی بڑھتی گول بندی کی بنیاد پر پچھڑے طبقہ کے لوگوں کو دھیرے دھیرے پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت میں یہ سب سمجھدار طبقے کی طرف سے کیا جارہا ہے اور سیاسی پارٹی تعداد پر مبنی سیاست کو لپکنے کی کوشش میں لگی ہے۔ اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ ہر سرکار کچھ انتہائی پچھڑی ذات کو ہر بار شیڈولڈ کاسٹ کی لسٹ میں شامل کرنے کا استقبال کرتی ہے اور ووٹ حاصل کرتی ہے۔ دلت ذات کی لسٹ دھاگے سے بندھی جلیبی کی طرح ہے جسے لٹکا کر انتہائی پچھڑوں کو لگاتار بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے سماج وادی پارٹی کی موجودہ سرکار نے 17انتہائی پچھڑی ذات کو شیڈولڈ کاسٹ میں شامل کرنے کی پہل کر کے پھر سے ڈرامہ شروع کردیا ۔سماج وادی پارٹی نے اس طبقے کے لئے باقاعدہ سمیلن بھی منعقد کرایا۔ سماج وادی پارٹی نے اس کے ذریعہ 17 انتہائی پچھڑوں کو دھاگے میں بندھی جلیبی دکھانے کی کوشش پھر سے شروع کی۔ دوسری پارٹیوں کی بھی نگاہ اس گروپ پر بہار انتخاب کے بعد لگی،جہاں نتیش اور لالو نے انتہائی پچھڑے طبقہ کو جلیبی دکھا کر خوب ووٹ بٹورے۔ اتر پردیش میں انتہائی پچھڑی ذات کی خاصی تعداد ہے۔ انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2002,2007 اور 2012 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے نتائج بتاتے ہیں کہ دو سے ساڑے تین فیصد ووٹوں کے ادھر ادھر ہونے سے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کی سرکاریں بنتی رہی ہیں۔ ایسے میں 17 انہتائی پچھڑی ذاتیں اتر پردیش کے ووٹ کی سیاست میں بہت اہم رول ادا کریں گی۔ 2001 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ راجناتھ سنگھ نے’ چھیدا لال ساتھی کمیشن‘ کی سفارش پر مبنی’ سماجی نیائے کمیٹی 2001 ‘کی رپورٹ پر دیگر پچھڑے طبقہ ( او بی سی) کو تین درجوں میں بانٹ کر بالترتیب 5فیصد ، 8فیصد، 14فیصد ، اور دلتوں کو دو طبقوں میں بانٹ کر بالترتیب 10اور 11فیصد ریزرویشن دینے کا نظام بنانے کی کوشش کی تھی۔ بی جے پی کے اس قدم کی سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی دونوں نے مخالفت کی تھی اور سماج وادی پارٹی کے سبھی 67ایم ایل اے نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے سابق دور کار میں بھی سماج وادی پارٹی کی یکطرفہ نسل پرستی سے پریشان ہوکر انتہائی پچھڑی ذات دور ہونے لگی تھی۔ اسے بھانپتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے انتہائی پچھڑوں کی تحریک کو توڑنے کے ارادے سے 2004میں بھی 17 انتہائی پچھڑی ذات کو شیڈولڈ کاسٹ میں شامل کرنے کا ایشو اچھالا تھا۔ لیکن ملائم کا انتہائی پچھڑا پریم اتنا گہرا تھا کہ مچھوار طبقہ کے آبائی پیشے جیسے بالو اور مورنگ کان کنی کے جو پٹے دیئے گئے تھے، اسے بھی ختم کرا دیا۔ ملائم سرکارنے 17 اتنہائی پچھڑی ذات کو شیڈولڈ کاسٹ کا ریزرویشن فائدہ دینے کے لئے نوٹیفکیشن تو جاری کردیا ،لیکن سپریم کورٹ میں اسے بے حد کمزور طریقے سے پیش کیا۔ اس وجہ سے یہ آج تک سپریم میں میں زیر التوا ہے۔ اس وجہ سے صوبہ کی 17 انتہائی پچھڑی ذات نہ پچھڑے میں رہ پائی اور نہ دلت درجے میں آپائی۔ 2007 میں اقتدار میں آئی مایاوتی نے اپنی پہلی ہی کابینی میٹنگ میں 17 انتہائی پچھڑوں کو دلت بنانے کی تجویز کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ان سے کان کنی کا پٹہ بھی چھن گیا اور درجہ 3 کے تالابوں کا پٹہ بھی منسوخ کردیا گیا۔ اس سے ناراض مذکورہ طبقے نے 2012 میں پھر سماج وادی پارٹی کو سپورٹ دیا۔ سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں چار سال بعد پھر وہی صورت حال آگئی ہے کہ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں ۔ ملاح، کیوٹ، کسان، کمہار، گرییئر، کاچھی، کوئری، سینی، راج بھر، چوہان، نائی، بھورجی، تیلی جیسی کئی پچھڑی ذات اس بار سیاسی منظر بدل ڈالنے پر آمادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ ساری سیاسی پارٹیاں بھی اس تعداد کو اپنی اپنی طرف کرنے کی کوشش میں لگی ہیں۔ بی جے پی بھی ان ذاتوں کو 7.5 فیصد کا ریزرویشن کوٹا دینے اور ’سماجی نیائے کمیٹی ‘کی رپورٹ لاگو کرنے کا وعدہ کررہی ہے۔ بی جے پی کی ریاستی اکائی کی کمان انتہائی پچھڑے کو دینے کی آہٹ انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔
اعلیٰ ذات کو کون پوچھے
دلتوں ،انتہائی پچھڑوں ، پچھڑوں یا مسلمانوں کی طرح ’بارگیننگ‘ یا ’بلیک میلنگ‘ کی پوزیشن اعلیٰ ذات کی نہیں ہے۔ اعلیٰ ذات کو تھوڑی بہت بھی توجہ ملی تو وہ اس پارٹی کا ساتھ دینے لگتی ہے۔اسی صورت حال کو سمجھتے ہوئے بہو جن سماج پارٹی برہمنوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے تو سماج وادی پارٹی ٹھاکروں کو اپنی طرف۔ راجپوت طبقہ کے لیڈروں کو بی جے پی اپنی طرف لانے کے لئے لبھا رہی تھی تو سماج وادی پارٹی نے لجسلیٹیو اسمبلی کے لئے 8ٹھاکر امیدوار بنا کر انہیں وک لیا۔ ویشہ طبقہ کو بی جے پی اپنا روایتی ووٹ بینک مانتی ہے تو کائستھ ووٹروں کو اپنا نظریاتی حامی۔مایاوتی نے معاشی طور سے پچھڑے اعلیٰ ذات کو ریزرویشن دینے کی بات کہہ کر ان کا دھیان اپنی طرف ضرور کھینچا ہے۔اگر اسے پرزور طریقے سے انتخابی ایشو بنانے میں مایاوتی کامیاب ہوئیں تو اس کا اثر انتخابی نتائج میں دیکھنے کو ملے گا۔ اس مسئلے پر سب لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ معاشی طور سے کمزور اعلیٰ ذات کو اگر ریزرویشن ملتا ہے تو بہت اچھا ہوگا اور اس کا سہرا بہو جن سماج پارٹی کو ملے گا۔ حالانکہ سماج وادی پارٹی اس پر بھی اپنا دعویٰ پیش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سماج وادی پارٹی نے اپنے مینی فیسٹو میں اعلیٰ ذات کمیشن تشکیل کرنے کی بات کہی تھی۔ لیکن سماج وادی پارٹی یہ نہیں کہتی کہ گزشہ چار سال سے صوبہ کے اقتدار پر قابض سماج وادی پارٹی کو’ اعلیٰ ذات کمیشن ‘کی تشکیل کرنے سے کس نے روک دیا۔
برہمنوں کو لبھانے کا مایاوتی داؤ
برہمن مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگا کر سابق ممبر پارلیمنٹ کپل مونی کروریا اور سابق ایم ایل سی سورج بھان کروریا کو بہو جن سماج پارٹی سے نکالے جانے کے پیچھے مایاوتی کا داؤ صاف صاف سمجھا جاسکتا ہے۔ برہمنوں کو ایک بار پھر اپنی طرف کرنے کا یہ کارگر طریقہ ثابت ہو رہا ہے۔ دونوں لیڈروں کو پارٹی سے نکالے جانے کی کارروائی کے بارے میں باقاعدہ پریس نوٹس جاری کر کے اس کی مارکیٹنگ کی گئی۔ اس پریس نوٹس میں برہمن مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے نکالے جانے کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ اس نوٹس پر زونل کو آرڈینیٹر اندر جیت سروج، آر کے چودھری اور اکھلیش امبیڈکر کے دستخط ہیں،لیکن لوگ جانتے ہیں کہ مایاوتی کے حکم کے بغیر پارٹی میں پتہ بھی نہیں ہلتا۔ نوٹس میں کروریا برادران کے معطل کرنے کا سبب برہمن سماج مخالف سرگرمیوں میں ان کا ملوث ہونا بتایا گیا ہے۔ کپل مونی کروریا اور سورج بھان کروریا سابق ایم ایل اے جواہر یادو کے قتل کے الزام میں نینی سینٹرل جیل میں بندہیں۔ دونوں بھائیوں کو ابتدائی ممبر شپ سے بھی الگ کر دیا گیا ہے۔
بہو جن سماج پارٹی ایک طرف برہمنوں کو لبھانے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف ٹھاکروں پر بوکھلائی ہوئی ہے۔ پارٹی نے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کے پوتے سابق ایم ایل سی روی شنکر سنگھ پپو کو پارٹی سے الگ کر دیا ہے۔ ادھر ٹھاکروں کو اپنے حق میں کرنے کی مہم میں سماج وادی پارٹی نے روی شنکر سنگھ کو ایم ایل سی کا امیدوار بنا دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *