اتر پردیش: دلتوں کی حالت خراب صحافی تک نہیں ہیں یہاں محفوظ

Share Article

اسرار پٹھان

p-5متھرا سانحہ کو لے کر خوب ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن نے اس معاملے میں سرکار کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کی مانگ کی تو سرکار نے اس پورے معاملے میں اپنے ملوث ہونے اور سانحہ کو جنریٹ کرنے والے رام ورکش یادو کو کسی بھی طرح کا تحفظ دیئے جانے سے صاف انکار کر دیا۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبے کے قانون و نظام کو لے کر نہ صرف بے حد چوکنا ہے ، بلکہ ان لوگوں کو لے کر سخت بھی ہے جو لاء اینڈ آرڈر سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔لیکن قانون و نظام کو لے کر سرکار کی وہ نام نہاد سنجیدگی زمین پر کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ سرکار کو یہ بات سمجھ میں آنی چاہئے کہ ریاست میں ایک رام ورکش پر کارروائی سے بات نہیں بننے والی۔ آج صوبے میں ہر گلی کوچے میں ایسے خاردار رام ورکش کی بہتات ہے جس کے جھاڑ میں پھنس کر ریاست کا لاء اینڈ آرڈر رام بھروسے ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں بندیل کھنڈ کے مہوبا ضلع میں ایسے ہی اقتدار کے نشہ میں چور کچھ دبنگ لوگوں نے پولیس کی موجودگی میں ایک دلت سمیت دو صحافیوں کو مار مار کر بے دم کردیا۔ حالانکہ مہوبا پولیس سپرنٹنڈنٹ کی حکمت عملی سے معاملہ ٹھنڈا تو ہوگیا، لیکن اس واقعہ نے ایک بات صاف کر دی کہ صوبے میں قانون و نظام نام کی چیز نہ تھی،نہ ہے اور نہ شاید اب دیکھنے کو ملے گی۔
صوبے میں قانون و نظام آج پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ صوبے کا ہر ایک شہر، قصبہ اور گائوں غنڈوں اور دبنگوں کی زد میں ہے۔ بندیل کھنڈ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے،یہاں اقتدار میں چور وزیراعلیٰ کے ساتھیوں نے من مانی اور غندہ گردی کے سارے ریکارڈ ٖ توڑ دیئے ہیں۔ ان کی نظر میں نہ قانون کے کوئی معنی ہیں اور نہ ہی انہیں سرکار کی خراب ہوتی شبیہ سے کوئی سروکار ہے۔ کھلے لفظوں میں اگر یہ کہیں کہ ایک خاص ذات کے لوگوں کی بیجا حرکتیں سرکار کی شبیہ کو بٹا لگا رہی ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ بندیل کھنڈ میں اس ذات کے رتبے اور حیثیت کو پرکھنے کے لئے گزشتہ دنوں مہوبا میں ہوئے اس حادثے پر نظر ڈالنا ہوگا جس کا شکار ایک دلت اور دو قلمکار ہوئے تھے۔ واقعہ 18جون کا ہے۔اپنی خبروں سے فارغ ہوکر دو روزنامچہ اخباروں کے صحافی محمد عقیل اور متوج راجپوت دیر شام دفتر سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی وہ کلپہاڑ قصبے سے کچھ آگے ہی پہنچے تھے کہ ان کی نظر سورنگرا گائوں میں سڑک کے کنارے لگے ہجوم پر پڑی۔ دونوں قلمکار گاڑی سے اتر کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک آدمی کو بری طرح پیٹ رہے ہیں۔ بقول متاثر صحافی انہوں نے جب وہاں کھڑی بھیڑ سے معاملے کی جانکاری لی تو پتہ چلا کہ پٹائی کھانے والا ایک غریب دلت ہے اور مار رہے لوگ یادو ذات سے ہیں۔ وجہ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ دلت کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک سوکھے پیڑ کی کچھ لکڑی کاٹ لی تھی۔ جس کی وجہ سے اسے اس بے رحمی کے ساتھ پیٹا جارہا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ مارنے والوں میں ایک فوریسٹ محکمہ کا واچر ہے۔ واقعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عقیل نام کا صحافی فوری کوتوالی انچارج کلپہاڑ کا سی یو جی نمبر ڈائل کیا لیکن کئی بار گھنٹی جانے کے بعد بھی فون نہیں اٹھا۔ مجبوراً اس نے مار پیٹ کا فوٹو لینے کے لئے کیمرہ نکالا اور جیسے ہی فوٹو کھینچی مار پیٹ کر رہے دبنگوں نے قلمکاروں پر حملہ بول دیا۔ شراب اور اقتدار کے نشے میں چور درجن بھر لوگوں نے دلت سمیت دونوں خبر نویسوں کو لاٹھی ڈنڈوں سے تب تک مارا جب تک وہ تینوں بے دم نہیں ہو گئے۔ دبنگوں نے انہیں مار کر نیم مردہ کردیا اور ان کے پیسے موبائل اور چین و انگوٹھی چھین لی۔ یہی نہیں راہگیروں کی اطلاع پر وہاں پہنچی پولیس کے سامنے ایک بار پھر ان تینوں کو مارا گیا لیکن پولیس نے منہ تک نہیں کھولا۔بتاتے تو یہ ہیں کہ مذکورہ دبنگوں نے پولیس کو بھی للکار دیا باوجود اس کے پولیس خاموش رہی اور زخمیوں کو لے جاکر اسپتال میں بھرتی کرا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دبنگوں کے سامنے بھیگی بلی بن کرکھڑی رہنے والی خاکی وردی والے کے کوتالی میں آتے ہی تیور بدل گئے اور دلت سمیت زخمی دونوں قلمکاروں پر راضی نامہ کرنے کا دبائو بنایا جانے لگا۔ حادثہ کے وقت کوتوالی کی ذمہ داری سنبھالنے والے وریندر یادو نے دلت رام کشن شری واس کو تو دھمکا کر بھگا دیا لیکن صحافیوں کے سامنے اس کی نہیں چل سکی۔ واقعہ کی اطلاع پر کلپہاڑ قصبے کے سارے صحافی اسپتال پہنچ گئے اور ا نہوں نے اس کی اطلاع دفتر کے قلمکاروں کو بھی کر دی۔ زخمیوں کو ضلع استپال ریفر کئے جانے کی اطلاع پاکر دفتر کے پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا سے جڑے سبھی صحافی وہاں جمع ہو گئے۔ ضلع اسپتال میں ساتھی صحافیوں کا حال دیکھ کر پریس کلب صدر سنجے مشرا اور آئیرا کے ریاستی سکریٹری اسرارپٹھان نے پولیس ڈائریکٹر گور سنگھ کومعاملے سے آگاہ کراتے ہوئے دبنگوں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی۔ ایس پی نے معاملے کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے اور سیاسی دبائو کو درکنار کر کے فوری مقدمے کا حکم کیا اور رات میں ہی ملزموں کی گرفتاری کر لی ۔ یہی نہیں ایس پی کے دخل پر مجبوراً کوتوالی پولیس کو دلت کی تحریر پر بھی مقدمہ لکھنا پڑا۔ فی الحال اس واقعہ کے تین نامزد ملزم بہادر یادو، راجیش اور ویر سنگھ یادو جیل بھیج دیئے گئے ہیں، لیکن حقائق کی تلاش کو لے کر کوتوالی پولیس ابھی بھی بے توجہی برت رہی ہے۔ اس پورے واقعہ میں پولیس ڈائریکٹر گور سنگھ کا طریقہ کار قابل تعریف تو تھا لیکن انہوں نے ایس آئی وریندر سنگھ یادو کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ،یہ بے حد افسوسناک ہے۔ قلمکاروں پر ہو رہے سلسلہ وار حملوں کو لے کر مہوبا سمیت پورے بندیل کھنڈ کے صحافی غصے میں ہیں اور ان صحافیوں نے بیٹھ کر صحافیوں کی سیکورٹی کو لے کر چرچا کیا اور اس کے تحت سڑک پر بائک جلوس نکال کر احتجاج کیا۔ انہوں نے کلکٹر وریشور سنگھ کو میمو سونپ کر صحافیوں کی سیکورٹی کو لے کر سخت قدم اٹھائے جانے کی مانگ کی جس کے بعد ڈی ایم کے حکم پر ملزم واچر بہادر سنگھ کو ڈویزنل فوریسٹ آفیسر نے معطل کردیا۔ وہیں ضلع جالون میں ’اپجا ‘کے بینر تلے صحافیوں نے احتجاج کیا اور کلکٹر سندیپ کور کو میمو سونپا۔ بہر کیف اس حادثے نے ریاست میں موجودہ حالات کا سچ سب کے سامنے لا دیاہے۔
سرکار ہماری ہے، داروغہ وردی اتروا دوں گا
کہتے ہیں کہ نشہ کوئی بھی ہو سر چڑھ کر بولتا ہے اور جب کوئی دو طرح کے نشے میں چور ہو تب اس کے تیوروں کا کیا کہنا۔ جی ہاں، مہوبا میں شراب کے ساتھ کچھ لوگوں پر چھایا اقتدار کا نشہ سرکار کی کرکری کرا رہی ہے ۔ ان دو نشہ کرنے والوں کے سامنے خاکی وردی والے بے بس اور بے سہارا نظر آرہے ہیں۔ مہوبا کوتوالی میں تعینات ایک ایس آئی کے ذریعہ بتائی گئی ایک بات کو سچ مانے تو واقعی صوبے میں برسراقتدار پارٹی کے لیڈر اور کارکن بے لگام ہو چکے ہیں۔ بقول ایس آئی وہ ایک وارنٹ کی تعمیل کے لئے جس کے گھر گیا تھا ،وہ اپنے گھر کے سامنے نشے میں دھت کرسی پر پیر چڑھا کر بیٹھا تھا۔ ایس آئی نے جب اس سے پوچھا کہ وار نٹ میں درج نام والے شخص آپ ہی ہیں تو اس نے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے کہا ہوں۔ داروغہ جی نے جب اسے سلیقے سے بیٹھنے کی نصیحت دی تو اس نے رعب سے کہا کہ ابھی ہماری سرکار چھ ماہ اور ہے اور جب تک سرکار ہے تب تک ہم ایسے ہی رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں اقتدار کے ساتھ شراب کے نشے میں چور اس آدمی نے داروغہ جی کو چپ چاپ چلے جانے کی نصیحت دینے کے ساتھ وردی اتروادینے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔اس واقعہ کو سن کر چونکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صوبے میں آئے دن ایسی باتیں ہو تی رہتی ہیں، چھپتی رہتی ہیں اور چینلوں میں دکھائی جارہی ہیں،پھر بھی سرکار کہتی ہے سب انڈر کنٹرول ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *