نجی طیارہ کا استعمال اور بدعنوانی

Share Article

کمل مرارکا 
ہندوستان کے امیر لوگ اصل میں کتنے امیر ہیں؟بہت زیادہ نہیں، یہاں کے امیر لوگ ہندوستانی لوگوں کے مقابلے میں امیر ہو سکتے ہیں، لیکن مغربی ملکوں کے امیروں کے مقابلے میں ہندوستان کے امیر اصل میں امیر نہیں ہیں۔پھر بھی ہندوستانی امیروں کی لائف اسٹائل اور رہن سہن مغربی ملکوں کے کسی بھی ارب پتی یا کھرب پتی کے مقابلے میں بہت زیادہ خرچیلا اور ٹھاٹ باٹ والا ہے۔ آخر کیسے؟ کیونکہ امریکہ میں ایک امیر آدمی اپنی لائف اسٹائل اور رہن سہن پر اپنا پیسہ خرچ کرتا ہے۔ کوئی بھی آدمی ایک مقررہ حد کے بعد خود کا پیسہ زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان میں یہ لائف اسٹائل کارپوریٹ منی( صنعت کار گروپ کا پیسہ) سے چلتا ہے۔ ہندوستان میں امیر لوگ خود کا پلین (پرائیویٹ پلین) نہیں رکھتے،بلکہ یہ ان کی کمپنی کا ہوتا ہے۔ کمپنی کے پلین کا وہ ذاتی طور پر استعمال کرتے ہیں۔سیاست داں کو بھی یہ پلین دیے جاتے ہیں، وہ بھی بغیر پیسے لئے۔ آخر اس کی قیمت کون چکاتا ہے؟یا تو کمپنی کا شیئر ہولڈر یا پھر ٹیکس پیئرس۔ ایسا اس لئے ممکن ہو پاتا ہے، کیونکہ انکم ٹیکس والے اس خرچ کے بارے میں جانچ نہیں کرتے یا اسے چیلنج نہیں دیتے۔ نتیجتاً، ایسی صورت حال بن گئی ہے کہ اس طرح کی خرچیلی لائف اسٹائل پر خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے۔ سیاسی پارٹی اور لیڈر بھی ان سب کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہ بھی بغیر کچھ خرچ کئے۔ مگر پیسہ شیئر ہولڈر یا ٹیکس پیئرس کا ہی جا رہا ہے، کیونکہ انکم ٹیکس کے لوگ اس پر چپ ہیں۔ اس پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔
حال میں نریندر مودی نے ایک بیان دیا کہ آخر سرکار سونیا گاندھی کے علاج پر ہندوستانی رقم کیوں خرچ کر رہی ہیں؟یہ ایک جاہلانہ بیان ہے۔ سونیا گاندھی یو پی اے کی صدر ہیں۔ این اے سی کی چیئر پرسن ہیں۔پارلیمنٹ کی منتخب ممبر ہیں۔ ایسے میں ان کے علاج پر اگر سرکار خرچ کر رہی ہے، تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ اس کے بجائے سوال یہ ہے کہ اگر سرکار خرچ نہیں کر رہی ہے، تو پھر پیسے کا ذریعہ کیا ہے؟یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگر وہ کسی کارپوریٹ گھرانے کے پرائیویٹ پلین سے غیر ملک جاتی ہیں اور باہر ملک میں علاج اور اسپتال پر ہو رہے خرچ کے لئے کسی انجان ذریعہ سے پیسہ آتاہے، تو یہ ملک کے لئے اصل خطرے کی بات ہے۔
ایسی صورت حال میں سرکار کسی کارپوریٹ باڈیز کے خلاف کیسے کارروائی کر سکتی ہے؟ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ بد عنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے اروند کجریوال بھی اس ایشو کو نہیں اٹھا رہے ہیں۔ کیوں؟مجھے نہیں معلوم۔ نریندر مودی نے اس ایشو کو اٹھایا اور کہا کہ سونیا گاندھی کے علاج پر کروڑوں خرچ کئے گئے۔ لیکن سرکار اگر یہ پیسہ خرچ کر رہی ہے، تو اس میں غلط کیا ہے؟ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ اگر سرکار خرچ نہیں کر رہی ہے، تب یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟کجریوال بھی اس سوال کو نہیں اٹھا رہے ہیں کہ کیسے لیڈر چھوٹے پلین سے پورے ملک اور باہری ملک کا دورہ کرتے ہیں؟وقت آگیا ہے کہ ان چیزوں پر دھیان دیا جائے۔ ٹھوس قانون ہو کہ جتنے بھی پرائیویٹ پلین ہیں، اس کے لئے خرچ کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ بہ مشکل ہندوستان میں رہنے والا کوئی صنعتکار اس حقیقت کو ثابت کرسکتا ہے کہ بزنس بڑھانے کے لئے پرائیویٹ پلین کی ضرورت ہے، جبکہ دہلی ممبئی کے لئے ہر آدھے گھنٹے پر پلین کی سہولت ہے۔ اگر ہم بد عنوانی کے خاتمے کو لے کر سچ مچ سنجیدہ ہیں، تو ہمیں اس ایشو پر بھی سوچنا ہوگا۔ اس طرح کے خرچ پر پوری طرح روک لگانی ہوگی۔ اس میں شفافیت لانی ہوگی۔ ساتھ ہی ہر مہینے سیاسی پارٹیوں کو بتانا چاہئے کہ کتنی مرتبہ اور کس کارپوریٹ ہائوس کے ایئر کرافٹ کا استعمال کیا گیا۔ ہر آدمی کو اس کی جانکاری ہونی چاہئے۔ ہم کول ، 2جی، اور دیگر باتوں پر چیخ چلا رہے ہیں۔ اگر مذکورہ قانون بن جائے،تو سب کچھ باہر نکل کر آ جائے گا۔ پتہ چل جائے گا کہ کول بلاک یا 2جی اسپیکٹرم کا الاٹمنٹ کرنے والے نے، جسے یہ سب الاٹ کیا، اس نے اسی آدمی کے پرائیویٹ پلین کا استعمال کیا۔ سی بی آئی ان سوالوں کونہیں اٹھا سکتی، کیونکہ اس کے باس بھی ان سب میں شامل ہیں۔ سی وی سی بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ لوک پال ایک حل تھا، لیکن شاید ہی کوئی لوک پال اس ملک کے بڑے لیڈروں سے سوال کرنے کی ہمت رکھے گا۔ اگر اگلے انتخاب تک چیزوں کو کچھ ٹھیک کرنا ہے، تو یہ صحیح وقت ہے کہ فنانس منسٹر اور وزیر اعظم اس ایشو پر غورکریں، کارروائی کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *