امریکی سپریم کورٹ میں ہندوستانی کسانوں کی سب سے بڑی جیت

Share Article

 

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا آئی ایف سی کو انٹرنیشنل آرگنائزیشن ایمونٹی ایکٹ 1945 کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے یا نہیں؟ درخواست گزاروں نے نچلی عدالتوں سے عرضیاں خارج ہونے کے بعد سال 2018 میں سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ نچلی عدالتوں نے یہ کہہ کر ان کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں کہ آئی ایف سی کو دوسرے ممالک کی طرح اس قانون کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اپنی عرضیمیں دیہاتیوں نے دلیل دی تھی کہ اس پلانٹ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معیار پر عمل نہیں کیا ۔

 

 

گجرات (کچھ) واقع مقامی لوگوں نے امریکی سپریم کورٹ میں ٹاٹا مندرا پروجیکٹ کے عالمی بینک کے خلاف جیت حاصل کی ہے، جس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔ امریکی سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ عالمی بینک کسی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور عالمی بینک کے اوپر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے،آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دوسری بار (بنیاد رائٹ ٹو پراوسی کیس کے بعد) جب عوام نے اپنے بنیادی حقوق کے پروٹیکشن کیلئے قانونی جنگ لڑی اور فتح حاصل کی ہے۔

گجرات کے ایک پاور پلانٹ کو لے کر مقامی لوگوں امریکی سپریم کورٹ میں عرضی کی تھی، جس کی آج سماعت ہوئی۔ اس سے پہلے امریکی عدالت نے بین الاقوامی مالیاتی تعاون سے تعمیر کوئلے سے چلنے اس پلانٹ کے خلاف دائر اپیل قبول کر لی تھی۔ یہ معاملہ کچھ ضلع میں واقع ٹاٹا مندرا پاور پلانٹ سے منسلک ہے۔

عرضی میں بدھ اسماعیل جام کی قیادت میں کئی کسانوں اور ماہی گیروں نے الزام لگایا ہے کہ اس پاور پلانٹ سے مقامی ماحول کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع عالمی بینک کی مالی یونٹ انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے اس منصوبے کے لئے 45 کروڑ ڈالر (تقریباً تین ہزار کروڑ روپے) کی مالی مدد مہیا کرائی گئی تھی۔

 

us-supreme-courts

 

 

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا آئی ایف سی کو انٹرنیشنل آرگنائزیشن ایمونٹی ایکٹ 1945 کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے یا نہیں؟ درخواست گزاروں نے نچلی عدالتوں سے عرضیاں خارج ہونے کے بعد سال 2018 میں سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ نچلی عدالتوں نے یہ کہہ کر ان کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں کہ آئی ایف سی کو دوسرے ممالک کی طرح اس قانون کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اپنی عرضیمیں دیہاتیوں نے دلیل دی تھی کہ اس پلانٹ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معیار پر عمل نہیں کیا ۔

سپریم کورٹ نے پیر کو کہا،’پٹیشن منظور کی جاتی ہے، اس معاملے پر اکتوبر کے شروع میں سماعت ہوگی۔‘ درخواست میں بدھ اسماعیل جام کی قیادت میں کئی کسانوں اور ماہی گیروں نے الزام لگایا ہے کہ اس پاور پلانٹ سے مقامی ماحول کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع عالمی بینک کی مالی یونٹ انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے اس منصوبے کے لئے 45 کروڑ ڈالر(تقریباً تین ہزار کروڑ روپے) کی مالی مدد مہیا کرائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ کیاآئی ایف سی کو انٹرنیشنل آرگنائزیشن ایمونٹی ایکٹ 1945 کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے یا نہیں؟ درخواست گزاروں نے نچلی عدالتوں سے عرضیاں خارج ہونے کے بعد اس سال سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔نچلی عدالتوں نے یہ کہہ کر ان کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں کہ آئی ایف سی کو دوسرے ممالک کی طرح اس قانون کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اپنی درخواستوں میں دیہاتیوں نے دلیل دی تھی کہ اس پلانٹ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معیار پر عمل نہیں کیا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *