اسد رجیم سے منسلک 16 افراد اور اداروں پر امریکہ کی نئی پابندیاں

Share Article

 

امریکہ نے گزشتہ روز شامی رجیم سے منسلک 16 اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی تیل کی سپلائی میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ان کے کارندے بھی نئی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بلیک لسٹ کردہ شامی تاجروں اور کاروباری کمپنیوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ بلیک لسٹ ہونے والے کاروباری افراد میں سامرفوز اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

 

امریکی وزارت خزانہ کے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس امور کے معاون خصوصی سیگل مانڈلکر نے کہا ہے کہ اسد رجیم کے معاون بعض تاجر شامی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے شہریوں کی املاک پرقبضے اور ان پر سرمایہ کاری میں ملوث ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے شامی رجیم سے منسلک ایسی 16 شخصیات اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا ہے جو اس سے قبل یورپی یونین کی طرف سے بھی بلیک لسٹ کی جا چکی ہیں۔ان میں چینی، اناج اورپٹرولیم مصنوعات کی تجارت کے لیے قائم کردہ کمپنی کے مالکان فوز برادران حسین فوز اور عافر فوز بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہیکہ شامی رجیم سے منسلک بلیک لسٹ کردہ کمپنیوں میں سے ‘سینرجی ایس اے ایل’ اور ‘بی ایس کومبانی’ کے صدر دفاتر لبنان میں ہیں۔

 

یہ دونوںکمپنیاں ایرانی تیل پرعاید کردہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کا خام تیل فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔اس کے علاوہ ٹیلی ویڑن چینل’لنا’ اور دمشق میں قائم’فورسیزنز’ ہوٹل کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں شامی کاروباری شخصیت سامر فوز کی ملکیت بتائے جاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *