مشرف عالم ذوقی
نئی صدی کے دس برس اور ان دس برسوں میں ایک نئی دنیا ہمارے سامنے ہے اور یہ دنیا روز بروز اپنے دائرے وسیع کرتی جارہی ہے۔ سائنس کی ترقی نے چمتکار اور معجزہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب سائنس کی ہر اڑان ایک معجزہ ہے۔ اس لیے عام زندگی سے فلموں اور ادب کی دنیا میں بھی نئی نئی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ایسے لوگ جو نئی صدی کے جشن میں ادب کی موت کا ماتم منانے کی تیاریاں کر رہے تھے،وہ ادب کے بڑھتے پھیلتے گراف سے پریشان ہیں، کیوں کہ ایک سچائی یہ بھی ہے کہ ادب کی یکتائی اور انفرادیت کو یہ مہذب دنیا بھی سلام کرنے پر مجبور ہے۔
2000کی شروعات سے قبل یہ سوچا جارہا تھا کہ ہندوستان میں اردو شاید چند دنوں کی مہمان رہ گئی ہے، کیوں کہ نئی نسل غائب تھی اوریہ بھی زور شور سے تسلیم کیا جارہا تھا کہ نئی نسل اردو نہیں جانتی، لیکن نئی صدی کے ان دس برسوں نے بھی ان غلط فہمیوں کے پرکتر دیے۔ اردو شان سے زندہ رہی۔ نئے ادبی رسائل سامنے آئے۔ اذکار، اثبات، تحریر نو، چوتھی دنیا، تحریک ادب۔ نئی فکر سامنے آئی۔ عصری شعور کے ساتھ اپنے عہد کی روز افزوں ترقی، اقتصادیات، عمرانیات، سیاست اور سماجی علوم کا گہرا مشاہدہ رکھنے والے نوجوان ادیب سامنے آئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ لیکن یہیں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تنقید کہاں ہے؟ ان دس برسوں کے طویل سفر میں نظریاتی آویزش سے گزرتی ہماری تنقید اب کہاں ہے؟ کس سمت ہے؟ مغرب کی نقالی کا دم بھرتے بھرتے اردو تنقید نے اپنے تنقیدی افق کو کتنا کشادہ کیا ہے یا وہ آج بھی اکتثافی، اشتراکی، امتزاجی، عمرانی، وجودی تنقید کی بھول بھلیاں میں الجھی ہوئی اپنے غلام نظریہ سے کبھی باہر ہی نہیں نکل سکی؟
ان دس برسوں میں تنقید کی ہزار کتابیں منظر عام پر آئی ہوںگی۔ ان کتابوں کا تبصرہ یا تجزیہ یہاں مقصود نہیں ہے۔ دراصل مجھے یہ دیکھنا ہے کہ ان دس برسوں میں اردو تنقید کی آزادی کا کیسا گراف سامنے آیا ہے۔ ان دس برسوں میں تنقید کی دنیا میں دو بڑے حادثے سامنے آئے۔ اول، گیان چند جین کی کتاب ایک بھاشا دو لکھاوٹ کو لے کر جم کر ہنگامہ ہوا۔ دوم، گوپی چند نارنگ کی مابعد جدیدیت کو ادب کا سرقہ ٹھہرایا گیا، لیکن ایک تیسرا حادثہ بھی تھا۔’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کو شاہکار ناول قرار دینے کا معاملہ۔ یہ معاملہ ان دونوں معاملوں سے زیادہ سنجیدہ اس لیے تھا کہ ایک مدت تک اردو تنقید کو تھکے ہوئے گھوڑوں کی طرح ہانکنے والا کو چوان خود ہی اپنے ناول کو ہندوستان کا شاہکار قرار دے رہا تھا، بلکہ اگر بس چلتا تو عالمی ادب کا شاہکار قرار دیے جانے کے لیے سارے سیاسی حربے استعمال کرتا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ عام قاری اب ان ادب کی سیاسی چالوںسے واقف ہوچکا ہے۔ گیان چند جین کی تحریروں پر فرقہ واریت کا الزام لگانے والے خود ہی اس الزام کے دائرے میں آگئے۔ اسے ادب کا المیہ ہی کہا جائے گا ۔ اس ہنگامے کے دوران ہی گیان چند جین کا انتقال بھی ہوگیا۔ ان پر الزام کی بارش کرنے والوں نے یہ ذرا بھی خیال نہ کیا کہ آخر کے چند برسوں میں ساری زندگی اردو پر نچھاور کرنے والے اس محب اردو کو کیا دیا؟ اور اگر آخر کے چند برسوں میں اردو والوں کی مکاری و عیاری سے بیزار ایک بزرگ نقاد کی، اس نوعیت کی کتاب سامنے آتی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس نفسیاتی تجزیے سے قطع نظر ان کے قتل تک کے ادبی فتوے سنادیے گئے۔ اسی طرح مابعد جدیدیت پر سرقہ کا الزام لگانے والے یہ بھول گئے کہ جدیدیت کا رجحان بھی مغرب کی ہی دین ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے ایک نئی فکری آزادی کو جنم دیا تھا۔ فرد کی تنہائی اور وجودیت کے مسئلہ پر از سر نو بحث کی شروعات ہوچکی تھی۔ فاروقی مغرب کی جیب سے اس نظریہ کو لے کر آگئے اور شب خون کی صورت میں اس نظریہ کو اردو دنیا کے سامنے رکھ کر ایک غریب زبان، ایک نحیف سلطنت پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے 20ویں صدی ختم ہوگئی۔ لیکن تخلیق کار جاگ چکا تھا۔ وہ ہر طرح کے گروپ ازم سے باخبر تھا۔ وہ کسی بھی ناقد کی گود میں بیٹھنے کو تیار نہ تھا۔ وہ گلوبل ہوتی دنیا میں اپنی آزادی کے ساتھ سانس لینا چاہتا تھا اور شاید اس لیے نئی صدی میں یہ بھی ہوا کہ ان دس برسوں میں تخلیق کار آگے بڑھ کر تخلیق کے ساتھ تنقید کی ذمہ داری بھی قبول کرنے کو تیار ہوگیا۔ فکشن کی تنقید ہو تو حسنین الحق، بیگ احساس، طارق چھتاری، شوکت حیات، شموئل احمد، احمد صغیر، رحمن عباس تک بزرگ ناقدوں سے زیادہ سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سامنے آئے۔ اسی طرح شاعری میں جمال اویسی، نعمان شوق، کوثر مظہری، ف۔س۔ اعجاز، عبدالاحد ساز تنقید کی نئی شمع کو روشن کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہاں زندگی کے نئے تجربات و حقائق تھے۔ صدیوں کی دھول میں چھپا ہوا ماضی تھا۔ اپنے عہد میں رونما ہونے والی ان آویزشوں کو یہ تخلیقی نقاد نئے تصوراتی نظریے کی زمین فراہم کررہے تھے اور ایسا اس لیے تھا کہ ادب کی افادیت اور جمالیات کو یہ نام نہاد بزرگ نقادوں سے زیادہ سمجھتے اور جانتے تھے۔
سائنسی علوم کی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے اور اسی لیے ان دس برسوں میں ادب پارے کی سچائی کا احترام کرنے کے لیے روشن خیال تخلیق کار اور تنقید نگاروں کی ایک فوج سامنے آئی ہے۔ ایک متوازن رویہ ادب میں داخل ہورہا ہے۔ یہاں علم کا ڈھول نہیں پیٹا جاتا۔ یہاں مغرب کی نقالی سے آگے نکلنے کا زور ہے۔ یہاں تنقید کے لیے صرف ایک کسوٹی ہے۔ صحت مند تنقید۔ ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے شور تھمنے لگے ہیں۔ نئی صدی کے بطن سے ایک نیا انسان جنم لے رہا ہے۔ اس لیے تخلیق کار جہاں ایک طرف فکری ہم آہنگی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پیش آنے والے خطرات کو لے کر چوکنا ہے، وہیں نئے انسان اور مستقبل کی نشان دہی کو بھی اپنے ادبی سرمائے کا موضوع بنا رہا ہے۔ یہاں گلوبلائزیشن بھی ایک موضوع ہے۔ گلوبل وارمنگ اور تہذیبوں کی جنگ بھی۔ نئے ناقد وسیع افقی تناظر کے دروازے کھول رہے ہیں۔ ہاں! کچھ لوگ ابھی بھی تنقید کی اس پرانی روش کا حصہ ہیں، مگر نقد کی دنیا میں آنے والے نئے دستخط کشادہ قلب ہیں اور مصلحتوں سے بے نیاز بھی۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، منظر اعجاز، غضنفر اقبال، ڈاکٹر احمد امتیاز، صغیرافراہیم، سرورالہدیٰ، آفتاب عالم صدیقی، ہمایوں اشرف، مشتاق احمد نوری، مبین صدیقی، مظہر جلالی، شہزاد انجم، ارمان نجمی، عالم خورشید، ابرار رحمانی، شفیع ایوب، ابوبکر عباد، یوسف عارفی جیسے بے شمار ناموں نے تنقید کی کمانیں سنبھال رکھی ہیں۔ میر و غالب پر گفتگو کے دروازے آج بھی کھل رہے ہیں، لیکن معاصر افسانے، شاعری پر بھی کھل کر بحث و مباحثہ کو دعوت دی جارہی ہے۔ ان میں ایک اہم نام شوکت حیات کا بھی ہے جو افسانے کے ساتھ مستقل افسانے کی تنقید بھی لکھتے رہے۔اناجبتسے نئے افسانے تک شوکت حیات نے ہمیشہ، ہر دور میں متحرک اور فعال ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ مشتاق احمد نوری نے افسانوں پر تجزیہ کا مسلسل سلسلہ شروع کیا۔ ادب کے مینار کے عنوان سے اختر واصف نے ہم عصر افسانہ نگاروں پر مضامین لکھے۔ مبین صدیقی، جمال اویسی کے یہاں عصری حسیت کچھ زیادہ ہی نظر آئی۔ صغیر افراہیم، شہاب ظفر اعظمی، شافع قدوائی کی کتابوں نے فکشن اور ناول پر گفتگو کے نئے دروازے کھولے۔ آفتاب عالم صدیقی (شموگہ) نے اردو فکشن پر بیباکی سے تبصرے کیے۔ اس طرح ابرار رحمانی نے آج کل میں اردو فکشن سے متعلق نئی بحث کی شروعات کی۔ اس میں ایک بحث یہ بھی تھی کہ کیا 1980 کے بعد کوئی اچھا اردو افسانہ لکھا ہی نہیں گیا؟ اسی طرح اردو شاعری پر کوثر مظہری سے عالم خورشید تک مسلسل نئی گفتگو ہمارے سامنے آتی رہی اور ان گفتگوؤں کا حاصل یہ تھا کہ اردو شاعری اب ہر طرح کے ازم سے آزاد ہوچکی ہے۔ کرناٹک اردو اکادمی نے فکشن بالخصوص تنقید کے حوالے سے کئی اہم کتابیں ہمیں تحفہ میں دیں۔ اثبات نے مردہ جدیدیت میں جان پھونکنے کی ناکام کوشش کی تو تحریر نو نے نئے فکشن، نئی شاعری اور نئی تنقید کو ایک بڑا پلیٹ فارم دیا۔ بیگ احساس نے سب رس میں فکشن سے متعلق مباحث کے نئے دریچے وا کیے۔ احمد صغیر اور غضنفر اقبال نے 1980کے بعد کے افسانوں کا بھر پور جائزہ اپنی کتابوں میں پیش کیا۔ نسائی ادب کو لے کر ترنم ریاض نے اپنی تنقیدی کتاب کے حوالے سے اس بحث کو نئے سرے سے شروع کیا۔ دلت ادب بھی موضوع بحث بنا۔ مباحثہ میں وہاب اشرفی نے زیادہ تر نئے ناقدین کو سامنے لانے کا کام کیا۔ نئے عہد کی سائنسی شناخت کے لیے ڈاکٹر عبیدالرحمن کے سائنسی مضامین نے خاص جگہ بنائی۔ عبید سائنسداں بھی ہیں اور اچھے شاعر بھی۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آج کی ادبی فضا سائنس کے بغیر ادھوری ہے۔ سماجی ادراک و شعور کے لیے سائنس کی معلومات ضروری ہے۔ ڈاکٹر مولا بخش اور مشتاق صدف نے بھی فکشن اور شاعری میں نئے موضوعات کو جگہ دی۔ اردو ادب بالخصوص اردو فکشن کو لے کر ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے نہ صرف سیمنار کیے بلکہ فکشن پر مضامین بھی لکھے اور ان مضامین کے مجموعے بھی شائع کیے۔
ڈاکٹر شرجیل احمد خاں نے سنجیدگی سے مختلف موضوعات پر کتابی سلسلے کا آغاز کیا اور سنجیدہ ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ سیما صغیر نے اردو اور ہندی کے فاصلوں کو کم کرنے پر زور دیا اور اس سلسلے میں ان کی کئی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں۔ یہاں مصنف یا کتابوں کا نام گنوانا منشا نہیں ہے۔ ایک صدی گاتی بجاتی ہمارے درمیان سے رخصت ہوچکی ہے۔ ایک نئی صدی اپنے دس سال پورے کرچکی ہے اور ان دس برسوں میں ہماری اردو تنقید مغرب کے سرقہ سے باہر نکلنے کی سعی کررہی ہے۔ یہاں اب ادب میں تیس مار خاں بننے کا چلن نہیں ہے۔ گلوبلائزیشن نے ایسے تمام لوگوں کو بے نقاب کردیا ہے جو مغربی تھیوری کے سہارے اپنی ذات کی ’پرورش‘ کا دم بھر رہے تھے۔ نوجوان ناقد ادب میں متوازن اور صحت مند رویوں کی تلاش میں نکلا ہوا ایک ایماندار سپاہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اردو ادب کے صد سالہ سفر میں تنقید کے فرائض انجام دینے والوں پر میں کوئی الزام لگانے کی کوشش کر رہا ہوں:
’ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے‘
حالی سے کلیم الدین احمد، اختراورینوی، مجنوں گورکھ پوری، ظ انصاری، آل احمد سرور تک خاموشی سے کام کرنے والوں کا ایک سلسلہ تو رہا، مگر غور کیجیے تو تنقید کی کسوٹی پر مغرب کا رنگ آغاز سے ہی حاوی تھا۔ ذرا اور غور کیجیے تو ان دس برسوں میں جو تازہ دم قافلہ ابھر کر سامنے آیا ہے، اس کی کسوٹی میں مغرب کی پیروی نہ کے برابر ہے اور خوشی کی بات یہ کہ یہاں تخلیق کار ہی تنقید کی ترویج میں اہم رول ادا کررہا ہے۔ شب خونی میزائلوں کی چمک ماند پڑچکی ہے۔ اعلیٰ تخلیق کی طرح اعلیٰ تنقید بھی وقت کی ایک ضرورت ہے۔ دس برسوں میں آنے والی ان خوشگوار تبدیلیوں کا استقبال کرنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here