اترپردیش کی کول کمیونٹی آدیواسی ہوکر بھی آدیواسی کیوں نہیں؟

دینکر کپور
اگر آپ سون بھدر ، مرزا پور، چندولی کے نو گڑھ، الٰہ آباد کے شنکر گڑھ، چترکوٹ اور باندہ کے آدیواسی علاقوں کا دورہ کریں گے اور کول کمیونٹی کے کسی بھی بچے یا بوڑھے سے اس کی پہچان پوچھیں گے تو وہ سینہ اونچا کرکے کہیں گے کہ ’’ ہم آدیواسی ‘‘ ہیں ۔لیکن ہندوستانی سرکار اور اترپردیش کی سرکار انہیں آدیواسی نہیں مانتی۔ 2011 کی مردم شماری کے سرکاری گزٹ کے مطابق ، اترپردیش کی 4 لاکھ 22 ہزار کی آبادی والی کول کمیونٹی آج بھی دلتوں یعنی شیڈولڈ کاسٹ کے درجے میں آتی ہے جبکہ کول کمیونٹی تاریخی طور پر آدیواسی ہے اور ملک کے دیگر حصوں مدھیہ پردیش، بہار، اڑیسہ، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں اس کو شیڈولڈ کاسٹ میں رکھا گیاہے۔ پچھلے سال ہندوستانی سرکار کے انتھروپالیٹیکل سروے آف انڈیا کی وندنا کماری کے ذریعہ کئے گئے سروے میں بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اتر پردیش کے کو ل، آدیواسی کمیونٹی کے ہیں۔ یہی نہیں ذات و برادری اور آدیواسیوں پر تجزیہ کرنے والے قابل اعتماد انگریزی مصنف ابٹسن ، رسیل، تھروسٹون نے اپنے تجزیہ میں بھی کولوں کو آدیواسی ہی مانا ہے۔ آدیواسی لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ سرکار ہمارے صبر کا امتحان کب تک لیتی رہے گی۔
بی ایم لوک کمیٹی رپورٹ
غور طلب ہے کہ یکم جون 1965 میں ہندوستانی سرکار کے سوشل سیکورٹی محکمہ کی طرف سے شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبس کی لسٹ ماڈیفکیشن کے لئے بی ایم لوکر کی قیادت میں تشکیل شدہ تین رکنی کمیٹی نے 25اگست 1965 کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں اترپردیش میں رہنے والی شیڈولڈ ٹرائبس کی لسٹ کا ماڈیفکیشن کرتے ہوئے اگریہ، بیگا، بھوٹیا، بھوئیاں، بھوئیار، بوکسا، چیرو، گونڈ(اس کی ذیلی برادریوں میں دھوریا، نایک، اوجھا، پٹھاری اور راج گوند )، جون سری، کھروار، کول ، پراہیا، راجی، سہریا،تھارو اور مرزا پور ضلع کے کیمور علاقے کے جنوبی حصہ ( اب سون بھدر ضلع ) کی کوروا اور اروائوں برادری کو شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ دینے کی سفارش کی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر 1967 میں بھوٹیا،بوکسا، جونساری، راجی، تھارو کو ہی شیڈولڈ ٹرائبس کا درجہ دیا گیا۔ اسی سلسلہ میں 8جنوری 2003 کو شیدولڈ کاسٹ اور شیدولڈ ٹرائبس آرڈر(ترمیم) ایکٹ2002 کے ذریعہ گونڈ ( اس کی آپشن کاسٹ دھوریا، اوجھا، پٹھاری اور راج گونڈ )، کھروار، کھوروار، سہریا، پراہیا،بیگا، پنکھا، پنیکا، اگریا، پٹاری، چیرو، بھوئیا، بھونیا کو ریاست کے کچھ ضلعوں میں ہی شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ دیا گیا ۔مرکزی سرکار کے ذریعہ لوکر کمیٹی کی سفارش میں 1967 اور 2003 میں ترمیم کرکے کول، کوروا، ارائوں، مجھوار کو سفارش کی لسٹ سے ہٹایا گیا اور جن برادریوں کو شیڈولڈ ٹرائبس کا درجہ بھی دیاگیا، انہیں بھی پوری ریاست میں یہ درجہ نہیں عطا کیا گیا۔ ان برادریوں کو لسٹ سے کیوں ہٹایا گیا اور شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ پانے والی برادریوں کو دیگر ضلعوں میں شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ کیوں نہیں دیا گیا ،اس کا کوئی مدلل اور قانونی سبب آج تک نہیں بتایا گیا۔
کول سمیت شیڈولڈ کاسٹ کے درجے سے محروم رہ گئی برادریوں کو شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ دیئے جانے کے سلسلہ میں اتر پردیش سرکار کے ذریعہ وقت بوقت تجویز بھی مرکزی سرکار کو بھیجی گئی۔باوجود اس کے ان برادریوں کو شیدولڈ کاسٹ کا درجہ دینے کی کارروائی آج تک ہندوستانی سرکار کے ذریعہ نہیں کی گئی۔ صاف ہے کہ سرکار کا رویہ بھید بھائو کا ہے اور آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ پچھلے سال’’ آدیواسی ادھیکار منچ ‘‘کی لمبی جدو جہد کے بعد الیکشن کمیشن نے دودھی اور اوبرا کی اسمبلی سیٹیں اترپردیش کے آدیواسیوں کے لئے محفوط کیا تھا۔ لیکن لوکر کمیٹی کے ذریعہ اتر پردیش کے آدیواسیوں کی شیڈولڈ ٹرائبس کا درجہ دینے کی سفارش کے لاگو نہیں ہونے کی وجہ سے آج بھی ریاست سے لوک سبھا میں ایک بھی آدیواسی نمائندہ نہیں ہے۔’’آدیواسی ون واسی مہاسبھا ‘‘ اور ’’ سوراج ابھیان ‘‘ کی ٹیم نے پچھلے دنوں ’’سوراج ابھیان ‘‘کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے ممبر اکھلیندر پرتاپ سنگھ کی قیادت میں سون بھدر ، مرزا پور اور چندولی ضلعوں کے آدیواسی علاقوں کا گہرا تجزیہ کیا۔ اس جانچ میں یہ صاف طور پر ابھر کر آیا کہ آدیواسی کا درجہ نہ حاصل ہونے سے کول کمیونٹی کو پارلیمنٹ کے ذریعہ بنے شیڈولڈ ٹرائبس اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والے ( جنگلاتی اختیارات کی منظوری ) ایکٹ 2006(2007) کا فائدہ نہیں مل پا رہا ہے۔ اس ایکٹ کی تجاویز کے تحت شیڈولڈ کاسٹ کا نہ ہونے کے سبب تین نسل یا 75 سال پہلے کا ثبوت دینا پڑ رہا ے۔ جسے دے پانا اس کے لئے بے حد مشکل ہے۔ گر انہیں شیڈولڈ ٹرائبس کا درجہ مل گیا ہوتا تو محض 13دسمبر 2005کے قبضے کی بنیاد پر ہی ان برادریوں کو اپنی موروثی جنگلاتی اراضی پر حق حاصل ہو جاتا۔

 

 

 

 

 

 

جنگلاتی اختیار کے قانون کا مسئلہ
ویسے بھی اترپردیش میں جنگلاتی اختیارکے قانون کو مایاوتی اور اکھلیش کی سرکار نے ناکام کر دیا تھا۔ ریاست میں جنگلاتی اختیار قانون کے تحت حاصل 92433 دعوئوں میں سے 73416 دعوے بغیر قانونی سرگرمی کے عملدرآمد کئے من مانے طریقے سے منسوخ کردیئے گئے۔ چندولی ضلع میں جہاں کی نوگڑھ تحصیل میں بڑی تعداد میں کول کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں، وہاں جنگلاتی اختیار قانون کے تحت جمع 14088 دعوئوں میں سے 13998 دعوے خارج کر دیئے گئے اور محض 90لوگوں کی زمین کا الاٹمنٹ ہوا۔ وہ بھی دعویٰ کے مقابلے میں بے حد کم۔یہ بھی جاننا دلچسپ ہوگا کہ سرکار کی غیر جوابدہی کی وجہ سے آج چندولی ضلع میں ایک بھی برادری کو آدیواسی کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ چندولی ضلع وارانسی سے کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ 2002 میں جن گوڑ، کھراور اور چیرو برادری کو وارناسی ضلع میں آدیواسی کا درجہ دیا گیا وہ چندولی کی ہی برادریاں تھیں جنہیں الگ ضلع بننے کے بعد آج تک وہ درجہ نہیں دیا گیا۔ سون بھدر اور مرزا پور میں بھی جنگلاتی قانون کی تعمیل کی داستان چندولی سے الگ نہیں ہے۔ سون بھدر میں 65626 دعوئوں میں سے 53506 اور مرزا پور میں 3413 دعوئوں میں سے 3128 دعوے خارج کر دیئے گئے۔ جنگلاتی اختیار قانون کے تحت تشکیل شدہ سہ رکنی کمیٹیاں یکطرفہ کارروائی کرتی رہیں اور لوگوں کو مطلع کئے بغیر ایک طرفہ فیصلہ لیتی رہیں۔ اتر پردیش کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اعلان کر دیا کہ دعوئوں کی بنیاد پر لوگوں کو ٹائٹل دے دیا گیا ہے اور سبھی دعوئوں کا تصفیہ کر دیا گیاہے۔ زمینی سچائی یہ تھی کہ ان ضلعوں میںدعووں کے تصفیہ کے بارے میں دعویدار کو کوئی جانکاری ہی نہیں دی گئی۔ سرکار کی رسم ادائیگی کے خلاف آدیواسی ’’ون واسی مہاسبھا ‘‘کے ذریعہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کی عرضی ( نمبر 27063/2013) داخل کی گئی۔ہائی کورٹ نے اگست 2013 میں ترمیمی قانون2012 کے مطابق ازسر نو گرام سبھائوں میں دعویٰ پیش کرنے کا فیصلہ دیا۔ لیکن حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور بار بار کہنے کے بعد بھی اکھلیش سرکار نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق موروثی زمین پر آباد آدیواسیوں اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کو جنگل کی زمین پر ٹائٹل نہیں دیا۔
یوگی سرکار بننے کے بعد تو محکمہ جنگلات اور انتظامیہ نے سون بھدر ، مرزا پور اور چندولی کے علاقے میں نسلی جنگل کی زمین پر بسے آدیواسیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ چندولی کی نوگڑھ، تحصیل میں گرام بودلپور، گولا آباد، منجھاگئی، جے موہنی ، منجھگاواں، سکھدیو پور، پرسیا، بھسوڈا میں بے دخل کی کارروائی کی گئی۔ سون بھدر کے گھوراول کے بھیسوار، جگیل، پیڑھ اور مرزا پور کے دھرکار وغیرہ تمام گائوں میں بے دخلی کی کارروائی ہوئی۔ گائوں والوں کے گھر گرا دیئے گئے، ان کی دہلیز توڑ دی گئی ۔کنوئیں پاٹ دیئے گئے اور اناج تہس نہس کر دیئے گئے۔ بہت سے آدیواسیوں اور روایتی جنگل کے باشندے کے اوپر محکمہ جنگلات نے مقدمے قائم کر دیئے ہیں اور انہیں بے دخلی کی نوٹس دی جارہی ہے۔ محکمہ جنگلات بے دخلی کی کارروائیاں ماحولیات کے تحفظ کے لئے شجر کاری کے نام پر کررہاہے۔ اس علاقے میں محکمہ جنگلات کے ذریعہ کی جارہی شجرکاری بھی بڑا گھوٹالہ ہے۔ اکھلیش سرکار ہو یا موجودہ سرکار، شجر کاری میں بڑے پیمانے پر پودوں کی چوری ہوئی ہے اور جو لنٹھس، ٹھساگون، ونتوسلی جیسے پیڑ اور پودے لگائے گئے ہیں،وہ ناقابل استعمال پیڑ ہیں۔ حقیقت میں اس علاقے میں بڑے پیمانے پر محکمہ جنگلات کی زمینیں آج بھی کھیتی کے قابل ہیں۔ اگر ان زمینوں پر گائوں کے آدیواسیوں ، نوجوانون او عورتوں کی معاون کمیٹیاں بنا کر انہیں یہ زمینیں پھلدار پیڑوں کے لئے یا ریشم کٹ پرورش کرنے جیسے کام کے لئے دے دی جائیں تو اس سے گائوں والوں کی گزر بسر کا انتظام بھی ہو جائے گا اور ساتھ ہی ماحولیات کا تحفظ ہونے کے ساتھ ساتھ سرکار کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

 

 

 

 

 

علاقوں کی صورت حال بھیانک
ان علاقوں کی بھیانک صورت حال یہ ہے کہ آج بھی یہاں کے آدیواسی اور دیہی باشندے کو برساتی نالوں، تالاب اور باندھوں کا پانی پینا پڑتا ہے۔ صنعتی کچرے سے آلودہ ہوا پانی پینے سے درجنوں بچوں کی موت ہو چکی ہے۔درجنوں گائوں میں اعضاء ٹیڑھا ہونے ، ڈپریشن ، پیلیا، اسٹورجا جیسی کئی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔باشندہ غریب گیٹھی کندا جیسی زہریلی جڑیں اور چکور جیسے زہریلے ساگ کو کھانے کے لئے مجبور ہیں۔ابھی میورپور اور چوپن بلاک کے بیل ہتھی، جگیل اور بھاٹھ علاقے کے تمام ایسے گائوں ہیں جہاں جانے کے لئے راستے نہیں ہیں اور علاج کے لئے گائوں والوں کو چارپائی پر لاد کر کئی کلو میٹر لانا پڑتا ہے۔ سینکڑوں کو ملیریا ، ٹائیفائڈ جیسی بیماریوں سے علاج کے نہ ہونے کے سبب مرتے ہیں۔ سون بھدر ضلع کی دودھی تحصیل میں تو زبردست خشک سالی ہے اور لوگ فاقہ کشی کی حالت میں ہیں لیکن منریگا میں کام دستیاب کراکر ان کی زندگی بچانے کی سمت میں سرکار کی کوئی پہل نہیں ہے۔ روزگار کے نہ ہونے سے آدیواسی شہروں کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں اور اپنے پھیپھڑوں میں سلکوسس اور ٹی بی جیسی بیماریاںلے کر گھروں کی طرف لوٹتے ہیں یا پھر اونچاہار میں بائرل پھٹنے کے دردناک حادثے میں میورپور کے کلبل گائوں کے مان چندگوڈ، روپ چند گوڈ، اروند کمار گوڈ او گہبر سنگھ گوڈ کی طرح مرتے ہیں۔
ببھنی بلاک کے گائوں ستوہنی اور بروا ٹولہ میں تو ان حالات میں آدیواسی دھنیشور گونڈ کے بچے پربھو، پنا لال کی چھ سال کی بیٹی روپا کماری ، میر شاہ گونڈ کی تین سال کی بیٹی امرتا کماری، جے پرکاش کی ڈیڑھ سالہ بیٹی سویتا کماری اور چھتر دھاری کے بارہ سال کے بیٹے رام سندر سمیت قریب درجن بھر بچوں نے نصف ماہ میں دم توڑ دیا۔ ایسے میں یوگی سرکار کے ذریعہ آدیواسیوں اور جنگل کے باشندوں کو ان کی گزر بسر کے وسائل نسلی زمین سے بے دخل کرنے کی کارروائی زیادتی ہے۔ ان حالات میں ’’مزدور کسان منچ‘‘ نے اس علاقے میں آدیوایوں کے وجودو بقا کی حفاظت کے لئے مہم چھیڑنے کے ارادے سے’’ بھومی آدھیکار آندولن‘، آدیواسی استیما آندولن ‘‘ اور’’ سہکاری کرشی آندولن‘‘ چلانے کا فیصلہ لیا ہے۔ منچ نے سرکار سے مانگ کی ہے کہ سون بھدر ، مرزا پور اور چندولی کی قابل رحم حالت کو دھیان میں رکھتے ہوئے جنگلاتی اختیار قانون کے تحت آئے دعوئوں کی جانچ کے لئے اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی مقرر کرے جس کی نگرانی میں سہ رکنی کمیٹی جنگل کی زمین پر لوگوں کو ٹائٹل دیا جائے۔ جب تک یہ کارروائی نہ ہو تب تک محکمہ جنگلات کو نسلی زمین سے بے دخل کرنے کی کاررائی پر روک لگانے کا حکم دیا جائے۔ اس سلسلہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کی عرضی داخل کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ ’’سوراج ابھیان ‘‘ کے نیشنل ورکنگ کمیٹی ممبر اکھلیندر پرتاپ سنگھ اور دودھی کے سابق ایم ایل اے وجے سنگھ گوڑ نے وزیر اعظم ، نیشنل صدر برائے شیڈول کاسٹ کمیشن، الیکشن کمیشن اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط بھیج کر آدیواسیوں کے اتفاق سے قانونی، جمہوری حقوق کو یقینی کرنے کے لئے لوکر کمیشن کی سفارش لاگو کرنے اور اترپردیش میں ایک لوک سبھا کی سیٹ آدیواسیوں کے لئے ریزرو کرنے کی مانگ اٹھائی ہے۔ اس سوال پر’’ آدیواسی ادھیکار منچ ‘‘کی طرف سے دہلی میں آدیواسی میٹنگ منعقد کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے جس میں ان مانگوں کے ساتھ سون بھدر ، مرزا پور اور چندولی کے آدیواسی اکثریتی علاقہ کو آئین کی پانچویں شیڈولڈ کے تحت لانے کی مانگ اٹھائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *