اب حاملہ خواتین کو ’بچے کی پیدائش‘ کے لیے ویزا نہیں دے گا امریکہ

 

انیلہ (فرضی نام) ایک پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد کی رہنے والی ایک خاتون ہیں۔وہ پاکستانی شہری ہیں مگر ان کے تین میں سے دو بچے امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان دونوں بچوں کا جنم امریکی سرزمین پر ہوا تھا۔امریکہ کے آئین کے مطابق امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو امریکہ کے مستقل شہری کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انیلہ نے بتایا کہ سنہ 2011 میں پہلے بچے کی پیدائش سے قبل وہ اپنے شوہر کے ہمراہ بزنس ویزے پر امریکہ گئی تھیں جہاں ان کے بڑے بچے کی پیدائش ہوئی اور انھیں امریکی اسپتالوں میں موجود صحت کی سہولیات بہت پسند آئیں۔سنہ 2015 میں دوسرے بچے کی پیدائش سے قبل انھیں طبی سہولیات سے استفادہ کرنے اور بچے کی پیدائش امریکہ میں ممکن بنانے کے لیے انھوں نے امریکہ کا سیاحتی ویزا لگوایا اور دوسرا بچہ بھی وہیں پیدا ہوا جس کے بعد وہ وطن واپس لوٹ آئیں۔
تاہم اب امریکہ نے 24 جنوری سے ایسی حاملہ خواتین کو سیاحتی ویزوں کا اجرا بند کرنے کا اعلان کیا ہے جو امریکی حکام کے مطابق بچوں کو امریکی سرزمین پر جنم دینے کی غرض سے امریکہ کا سفر کرتی ہیں۔وہائٹ ہاؤس کے مطابق جمعہ سے نافذ العمل ہونے والے اس ضابطے کا مقصد ’امریکی شہریت کا تحفظ‘ ہے۔وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد ان مختصر مدتی سیاحتی ویزوں کو ’امریکی سرزمین پر اپنے بچوں کی پیدائش کے ذریعے (پیدا ہونے والے بچوں کے لیے) مستقل امریکی شہریت کے حصول‘ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز کے مطابق سنہ 2016 کے وسط سے لے کر سنہ 2017 کے وسط تک ’برتھ ٹورازم‘ کے تحت 33 ہزار بچوں کی امریکی سرزمین پر پیدائش ہوئی۔ امریکہ میں سالانہ شرح پیدائش تقریباً 38 لاکھ ہے۔

Image result for US will no longer give pregnant women visa for 'childbirth'
دوسری جانب انیلہ کہتی ہیں کہ ان کا مقصد ہرگز صرف یہ نہیں تھا کہ بچوں کو امریکی شہریت دلانے کی غرض سے انہوں نے امریکہ کا سفر کیا۔ ’بچے کی امریکہ میں پیدائش بچے کے مستقبل کے لیے فائدہ مند تو ہوتی ہی ہے مگر ان کا مقصد صرف اچھی علاج معالجے کی سہولیات سے مستفید ہونا تھا۔امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو حاصل امریکی شہریت کے حق کا قانون ختم کر دیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں انہیں امریکی ویزا صرف اس وجہ سے نہ دیا گیا کہ وہ حاملہ ہیں اور قونصلر افسر کے مطابق ان کے وہاں جانے کا مقصد بچے کی امریکی سرزمین پر پیدائش ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بات انھیں ’بہت بری‘ لگے گی۔ انھوں نے کہا کہ شاید اس پابندی کی وجہ یہ ہے کہ چند لوگ اس کی آڑ میں غیر قانونی کام کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں رہائش کے دوران انھوں نے بہت سے دوسرے ممالک کے ایسے افراد کو دیکھا جو امریکہ آتے ہی اس کام کے لیے تھے، بچے پیدا کرتے اور چلے جاتے۔

Image result for US will no longer give pregnant women visa for 'childbirth'
نیا قانون کیا ہے؟
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفین گریشم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’عارضی بی ون اور بی ٹو سیاحتی ویزے ایسے غیر ملکیوں کو مزید جاری نہیں کیے جائیں گے جو امریکہ میں ’برتھ ٹورازم‘ کی غرض سے داخل ہوتے ہیں۔انھوں نے ماضی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ’واضح امیگریشن سقم‘ تھا اور اس کا خاتمہ عوامی تحفظ، قومی سلامتی اور امیگریشن سسٹم کی سالمیت کے لیے ضروری تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *