کشمیر مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر دیے گئے بیان پر امریکہ کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب یو ٹرن لے لیا ہے۔ کشمیر پر کسی بھی طرح کی ثالثی کے امریکی انتظامیہ نے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے پہلے ثالثی کا آفر دیا تھا لیکن بھارت کے سخت رخ کے بعد ٹرمپ نے پلٹی مار لی ہے۔ امریکہ نے کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ بتایا ہے۔
بھارتی سفیر ہرش وردھن سنگلا کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے۔ امریکہ میں بھارت کے سفیر ہرش وردھن سنگلا نے کہا کہ امریکہ اپنی پرانی پالیسی پر چلنا چاہتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
سفیر ہرش وردھن نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ پہلے ہی صاف کر چکے ہیں کہ اگر ہندوستان اور پاکستان چاہتے ہیں کہ وہ ثالثی کریں تو وہ ثالثی کر سکتے ہیں۔ لیکن بھارت کا رخ صاف ہے کہ کشمیر دو مسئلہ ہے جس پر فیصلہ صرف دونوں ملک کر سکتے ہیں۔بھارت کا کشمیر پر ہمیشہ موقف واضح رہا ہے کہ یہ ایک اندرونی مسئلہ ہے، جس پر کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
امریکی انتظامیہ کے اس موقف سے پاکستان کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ جموں و کشمیر پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان دنیا کے سامنے مدد کی فریاد لگا رہے ہیں، لیکن پاکستان کے پروپیگنڈہ کو کسی ملک میں توجہ نہیں مل رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here