طالبان جو کسی زمانے میں امریکہ کا سخت ترین دشمن تھا اور اس کی بیخ کنی کے لئے مسلسل 16 برسوں تک کوشش کرتارہا، اب وہ اسی طالبان سے بات چیت کے لئے بے قرار نظر آتا ہے۔دراصل امریکہ طالبان کو افغانستان سے پاک کرنے کے اپنے منصوبے میں ناکام ہوچکا ہے۔اسے اس بات کا پورا احساس ہے کہ افغانستان میں طالبانیوں کو اعتماد میں لئے بغیر امن کی بحالی ممکن نہیں ہے۔
طالبان کے تعلق سے امریکہ کے موقف کو منظر عام پر لاتے ہوئے وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے امریکی سفیر ایلس جی ویلز کا کہنا ہے کہ’ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی اور دونوں کے درمیان براہ راست بات چیت کی ہم حمایت کرتے ہیں اور اس میں شامل ہونے اور اس میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم افغان حکومت اور تمام فریقین کی حمایت کریں گے تاکہ وہ بات چیت کے ذریعے باہمی معاہدے پر پہنچ سکیں جس سے تنازعے کا خاتمہ ہو اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تقریباً 16 برس سے زیادہ کی جنگ کے بعد ہم نے رواں برس امن بات چیت کے حوالے سے منفرد حقیقی موقع دیکھا جس کے نتیجے میں اس تنازع کا پائیدار حل نکل سکتا ہے اور اس طرح کے معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کے ضروری مفادات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور بلآخر افغانستان میں ہماری طویل مدتی مصروفیات سے منسلک اخراجات کو کم کیا جا سکے گا‘۔انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ لازمی طور پر تشدد کو ترک کریں، القاعدہ سے تعلقات ختم کریں اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کریں جس میں خواتین اور اقلیتوں کا تحفظ شامل ہے۔
امریکی خصوصی سفیر نے مزید کہا کہ افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے ہم چار نکات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔(1) افغان حکومت کی تشدد میں کمی کے حوالے سے کوشش کی حمایت کرنا اور امن بات چیت کو نقصان پہنچانے والوں سے تحفظ فراہم کرنا۔(2) دوسرا ہم افغان سیاسی منظر نامے میں شامل سب کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ امن کی حمایت کریں اور آئندہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں ملکی مفادات کو اولین رکھیں۔(3) عسکریت پسندی کی حمایت کی بیخ کنی کے لیے افغان حکومت کی اصلاحات کی حمایت کرنا۔(4) ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ اور قریبی ہمسایہ ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ افغان حکومت کے امن کے تصور کے لیے علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
 
 
 
 
 
قیام امن کا امریکی خواب کتنا حقیقی؟
تازہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان امور کے تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے گزشتہ دنوں جنگ بندی کے بعد بھی امن بات چیت کے بارے میں کوئی زیادہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ حالیہ جنگ بندی کے دوران جس طرح سے عام عوام نے طالبان جنگجوؤں کا شہروں میں استقبال اور خیرمقدم کیا ہے، اس سے ان پر اخلاقی دباؤ بڑھا ہوگا لیکن امن بات چیت شروع کرنے کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اگر حالیہ جنگ بندی کی بات کی جائے تو اس پر بھی طالبان قیادت کے اندر سے اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں کیونکہ وہ افغان حکومت کو سرے سے اس معاملے میں فریق سمجھتے ہی نہیں ہیں اور اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کے لیے اپنے لوگوں کو مطمئن کرنا کافی مشکل ہو گا کیونکہ یہ سابق سربراہ ملا عمر اور ملا منصور اختر کی سوچ کے بالکل متضاد ہو گا۔
البتہ ایک بات کہی جاتی ہے کہ طالبانی امریکہ کے ساتھ مشروط بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے وہ امریکہ سے چاہتے ہیں کہ انھیں پہلے یہ بتایا جائے کہ کیا امریکہ افغانستان سے جانا چاہتا ہے اور کب جانا چاہتا ہے۔حالیہ دنوں میں طالبان کے بارے میں امریکی رویے میں دکھائی جانے والی نرمی کے بارے میں سوال کے جواب میں طاہر خان نے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہاں پر کیا ہو رہا ہے۔
چنانچہ تین ماہ پہلے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی پر سوالات اٹھانے والے ایک امریکی سینیٹر کو طالبان نے قطر میں قائم اپنے دفتر س دعوت بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ کے جنگ پر ہونے والے اخراجات ایک طرف تو رواں برس اکتوبر میں یہ جنگ 18ویں برس میں داخل ہو جائے گی لیکن اب طالبان پشتون علاقوں سے نکل کر دیگر علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔طاہر خان کے مطابق ’افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھا ہے جبکہ روس، چین، ایران، پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں اور ان تمام معاملات کی وجہ سے امریکہ پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے امریکہ چاہتا ہے کہ طالبانیوں کے ساتھ بات چیت ہو۔‘
بہر کیف امریکہ اب یہ سمجھ چکا ہے کہ وہ طالبانیوںکو طاقت کے بل پر افغانستان سے ختم نہیں کرسکتا ہے۔ نیز پاکستان میں بھی اس کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ پاکستان حکومت کے تعاون سے اس نیٹ ورک کو ختم تو کیا جاسکتا ہے مگر سوال یہی ہے کہ کیا اس سلسلہ میں پاکستان کی حکومت مخلصانہ کوشش کرے گی ۔ظاہر ہے پاکستان سے اب تک کا تجربہ بہت اچھا نہیں رہا ہے ۔رہی بات افغانستان میں طالبانیوں کی تو یہاں یہ اتنے مضبوط ہیں کہ طاقت کے بل پر ان کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔امریکہ نے 16 برسوں تک طاقت کا استعمال کرکے دیکھ لیا کہ طالبانیوں کی طاقت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ لہٰذا اب ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ امریکہ طالبانیوں کے ساتھ بات چیت کرے اور بات چیت کے ذریعہ اس معاملے کو نمٹائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here