تلنگانہ میں اردو دوسری سرکاری زبان انتخابی وعدوں کو پوراکرنے کے لئے کے سی آر سرگرم عمل

Share Article

ملک کی 12.68فیصد مسلم آبادی والی انتیسویں ریاست تلنگانہ کے قیام میں مسلمانوں کا اہم رول رہا ہے۔مسلمانوں کی اس قربانی کا حق دینے میں وہاں کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرنا چاہتے ہیں۔ اب تک انھوں نے جو بھی اقدام اٹھائے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کو ختم کیا جائے اور تلنگانہ کو پہلی ایسی ریاست بنائیں جو فرقہ وارانہ دنگوں سے پاک ہو اور مسلمانوں کو وہ تمام حقوق دیئے جائیں جو دوسرے طبقوں کو حاصل ہیں یعنی ان کا مجموعی طور پر امپاورمنٹ ہو۔
اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان کرنا۔وزیر اعلیٰ کے سی آر نے ریاست میں اردو زبان کو بحیثیت دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر اس اعلان کو قانونی شکل دے دی جاتی ہے توریاست میں سرکار ی کام کاج تیلگو کے بعد اردو میں بھی کیا جاسکے گا اور پھر اردو جاب اورینٹیڈ زبان بن جائے گی۔ اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ اس بات کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائی جاے مگر دشواری یہ پیش آرہی تھی کہ آندھراا پردیش کی صورت حال تلنگانہ سے کچھ مختلف ہے ۔یہاں 10 اضلاع میں ہی اردو زبان بحیثیت مادری زبان استعمال کی جاتی ہے اور23 اضلاع میں اردو زبان کے لوگ نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کچھ اضلاع میں یہ نافذ ہے اور کچھ اضلاع میں میں نہیںہے لیکن اب ضلعی سطح پر نہیں بلکہ ریاستی سطح پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر اختیار کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔اب پورے تلگانہ میں اردو میں بھی کام کاج کیا جاسکے گا‘۔ سرکار کے اس فیصلے سے جہاں اپوزیشن میں غصہ ہے وہیں اردو داں طبقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے سی آر کے اس اعلان کے بعد اب تلنگانہ کے تمام سرکاری کام کاج میںاردو کو بطور سرکاری زبان استعمال کیا جائے گا اور تمام مقابلہ جاتی امتحانات کے پرچے اردو میں بھی ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے اس زبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مزید کہا کہ اردو کی ترقی کے لئے ڈسٹرکٹ سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ 900اردو اساتذہ بحال کئے جائیںگے۔اس کے علاوہ اردو آفیسر اور ٹرانسلیٹر بھی بحال کئے جائیںگے اور یہ تمام عمل اردو اکیڈمی کے توسط سے 60دنوں کے اندر پورا کردیا جائے گا ۔

 

 

 

 

 

 

یہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں کے لئے تمام سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں 12فیصدریزرویشن دیئے جانے کی تجویز ہے ۔ اگر یہ ریزرویشن نافذ ہوجاتا ہے تو مسلم اقلیت کو خاص طورپر فائدہ ملے گا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم مودی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ریزرویشن کو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی طرح اقلیت کے لئے بھی پاس کرائیں۔
جہاں تک آئین میں صرف 50فیصد تک ہی ریزرویشن دیئے جانے کی بات ہے تو ریاست نے مرکزی حکومت سے گزارش کی ہے کہ ریاست تمل ناڈو کی طرز پر یہاں پر اس ریزرویشن کوٹے کو بڑھا کر 69فیصد کردے تو آئین میں موجود شق کی رکاوٹ بھی دور ہوجائے گی اور اقلیتوںکو ریزرویشن بھی مل جائے گا۔اگر مرکزی حکومت نے اس اپیل کو قبول نہیں کیا تو ہم سپریم کورٹ میںیہ معاملہ لے کرجائیں گے جس کی اطلاع مرکز کو بھی دے دی جائے گی۔ہماری کوشش ہوگی کہ کل جماعتی وفد وزیر اعظم سے مل کر اس موضوع پر بات چیت کریں۔
قابل ذکر ہے کہ کے سی آر نے اپنے انتخابی منشور میں 10 فیصد ریزرویشن شیڈولڈ کاسٹ اور 12 فیصدبرائے اقلیت کا وعدہ کیا تھا۔لہٰذا انہوں نے ایک بل پاس کرکے اس کے ریٹی فکیشن کے لئے مرکز کو بھیجا ہے۔اگر اس پر مرکز کی طرف سے کوئی رسپانس نہیںملا تو ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میںاٹھائیں گے۔یہی نہیں، اگر اس مسئلے کو جلد نہیں حل کیا گیا تو آئندہ پارلیمانی انتخابات 2019 میں اس مسئلے کو عوام میں لے کر جائیں گے۔دیکھا جائے توپہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کے تعلق سے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔
کانگریس نے مسلم ووٹ کی بدولت اس ملک پر ایک مدت تک راج کیا مگر احسان فراموشی میں سب سے آگے رہی اور مسلمانوں کے ساتھ جس قدر ناانصافی اس کے دور میں ہوئی، کسی پارٹی کی حکومت میں نہیں ہوئی۔اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں نے بھی اردو کو اس کا حق دینے میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو، ممتا بنرجی وغیرہ نے مسلمانوں کے ووٹ سے حکومت کی اور اردو کو جائز حق دلانے کا زورو شور سے وعدہ کیا مگر آج تک انھوں نے اس سلسلے میں کبھی بھی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ۔اس طرح دیکھا جائے تو کے سی آر نے اردو کے تئیں ایک مثبت اور حسب وعدہ بہتر قدم اٹھایا ہے۔

 

 

 

 

 

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے اب تک اہل اردو کو اس بات کی شکایت رہی ہے کہ ان کی زبان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور انہیں اس کا جائز حق نہیں دیا جارہا ہے۔بہار میں لالو اوراترپردیش میں ملائم نے بھی اردو کے تعلق سے لمبے لمبے وعدے کئے مگر کام کچھ نہیں کیا۔ لالو کے پندرہ سالہ اقتدار کے بعد بھی بہار میں اردو کو عملی طور پر دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں ملا حالانکہ تقریباً 25 سال پہلے کانگریس کے وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ آج یہاں کے اردو اسکولوں میں اردو کے ٹیچرس ہی نہیں ہیں بلکہ تمام ہندی کے لوگوں کو بھر دیا گیا ہے۔
اسی طرح راجدھانی دہلی کی حالت ہے۔دہلی میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوئے 15 سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن ان 15 سالوں میں اردو کو وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جو دوسری زبانوں کو حاصل ہے۔2002 میں دہلی کی سابقہ شیلا دیکشت حکومت نے دہلی میں ایک ساتھ پنجابی اور اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا اور حکومت نے دہلی میںاردو زبان کو فروغ دینے اور اس کو روزگار سے جوڑنے اور دہلی کے تمام سکولوں اور دفاتر میں اساتذہ اور مترجم و دیگر اردو افسرون کی تقرری کروانے کے مقصد سے سروے کرنے اور تقرری کی لسٹ تیار کرنے کا اعلان کیا تھا ۔لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوا۔کجریوال کی سرکار میں جو کنٹریکٹ کی بنیادپر اساتذہ تھے ،انہیں مستقل کرنے کا اعلان ہوا۔ خوشی کی لہر دوڑی مگر اس پر عمل ہنوز باقی ہے ۔مزید براں جہاں اسامیاںخالی ہیں،ان پر کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔
اس تناظر میں تلنگانہ میں پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ سرکار نے اردو پر دھیان دیا ۔ سرکاری کاغذات اور دفاتر میں اب اردو دکھائی دینے لگی ہے۔غرضیکہ کے سی آر نے تلنگانہ کی تشکیل کے وقت جو وعدے کئے تھے،انہیں ایمانداری سے پورا کررہے ہیں۔تلنگانہ ریاست کا قیام ایک لمبی جدوجہد کے بعد عمل میں آیا تھا۔ موجودہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے تقریباً 12 برسوں تک اس کے لئے لڑائی لڑی ہے۔ 2 جون 2014 کو اس وقت ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جب انھو ں نے یہاں سرکار بنانے میں کامیابی پائی۔اب وہ اس ریاست کو تمام مذاہب کے بیچ گنگا جمنی تہذیب کا مرقع بنا کر آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں اور اسی کوشش کے سلسلہ میںاردو کو دوسری سرکاری زبان دینا بھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *