اردو مافیائوں کے گینگ وار کا نیا محاذ

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز
پہلے ہم ممبئی کے اَنڈر ورلڈ کے درمیان گینگ وار کی باتیں سنا کرتے تھے، جس میں داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن یا پھر اس سے پہلے حاجی مستان یا کریم لالہ کے متعدد شاطر اور بدمعاش گروہوں کے درمیان ممبئی کے مختلف علاقوں میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے خونی جھڑپیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ گروہ اغوا، ہفتہ وصولی، شراب کے ٹھیکے یا پھر جسم فروشی کے اڈے وغیرہ چلا کر اپنے غیر قانونی کاروبار کو آگے بڑھانے میں مصروف رہا کرتے تھے۔ بہت بعد میں چل کر پولس کی طرف سے ان غیر قانونی گروہوں کا صفایا کرنے کے لیے انکاؤنٹر کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اب اردو کے نام پر ہندوستان میں جو مافیا گروہ سرگرم ہے، ان کے درمیان بھی گینگ وار کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن پولس کی طرح ان کا انکاؤنٹر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اردو میں مافیا گیری کا یہ دھندہ ویسے تو کافی دنوں سے پھل پھول رہا ہے، لیکن یہ ساری چیزیں ابھی تک پردے کے پیچھے ہی چل رہی تھیں، منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔ اب کچھ حلقوں کی طرف سے اردو کے مافیاؤں کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے، بلکہ اس حلقے نے عدالت کے دروازے تک کھٹکھٹانے شروع کر دیے ہیں۔

ہندوستان کے عظیم سوشل ریفارمر اور ماہر تعلیم سرسید احمد خاں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد تو ڈالی ہی، ساتھ ہی انہوں نے ’محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس‘ نامی تنظیم قائم کرکے پورے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھانے کی بھی کوشش کی۔ اسی ایجوکیشنل کانفرنس کی دین ہے 1903 میں بننے والا اردو کا وہ بڑا ادارہ، جسے ہم آج انجمن ترقی اردو (ہند) کے نام سے جانتے ہیں، جس کی آبیادی سرسید کے پوتے سر راس مسعود، سرسید کے گہرے دوست علامہ شبلی نعمانی، الطاف حسین حالی، ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین، مولوی عبدالحق، پروفیسر آل احمد سرور جیسی عظیم شخصیات نے کی ہے۔ اس انجمن کو قائم کرنے کا مقصد بہت وسیع تھا، لیکن آج یہ ادارہ ایک آدمی کی ڈکٹیٹرشپ کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ اس نے اردو دنیا میں پہلی بار باقاعدہ ایک گینگ وار کی شروعات کر دی ہے۔

گزشتہ دنوں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے سابق ڈائریکٹر، ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ کا واقعہ سامنے آیا تھا، جنہیں یو پی اے حکومت کے پہلے دور میں سی بی آئی انکوائری کا سامنا کرنا پڑا اور سرکاری فنڈ کا غلط استعمال کرنے اور آمدنی سے زیادہ اثاثہ جمع کرنے کی وجہ سے جیل بھی ہوئی تھی، حالانکہ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا اور پھر دوبارہ این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر کے طور پر بحال بھی کر دیا گیا، لیکن موجود واقعہ میں انہیں اپنی عمر سے متعلق تنازع کا شکار ہونا پڑا اور پھر اخیر میں دہلی ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ڈائریکٹر کے عہدہ سے سبک دوشی اختیار کرنی پڑی۔ این سی پی یو ایل کے ضابطہ کے مطابق کوئی بھی شخص 58 سال کی عمر تک ہی اس ادارہ کا ڈائریکٹر رہ سکتا ہے، لیکن حمید اللہ بھٹ صاحب عمر کی اس حد کو پار کرنے کے باوجود اس عہدہ پر فائز تھے۔
تازہ واقعہ انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی کے جنرل سکریٹری، ڈاکٹر خلیق انجم سے متعلق ہے، جن کے پاس آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر، سید شہاب الدین اور آتھرس انجمن کے صدر، جاوید رحمانی نے خطوط بھیج کر انجمن ترقی اردو (ہند) کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے، لیکن ڈاکٹر خلیق انجم صاحب اس کا جواب دینے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔ چوتھی دنیا نے بھی ڈاکٹر خلیق انجم صاحب سے رابطہ کرکے، ان واجب سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی، تو انہوں نے برجستہ کہا کہ انہیں ان سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے تمام اخراجات کی سالانہ آڈیٹنگ ہوتی ہے، پھر وہ کسی کو اس کی تفصیل بھلا کیوں فراہم کریں۔ لیکن خلیق انجم صاحب اتنی آسانی سے اپنی جوابدہی سے بھاگ نہیں سکتے۔ ان کے خلاف تو اور بھی کئی سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں، مثال کے طور پر انہوں نے آج تک انجمن ترقی اردو (ہند) کی طرف سے اردو میں کوئی سائنسی جریدہ کیوں نہیں نکالا، جب کہ میمورنڈ آف ایسوسی ایشن میں ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے؛ اسی طرح وہ دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن ان کی کیا مجبوری رہی کہ وہ دہلی حکومت سے پچھلے 18 سالوں میں ایک بھی اردو ٹیچر کو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جب کہ رجسٹریشن آف سوسائٹی ایکٹ، 1860 کے تحت ان کی انجمن کو حکومت کو اس معاملے میں گھیرنے اور اردو کا کام کرانے کا پورا قانونی اختیار حاصل ہے؛ انجمن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا پانچ ممبر اگر خلیق انجم صاحب کے خلاف اپنے اعتراض کو تحریری شکل میں ظاہر کرتا تو وہ جنرل سکریٹری کے عہدہ سے ہٹائے جاسکتے تھے، لیکن اتنی بدعنوانیوں کے باوجود آخر کس طرح وہ اتنے دنوں تک اپنے عہدے پر بنے ہوئے ہیں؛ بطور جنرل سکریٹری انہوں نے انجمن کے صدر اور نائب صدر سے خود کو ہمیشہ اوپر کیوں سمجھا اور کیوں تمام اختیارات کو جنرل سکریٹری کے عہدہ تک محدود کر دیا، وغیرہ وغیرہ۔
سید شہاب الدین اور جاوید رحمانی نے فی الحال ڈاکٹر خلیق انجم صاحب سے جو سوالات پوچھے ہیں، وہ کچھ اس طرح ہیں:
.1      بحیثیت جنرل سکریٹری، آپ کی نظر میں انجمن ترقی اردو (ہند) کے ملازموں کے گورننگ رول کیا ہیں؟ اور ان کے تحت ہر ملازم کام کر رہا ہے یا نہیں، یہ کون اور کس طرح طے کرتا ہے؟ اور اس سلسلے میں کوئی رپورٹ کتنے دنوں میں تیار کی جاتی ہے؟ اگر کوئی ایسی تمام رپورٹس دیکھنا چاہے تو کس سے رجوع کرے؟
.2      نجمن ترقی اردو (ہند) کے ملازموں میں سے کون کون کسی سیاسی اور صحافتی سرگرمی میں حصہ لیتا رہا ہے؟ پوری تفصیل مہیا کریں اور یہ بھی بتائیں کہ انہیں اس سیاسی / صحافتی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت کس نے اور کس ضابطے کے تحت دی؟ اور اگر کسی نے ایسی کسی اجازت کے بغیر ایسا کچھ کیا ہے تو اس کے خلاف ضابطہ شکنی کی کیا کارروائی کی گئی؟ اور اگر نہیں کی گئی، تو کیوں؟
.3      انجمن ترقی اردو (ہند) میں کتنے ملازم برسر کار ہیں، کن عہدوں اور اسکیل پر، اور ان کی تعلیمی لیاقت / ڈگریاں کیاں ہیں؟ ان کے ذمے کیا کام ہیں اور کب سے؟ ان کی مکمل چارٹ فراہم کریں۔
.4      انجمن ترقی اردو (ہند) کی بصورت موجودہ کل آمدنی کیا اور کن کن ذرائع سے ہے؟ پوری تفصیل مہیا کریں۔
.5      انجمن ترقی اردو (ہند) کے سالانہ اخراجات کیا ہیں اور سالانہ آڈٹ ہر سال ہوتا ہے یا نہیں؟ ہر سال کی آڈٹ کی نقل کس سے اور کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے؟
سال 2005 میں حق اطلاع قانون کے پاس ہو جانے کے بعد، آئین نے ہندوستان کے ہر شہری کو یہ جاننے کا حق دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں کام کاج کس طرح ہوتے ہیں، اُس ادارہ کی سالانہ آمدنی اور اخراجات وغیرہ کیا ہیں۔ اور انجمن ترقی اردو (ہند) کا رجسٹریشن تو باقاعدہ سوسائٹی آف رجسٹرار ایکٹ کے تحت ہوا ہے، جس کا بنیادی مقصد ہی ہندوستان کے اردو بولنے والوں سے متعلق مفادات کی حفاظت کرنا، اردو سے متعلق جائز اور آئین ہند کی رو سے ضروری مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حکومت ہند کو مجبور کرنا ہے۔ ایسے میں تو اس کی جوابدہی اور بھی بڑھ جاتی ہے، پھر بھلا ڈاکٹر خلیق انجم صاحب واجب سوالات کا جواب دینے سے کیسے منع کر سکتے ہیں۔
اگر اس پورے واقعہ پر گہرائی سے نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری کے طور پر ڈاکٹر خلیق انجم صاحب نے کئی دہائیوں سے اس پورے ادارہ یا سوسائٹی پر اپنا مکمل قبضہ جما رکھا ہے۔ یہی نہیں، انہوں نے انجمن کے صدر اور نائب صدر کے اختیارات کو بھی اپنے قبضے میں کر رکھا ہے۔ انجمن کے تمام کام کاج میں ان کی ڈکٹیٹرشپ چلتی ہے۔ حالانکہ سوسائٹی آف رجسٹریشن ایکٹ، 1860 کے جس میمورنڈم آف ایسو سی ایشن پر ان کے اور بقیہ آٹھ لوگوں کے دستخط ہیں، اس کو سامنے رکھا جائے تو بطور جنرل سکریٹری، ڈاکٹر خلیق انجم صاحب کے اختیارات بس اتنے ہیں کہ وہ :  (i)  انجمن کی تمام شاخوں اور شعبوں کی نگرانی کریں گے، (ii) انجمن کی تمام آمدنی اور اخراجات کی تفصیل اپنے پاس رکھیں گے، (iii) حکومت کی طرف سے یا انجمن کے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی تمام رقم کو حاصل کریں گے اور اس میں سے ضرورت کے مطابق خرچ کریں گے، (iv) انجمن کا ایجنڈا تیار کریں گے اور انجمن کی تمام میٹنگوں کی پوری تفصیل، یعنی منٹس کا ریکارڈ اپنے پاس رکھیں گے، (v) انجمن کے ذریعے شائع کی جانے والی کتابوں اور جریدوں کی پرنٹنگ اور فروخت پر کنٹرول کریں گے، (vi) انجمن کے ذیلی اسٹاف کی تقرری کریں گے، اور (vii) تمام قانونی چارہ جوئی میں انجمن کی نمائندگی کریں گے اور ادارہ کی طرف سے کسی بھی معاہدہ پر دستخط کریں گے۔
اب اگر ڈاکٹر خلیق انجم صاحب سے انجمن ترقی اردو (ہند) میں کام کرنے والے ذیلی اسٹاف، میٹنگ کی تفصیل اور آمدنی و خرچ سے متعلق تفصیلات اردو کا ایک طبقہ حاصل کرنا چاہتا ہے، تو پھر وہ یہ تفصیلات دینے سے منع کیوں کر رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اردو کے جس طبقہ نے خلیق انجم صاحب سے یہ تفصیلات مانگی ہیں، ان کے بھی کچھ ذاتی مفادات ہوں۔ ڈاکٹر خلیق انجم صاحب کی کارکردگی اور انجمن ترقی اردو (ہند) میں ان کی من مانی اور ڈکٹیٹر شپ سے اردو کا ایک بڑا طبقہ کافی دنوں سے ناراض ہے۔ ان میں اردو کے بڑے بڑے نام نہاد دانشور بھی شامل ہیں، لیکن کوئی بھی سامنے نہیں آنا چاہتا۔ یہ لوگ دوسروں کے ذریعے ڈاکٹر خلیق انجم صاحب کے خلاف آوازیں اٹھاتے رہے ہیں، اور تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا کہ، خود خلیق انجم صاحب بھی دوسرے ناموں سے تحریریں شائع کراکر اپنا دفاع کرتے رہے ہیں۔ اب یہ تنازع اتنا طول پکڑ چکا ہے کہ آنے والے دنوں میں دہلی کی کسی عدالت میں ایک پی آئی ایل بھی ڈاکٹر خلیق انجم صاحب کے خلاف داخل کی جاسکتی ہے۔
چوتھی دنیا نے جب تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ہندوستان میں اردو کے تقریباً تمام بڑے اداروں پر اردو کے کچھ مافیاؤں کا ہی راج ہے، چند گنے چنے نام ہیں، جو ہر سیمینار، سمپوزیم، مشاعرے وغیرہ میں پیش پیش رہتے ہیں، حکومت وقت سے غیر قانونی طریقے سے پیسے حاصل کرتے ہیں، اپنا ذاتی اثاثہ بڑھانے میں مصروف ہیں اور اس طرح اردو بولنے والے ہندوستانی شہریوں کو ان کے بنیادی اور جائز حق سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے کسی بھی اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں تقرری حاصل کرنے کے لیے انہی مافیاؤں کی غلامی کرنی پڑتی ہے اور پھر ایسے لوگ اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، پروفیسر یا اردو ٹیچر کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں جن کی لیاقت پر ہمیشہ سوال کھڑے کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ اس طرح اردو کے نام پر جہلاء کا ایک بڑا طبقہ تیزی سے تیار ہوتا جا رہا ہے، جو بدقسمتی سے مسلم قوم کو اور پس ماندہ کرنے میں لگا ہوا ہے، کیوں کہ ان کے ہاتھوں میں اردو سے تعلق رکھنے والے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔
چوتھی دنیا کی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا کہ بہت پہلے، مئی 1979 میں ’انتخابِ گگن‘ کے شمارہ نمبر 123 میں جناب گوپال متل صاحب نے بھی ڈاکٹر خلیق انجم صاحب اور انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی پر چند سوال اٹھائے تھے۔ یہ سوال کچھ یوں تھے : (i) ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے خرچ سے اردو گھر بنا، جس میں سے بہت سا روپیہ حکومت ہند نے دیا تھا۔ اردو گھر، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اردو سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا، لیکن خلیق انجم صاحب نے اس کے 80 فیصد حصے کو تجارتی اداروں کو کرایے پر دے دیا، حالانکہ اصولاً وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اس معاملے کی پوری پوری تحقیقات کی جانی چاہیے۔ تحقیقات کے دوران یہ امر بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا کہ جو کرایے وصول کیے جا رہے ہیں، وہ موجودہ شرح کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہ اس لیے کہ ان دنوں مکانات اور دفاتر پگڑی کی رقم لے کر کم کرایے پر دینے کا رواج بھی ہے۔ (ii) انجمن کی گزشتہ کارروائی دیکھ کر یہ پتہ کیا جائے کہ ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے صرفے کی تفصیلات کیا کمیٹی نے باقاعدہ طے کی تھیں۔ اصولاً ہر مرحلے پر سکریٹری صاحب کو کمیٹی کے سامنے معاملہ پیش کرکے اس کی منظوری لینی چاہیے تھی۔ ایسا ہوا ہے یا نہیں، اس کی چھان بین ہونی ضروری ہے۔ چھان بین کا بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ حکومت انجمن کے گزشتہ ریکارڈوں پر قبضہ کر لے اور ان کی چھان بین کرکے حسابات کو باقاعدہ آڈٹ کرائے۔ (iii) خلیق انجم کے زمانے میں کتنی علمی کتابیں شائع ہوئی ہیں اور ان کی پروڈکشن کا معیار کیا ہے؟ انہوں نے کچھ شاعروں کے مجموعے بھی شائع کیے ہیں۔ ان دنوں یہ عام رواج ہے کہ شاعر جب کسی ناشر سے اپنا مجموعہ شائع کراتا ہے تو لاگت کا کچھ حصہ خود ادا کرتا ہے۔ کاروباری اداروں کو وہ رقوم اپنے حسابات میں جمع کرنی پڑتی ہیں، لیکن خلیق انجم صاحب کے توسط سے انجمن نے شاعروں کے جو مجموعے چھاپے ہیں، کیا ان میں سے کسی میں شاعر کا تعاون شامل تھا۔ اگر شامل تھا، تو کیا وہ زرِ تعاون انجمن کے حساب میں جمع ہوا ہے؟
لیکن 1979 سے لے کر آج، یعنی 2012 تک انجمن ترقی اردو (ہند) اور اس کے جنرل سکریٹری (جو اس کے اب لائف ٹائم ممبر ہیں) کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی بھی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اردو کے نام پر اتنی بڑی بدعنوانی چل رہی ہے، اور جب جواب طلب کیا جاتا ہے، تو خلیق انجم صاحب صاف منع کر دیتے ہیں۔ کیا اردو کے نام پر ایسی ہی لوٹ چلتی رہے گی، اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ جو لوگ اردو کے بہی خواہ ہیں، کیا وہ اردو اور اردو داں طبقے کے خلاف ہو رہے اس ظلم کو یوں ہی برداشت کرتے رہیں گے؟ یہ بات بڑی آسانی سے کہہ دی جاتی ہے کہ اردو زبان مر رہی ہے، اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اب ان واقعات کو دیکھنے کے بعد تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اردو کو بے موت مارنے والے ہندوستان میں یہی اردو مافیا ہیں، جن کا اگر جلد ہی پردہ فاش نہیں کیا گیا، تو واقعی میں یہ زبان اپنی موت آپ مر جائے گی۔
یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ کوئی بھی ادارہ ایک خاص مقصد کے تحت کھولا جاتا ہے، اس لیے اُس ادارہ پر کبھی کوئی سوال نہیں کھڑا کیا جانا چاہیے، بلکہ اس ادارہ سے منسلک اُن افراد کے ناجائز کاموں کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے اس پورے ادارہ کی بدنامی ہو رہی ہے۔ اگر ایسے بدعنوان لوگوں کو ہٹا دیا جائے، تو پھر جس مقصد کے تحت اُس ادارہ کی تشکیل کی گئی تھی، اس پر عمل کرتے ہوئے عوام کو ایک بڑا فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، اردو سے وابستہ ہندوستانی شہریوں کی خوش حالی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اور یہ کام اردو کے تئیں ایماندار اور سنجیدہ حضرات کے ساتھ ساتھ حکومت کے تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو والے اپنے درمیان موجود اِن مافیاؤں کے خلاف پوری طرح کھڑے ہو جائیں اور ملک کے قانون و عدالت کا سہارا لیتے ہوئے انہیں ایسا سبق سکھائیں کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی ہمت بھی نہ کرسکے۔g

Share Article

2 thoughts on “اردو مافیائوں کے گینگ وار کا نیا محاذ

  • April 7, 2012 at 8:31 pm
    Permalink

    دكتور قمر تبريز صاحب
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    اب جبكه آب ني اس قديم اردو اداره كي رهزن كي خلاف قدم اتها ليا هي ،تو كوشش كيجئي كه كجه كركي دكهايين ورنه آ[ كي اس مضمون سي كوئي اثر (مافياؤن كي خلاف) نهين هوكا. جيسي ١٩٧٩ مين كوبال متل صاحب كا مضمون آيا اور رخصت
    هوا ويسي آب كا ٢٠١٢ مين هوكا.
    والسلام

    Reply
  • April 6, 2012 at 9:27 pm
    Permalink

    اردو کو مافیا سے بچایں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *