اردو کے فروغ کے لئے ’اردو وراثت کارواں ‘ کوشش قابل ستائش ہے

Share Article

وسیم راشد 
دنیا بھر میں کثرت سے بولی جانے والی زبانوں میں ایک زبان اردو بھی ہے جو اپنی لطافت اور شائستگی کی وجہ سے تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔یہ اس زبان کا ہی کمال ہے کہ لاکھ مخالفتیں ہورہی ہیں،اس کو دبانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ،اس کے باوجود سرکاری اور غیر سرکاری اداروں،فلم انڈسٹری اور عام بول چال میں ہر جگہ اس کا خوب استعمال کیا جارہا ہے۔البتہ سرکاری سطح پر اس کو جتنی اہمیت ملنی چاہئے، وہ نہیں مل سکی ہے۔اس کی وجہ یہ رہی کہ آزادی کے بعد کچھ سیاسی مفاد پرست لوگوں نے اس کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر محدود دائرے میںقید کرنے کی کوشش کی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نئی نسل دھیرے دھیرے اس زبان سے دوری اختیار کرنے لگی۔اس طرح دیکھا جائے تو یہ زبان تعصب اور سیاسی سازشوں کا شکار بن کر رہ گئی ہے۔اسی سازش کی طرف پریس کونسل آف انڈیاکے صدر جسٹس مارکنڈے کاٹجو بارہا اشارہ کرچکے ہیں کہ’’آزادی کے بعد اردو کے خلاف بہت زبردست پروپیگنڈہ کیا گیا جو ہمیں انگریزوں کی پالیسی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ سے وراثت میں ملا تھا‘‘۔اس سازش کا ایک بڑا نقصان اردو کو یہ ہوا کہ کئی ریاستوں میں دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود اس کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔خاص طور پر جہاں کانگریس کی سرکار ہے ،وہاں تو اس کو دبانے کی بھرپور کوشش ہوئی۔خود راجدھانی دہلی کا یہ حال ہے کہ یہاں اردو کو برسوں پہلے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا اور اردو کو یہ اعزاز خود شیلا سرکار کے ذریعے ہی دیا گیا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں گزشتہ تقریباً 16 برسوںسے کسی بھی اسکول میں اردو اساتذہ کی بحالی نہیں ہوئی ہے۔کیا حکومت کو اردو اساتذہ نہیں مل پارہے ہیں یا اردو کو ختم کرنے کی ایک چال ہے۔بہار میں اگرچہ اس پر کچھ عمل ہوا ہے مگر اب بھی اردو کی ہزاروں اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن پر حکومت کی طرف سے توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ریاست مغربی بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیے جانے کا اعلان ہوا مگر اب تک عملی شکل میں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں بھی اس زبان کے ساتھ مسلسل سوتیلے پن کا سلوک ہوتا رہا ہے۔ البتہ سماجوادی پارٹی کے دور میں ملائم سنگھ نے کچھ اردو اساتذہ اور کچھ مترجم کی بھرتی کی تھی۔ اس کے بعد مایا وتی سرکار نے اردو کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے ، یہ اترپردیش کے عوام بخوبی جانتے ہیں۔ بہر حال اب پھر وہاں سماجوادی پارٹی کی سرکار آئی ہے تو اردو کے حوالے سے کچھ امیدیں جاگی ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس طرف تھوڑی توجہ دی ہے اور اردو کو اس کا حق دینے کی طرف کچھ پیش رفت کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے تقسیم ہونے والے سرکاری لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ میں ہندی ، انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی شامل کرکے اور ریاست میں ہندی کی طرح اردو سافٹ ویئر لوڈ کرکے، نئے دور کی ایجادات اور تیکنک سے اردو کو جوڑنے کی ایک بہترین کوشش کی ہے۔حالانکہ اس سے پہلے بھی ریاست میں اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں اردو کے تئیںزبانی طور پر بڑے بڑے وعدے کرتی رہی ہیں مگر اکھلیش یادو نے اس زبان کو روزگار سے جوڑنے کا پختہ عزم کرکے اردو سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اردو گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے اور اس علامت کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ اس کو روزگار سے جوڑا جائے، کیونکہ جب کوئی زبان روزگار سے جڑ جاتی ہے تو وہ زبان خود بخود ترقی کرلیتی ہے۔اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے اردو کے لئے ریاستی بجٹ میں خصوصی تجاویز پیش کی ہیں۔اردو کے تئیں ان کے خیالات اور محبت کا اندازہ ان کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے لکھنؤ میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی قیادت میں ’اردو وراثت کارواں‘ کی طرف سے منعقد ایک سمینار میں ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے اردو دانشوروں کی موجودگی میں دیا،جس سمینار میں مَیںبھی موجود تھی اور ان کے ایک ایک حرف کو بغور سن رہی تھی اور اس کا جائزہ بھی لے رہی تھی کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں، اس پر عمل ہوسکے گا یا نہیںکیونکہ اس قدر ہم دھوکے کھا چکے ہیں کہ اب کسی بھی سیاسی لیڈر کا بیان ڈرامے بازی سے کم نہیں لگتالیکن پھر بھی اکھلیش یادو کے کچھ کام ضرور ایسے ہیں جس میں مسلمانوں کے مفادات کو کافی حد تک اہمیت دی گئی ہے ۔ اس لیے نہ جانے کیوں ان پر بھروسہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں کہا کہ’’اردو زبان کی خدمت جو لوگ کر رہے ہیں وہ دراصل گنگا جمنی تہذیب کو تحفظ اور فروغ دینے کا عظیم کام کر رہے ہیں۔انہیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت اردو کو فروغ دینے کا کام کرے گی اور بہت جلد ہم کچھ اہم فیصلے کریںگے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہندی اور اردو، دونوں ساتھ ساتھ چلیں گی تبھی گنگا جمنی تہذیب پروان چڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلم اردو والوں کی کچھ رکاوٹیں ہیں، حکومت انہیں بھی دور کرے گی ‘‘۔
ظاہر ہے ان کے خیالات سے اردوکے تئیں ان کی محبت جھلک رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اردو کو فروغ دینے کے لئے ریاست میں کئی اقدام کرچکے ہیں۔غالباً اکھلیش یادو نے اس بات کو محسوس کر لیا ہے کہ وہی سرکاریں کامیاب ہوتی ہیں جو اقلیت اور اقلیت کی زبان اور اس کے تقاضوں پر مشفقانہ نظر رکھتی ہیں۔اگر اکھلیش یادو کی طرح دوسری ریاستوں کے رہنما بھی خلوص کا مظاہرہ کریں تو یقینا گنگا جمنی تہذیب کی علامتی زبان اردو کو اس کا جائز حق مل سکتا ہے۔ مگر ہمارے سیاسی رہنما اس سلسلے میں کوتاہ ثابت ہورہے ہیں۔البتہ شخصی طور پر کچھ دانشورحضرات اور کچھ تنظیمیں دن و رات کوشاں ہیں کہ اردو کو اس کا حق مل جائے ۔ان میں جسٹس مارکنڈے کاٹجوکا نام خاص طور سے لیا جاسکتا ہے، جو اردو کی ترقی و ترویج کے لئے ’اردو وراثت کارواں‘ کو لے کر پورے ملک میں گھوم رہے ہیں اور اردو کے تئیں لوگوں کو بیدار کر رہے ہیں۔ان جیسے دانشوروں کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اردوزبان جو سیاسی سازشوں کا شکار ہوکر اوجھل ہورہی تھی ،اب دھیرے دھیرے لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام بنانے لگی ہےاوربڑے بڑے پلیٹ فارمس سے اس کےحق میں آواز اٹھ رہی ہےاور ملک اور بیرون ملک میں اردو کی گونج سنائی دے رہی ہے۔’اردو وراثت کارواں ‘ کا یہ قدم یقینا قابل تعریف ہے مگر اس میں خاطر خواہ فائد ے تب ہی ہوںگے جب کارواں کی سرگرمیاں اے سی کمروں اور عالیشان میٹنگ ہالوں میں منعقد کرنے کے بجائے کھلی سڑکوں ، عوامی اجلاسوں میں اور اسکول و کالجز کے طلباء کو اردو سے جوڑنے کی کوششوں کے ساتھ کی جائے۔اسکولوں میں طلباء اردو پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں، لہٰذا انہیں اردو پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے کیونکہ نئی نسل کو جب تک اردو نہیں پڑھائی جائے گی تب تک نہ زبان زندہ رہے گی اور نہ اس کا رسم الخط ۔ کم سے کم آٹھویں جماعت تک تو سبھی اسکولوں میں اردو زبان کی درس وتدریس کا ضرور انتظام ہونا چاہیے۔
بہر کیف ’اردو وراثت کارواں‘ کی طرف سے منعقد اس سمینار کے شرکاء میں مجھے اردو کو زندہ رکھنے کا جذبہ نظر آیا۔میری نظروں نے دیکھا کہ ملک کی قدآور شخصیتوں ، دانشوروں اور ادیبوں کے علاوہ بڑی تعداد میں بیرونی ملکوں سے سعودی عرب،دوحہ قطر، شکاگو امریکہ اور ملیشیا کے شہری بھی شامل تھے ۔میں نے انہیں اردو کے تئیں نہایت ہی پُرجوش دیکھا۔ان غیر ملکی مہمانوں کو سننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگر زبان میں لطافت اور چاشنی ہو تو کوئی اسے مار نہیں سکتا اور نہ ہی جغرافیائی حدود میں قید کرسکتا ہے۔ان مہمانوں کو سننے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اردو کا مستقبل تاریک ہے یااردو ختم ہورہی ہے،ان کی باتوں میں احساسِ کمتری کا اثر ہے۔کیونکہ جس زبان کی مٹھاس بیرون ملک میں محسوس کی جارہی ہو ،وہ زبان مر کیسے سکتی ہے،ہاں ! سازش کاروں کی سازشوں نے اس کے پھیلائو کی رفتار کو سست ضرور کردیا ہے مگر عنقریب یہ زبان اپنا مقام بنا لے گی۔لیکن اس میٹھی زبان کو اپنا مقام بنانے میں ہمیں اس کی مدد کرنی پڑے گی۔مدد کی صورت وہ ہو جو شہرہ آفاق شاعرپروفیسر وسیم بریلوی نے اپنے بیان میں پیش کی ہے۔ انہوں نے لکھنؤ میں منعقد اس سمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اگر اردو کو اس کا مقام دلانا ہے تو اپنے گھر کے بچوں اور خواتین میں اردو رسم الخط کو رائج کرنا ہوگا‘‘۔کسی زبان کو باقی رکھنے میں اس کے رسم الخط کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب زبان اپنے اصلی رسم الخط میں باقی رہتی ہے تو اس کا تلفظ اور اس کا مخرج برقرار رہتا ہے اور یہی زبان کی اصل مٹھاس ہوتی ہے ۔اگر رسم الخط بدل دیا جائے تو اس کی مٹھاس بھی بدل جاتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زبان دھیرے دھیرے مر جاتی ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی بقا کیلئے جد و جہد کریں۔ اس کے رسم الخط اور اس کے الفاظ و ترکیب کے تحفظ کے لئے کوشش کریں کیونکہ اردو محض ایک زبان کا نام ہی نہیں بلکہ اس زبان میں ہماری تہذیب چھپی ہوئی ہے۔ اردو نے ہماری تہذیب ، سماج اور معاشرتی قدروں کو وقار بخشا ہے لہٰذا اگر یہ زبان زندہ رہتی ہے تو ہماری سماجی قدروں کو زندگی ملے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *