ایس آر داراپوری
9bاب یہ باضابطہ طور پرمعلوم ہوگیا کہ اترپردیش میںدلت خواتین محفوظ نہیںہیں۔ حال ہی میںنیشنل کرائم ریسرچ بیورو(این سی آر بی) نے، کرائم اِن انڈیا2015-، رپورٹ جاری کی ہے(دیکھئے 12 تا 18 ستمبر اردو چوتھی دنیا)۔ اس رپورٹ میںسال 2015 میںپورے ملک میںدلتوں پر ہوئے ظلم و ستم کے جو اعداد وشمار شائع کیے گئے ہیں، ان سے یہ ابھرکر آیا ہے کہ دلت پر ظلم و ستم میںاترپردیش کافی آگے ہے۔اترپردیش کی دلت آبادی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔یہ اترپردیش کی آبادی کی 20.5 فیصد ہے۔ این سی آربی کی رپورٹ کے مطابق ملک میںسال 2015 میںدلتوںکے خلاف ظلم وزیادتی کے کل 45,003 معاملے درج ہوئے، جن میں سے اتر پردیش میں8,358معاملے واقع ہوئے۔ یہ قومی سطح پر کل واقع ہوئے جرائم کا 18.6 فیصد ہے۔ اس مدت میں قومی سطح پر ایک لاکھ دلت آبادی پر واقع ہوئے جرائم کی شرح 22.3رہی۔ اس میں اترپردیش میںیہ شرح 20.2 رہی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 2013 کی قومی شرح 19.6 کے مقابلے میں یہ کافی زیادہ ہے۔ ان اعداد وشمار سے ایک بات ابھر کر آئی ہے کہ اتر پردیش میںدلت خواتین محفوظ نہیںہیں، کیونکہ دلت خواتین پر مظالم کے معاملوں کی تعداد اور شرح قومی سطح پر کافی اوپر ہے اور کچھ معاملوں میںتو یہ سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ اترپردیش میںدلتوں کے خلاف کل جرائم کی شرح قومی شرح سے کچھ کم ہے، لیکن اعداد وشمار کے مندرجہ ذیل تجزیے میں یہ پایا گیا ہے کہ سنگین جرائم کے معاملے میںیہ قومی شرح سے کافی اونچی ہے۔
قتل: سال 2015 میں پورے ملک میں دلتوں کے قتل کی تعداد 707 تھی، جن میںاکیلے اترپردیش میں204 قتل ہوئے۔ اس جرم کی قومی شرح 0.4 کے برعکس اترپردیش کی شرح 0.5 رہی جو کافی اونچی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دلتوں کے قتل کے معاملے میں اترپردیش کافی آگے ہے۔
زنابالجبر: سال 2015 میں پورے ملک میں دلت خواتینزنابالجبر کے 2,332 معاملے واقع ہوئے، جن میںسے اکیلے اترپردیش میں 444 اوراس کی کوشش کے 22 معاملے درج ہوئے۔ اگرچہ اس جرم کی قومی شرح 1.2 کے برعکس اترپردیش کی شرح 1.1رہی، لیکن مجموعی طور پر جرائم کی تعداد کافی زیادہ رہی۔
عصمت دری کی کوشش میںحملہ: سال 2015 میں پورے ملک میں دلت خواتین کی عصمت دری کی کوشش میںحملے کے 2800 معاملے درج ہوئے، جن میں سے اکیلے اترپردیش میں 756 معاملے درج ہوئے۔ ا س جرم کی قومی شرح 1.4 کے برعکس اترپردیشمیں یہ شرح 1.8 رہی جو بہت زیادہ ہے۔
جنسی استحصال : سال 2015 میںپورے ملک میںدلت خواتین کے جنسی استحصال کے 1317 معاملے درج ہوئے، جن میںاکیلے اترپردیش میں704 معاملے واقع ہوئے۔ اس جرم کی قومی سطح پر شرح 0.7 رہی جبکہ اترپردیش کی یہ شرح 1.7 تھی جو کہ ملک میں سب سے اونچی ہے۔
شادی کے لیے اغوا: سال 2015 میںپورے ملک میںشادی کے لیے اغوا کے کل 455 معاملے واقع ہوئے، جن میںاکیلے اترپردیش میں338 معاملے واقع ہوئے۔ اس جرم کی قومی شرح 0.2 کے برعکس اترپردیش میں یہ شرح 0.8 رہی جو کہ پورے ملک میںسب سے اونچی ہے۔ اسی طرح پورے سال میں دلتوںکے اغوا کے 687 معاملے درج ہوئے، جن میںاکیلے اترپردیش میں415 معاملے واقع ہوئے۔ قومی سطح پر اس جرم کی شرح 0.3 رہی، جبکہ اترپردیش میںیہ شرح 1.0 رہی جو کہ ملک میں سب سے اونچی ہے۔
سنگین چوٹ: مندرجہ بالا مدت میںپورے ملک میںسنگین چوٹ کے 1007 معاملے درج ہوئے،جن میںاکیلے اترپردیش میں366 معاملے واقع ہوئے۔ اس جرم کی قومی شرح0.5 رہی جبکہ اترپردیش کی یہ شرح 0.9رہی جو کافی زیادہ ہے۔
بلوا: سال 2015 میں پورے ملک میں دلتوں کے خلاف بلوے کے 1465 معاملے سامنے آئے، جن میں اکیلے اترپردیش میں632 معاملے واقع ہوئے۔ اس جرم کی قومی شرح 0.7 تھی جبکہ اترپردیش میںیہ شرح 1.5 رہی جو کافی زیادہ ہے۔
ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے تحت جرائم: سال 2015 میںپورے ملک میں دلتوں پر زیادتی کے 38,564 معاملے درج ہوئے جن میں اکیلے اترپردیش میں 8357 کیس درج ہوئے۔ اس ایکٹ کے تحت جرائم کی قومی شرح 19.2 رہی جبکہ اترپردیش میں یہ شرح 20.2 رہی جو کہ کافی زیادہ ہے۔
مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہے کہ اگرچہ سال 2015میں اترپردیش میں دلتوں کے خلاف واقع کل جرائم کی شرح قومی سطح سے کچھ کم ہے،لیکن دلتوں کے خلاف سنگین جرائم جیسے قتل، بلوا اور ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے تحت جرائم کی شرح قومی سطح سے کافی زیادہ رہی۔ ان اعداد و شمار سے ایک بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ اترپردیش میںدلت خواتین کے خلاف جرائم جیسے زنا بالجبر، عصمت دری کی کوشش، اغوا، جنسی استحصال اور شادی کے لیے اغوا وغیرہ کی تعداد اور شرح قومی سطح سے کافی زیادہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی سرکار میںدلت خواتین بالکل محفوظ نہیںہیں۔
ایس سی / ایس ٹی کے دستورالعمل 1995 میںیہ آرڈ ر ہے کہ اس ایکٹ کے معاملوںکی سنوائی کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام کیا جائے گا، لیکن اترپردیش میںایسا نہ کرکے صرف موجودہ عدالتوںکو ہی خصوصی عدالتوں کا نام دیا گیا ہے،جس سے ان معاملوں کے نمٹارے میں طویل مدت لگی ہے۔ اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ اترپردیش میںدلتوں پر مظالم روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیںکی جارہی ہے اور نہ ہی قصورواروں کوسزا دلانے کے لیے مناسب انتظام ہے۔ سماجوادی سرکار کو تو چھوڑئے مایاوتی نے بھی اس جانب کبھی دھیان نہیں دیا۔ اسی طرح قاعدے کے مطابق وزیر اعلیٰ کو دلت زیادتی کے معاملوں کے جائزے کے لیے سال میںدو بار جائزہ میٹنگ بلانی چاہیے، لیکن نہ تو چار بار وزیر اعلیٰ رہیں مایاوتی نے اور نہ ہی موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے آج تک ایسی جائزہ میٹنگ بلائی۔ لگ بھگ یہی صورت حال ضلع سطح پر ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میںہر ماہ بلائی جانے والی اترپردیش جائزہ میٹنگوں کی بھی ہے۔
اترپردیش جہاں پر دلتوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے، وہاںدلتوں پر ہونے والے مظالم کے معاملے خاص طور سے سنگین جرائم بہت زیادہ ہیں، تویہ بھی تشویش کا موضوع ہے۔ ایک تو ویسے ہی سماجوادی سرکار کا اب تک کا رویہ دلت مخالف رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ تھانوں پر تھانہ انچارجوں کی تقرری میں21 فیصد کا ریزرویشن ہونے کے باوجود تھانوںمیں ان کی بہت کم تعیناتی کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جرائم کے یہ اعدادوشمار بہت معتبر نہیںہیں، کیونکہ بہت سے معاملے تو درج ہی نہیںکیے جاتے۔ لہٰذا دلتوں کے خلاف واقع ہونے والے جرائم کی تصویر سرکاری اعداد شمار سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ اس لیے اترپردیش میںدلتوں پر زیادتی کے معاملوں کوروکنے اور ان پر مناسب کارروائی کے لیے سیاسی قوت ارادی اور عوامی دباؤ کی ضرورت ہے، جس کا فی الحال فقدان ہے۔
(مصنف سابق آئی پی ایس افسر اور آل انڈیا پیپلز فرنٹ کے قومی ترجمان ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here