امریکہ اور طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی مدت پر رضامند

Share Article

افغانستان میں 18 برس سے جاری جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے سلسلے میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے مفاہمتی عمل میں غیر ملکی افواج کے انخلا کی مدت پر اتفاق ہو گیا۔طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’انخلا کے وقت کے حوالے سے ہم سمجھوتے پر پہنچ چکے اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کے حوالے سے بات چیت کی جارہی ہے‘۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور کے دوسرے روز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری عمومی گفتگو ہوئی اور کل ہم عملدرآمد کے بارے میں بات چیت کریں گے‘۔خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امریکی افواج کے انخلا، جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات اور افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت کے حوالے سے بات چیت کے 8 ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔تاہم اب بھی طالبان اشرف غنی کی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ افواج کے انخلا کے ٹائم فریم پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں وہ امن معاہدے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔دوسری جانب اپنی گفتگو میں سہیل شاہین نے افواج کے انخلا کے اوقات کار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ افغان میڈیا میں طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی مدت 15 ماہ سے 2 سال کے درمیان ہے۔طالبان ترجمان نے اس ٹائم فریم کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جب دونوں فریقین عملدرآمد کے طریقہ کار پر رضامند ہوجائیں گے تو اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

 

Image result for US and Taliban

ادھر امریکہ نے انخلا کی مدت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تاہم امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور ان کی ٹیم نے ’امن عمل میں خاصی پیش رفت کی ہے‘۔خیال رہے کہ واشنگٹن، طالبان کے ساتھ یکم ستمبر تک معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسی ماہ افغانستان میں صدارتی انتخاب بھی ہو گا، جبکہ امریکی صدارتی انتخاب 2020 میں ہو گا۔اس ضمن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ہم افغانستان میں 18 برس سے ہیں، ہم افغان حکومت اور طالبان دونوں سے اچھی بات چیت کر رہے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا‘۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ان کی حکومت ’جامع مذاکرات‘ کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے پر دستخط ہونے سے قبل اس دستاویز کا جائزہ لے گی۔قومی ٹیلی ویڑن پر انٹریو دیتے ہوئے افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ا?ئندہ 5 ماہ کے عرصے میں 5 ہزار امریکی فوجی بھی افغانستان سے چلیں جائیں تو افغانستان کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *