یو پی اے کونئی عوامی تائید حاصل کرنی چاہئے

Share Article

کمل مرارکا 
دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا حادثہ ہونے کے بعد حال میں ہوئے مظاہرے سے کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اب آپ انٹر نیٹ کے دور میں پہنچ گئے ہیں، جہاں بغیر کسی تنظیم کے بھی ہزاروں لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر پیغام کے ذریعے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ مظاہرہ ہوا کیوں؟ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بغیر کسی تنظیم کے اکٹھا کیوں ہوئے؟ ایسا نہیں ہے کہ عصمت دری کا یہ پہلا حادثہ تھا یا اس سے پہلے عصمت دری کے حادثے نہیں ہوئے۔ عصمت دری ملک کے کئی حصوں میں بھی ہوتی ہے۔ اتنی خوفناک عصمت دری کا حادثہ بھی کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے، لیکن دو اہم باتیں ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس طرح کا خوفناک حادثہ دہلی میں ہوا اور دوسری بات یہ کہ لوگوں کا غصہ صرف عصمت دری پر نہیں، بلکہ انتظامیہ کی کمی (لیک آف گورننس) کے خلاف تھا۔ دوسری وجہ کو لوگ پچھلے ایک دو سال سے محسوس کر رہے تھے۔ دلی پولس مرکزی سرکار کے ماتحت ہے، نہ کہ ریاستی سرکار کے، لیکن لوگوں کا غصہ دہلی سرکار کے خلاف بھی ہے۔
مرکزی سرکار کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک وہ اپنا اعتماد بحال نہیں کرتی، اپنی ساکھ واپس نہیں لاتی، تب تک اس کے لیے حکومت کرنا مشکل ہوگا۔ پولس کی کارکردگی اشتعال انگیز تھی۔ ان تین دنوں میں جن لوگوں نے بھی دہلی کا دورہ کیا، انہوں نے محسوس کیا کہ دہلی پوری طرح چھائونی میں بدل چکی تھی۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ اس طرح کا حادثہ، جہاں ہزاروں لوگ اکٹھا ہوئے، جو کہیں سے بھی فسادی نہیں تھے، انہیں روکنے کے لیے آپ کو سڑکیں بلاک نہیں کرنی چاہئیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ سارے لوگ وزیر اعظم یا صدر جمہوریہ سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے یا ان سے زبردستی بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ کئی قدم اٹھانے کی ضرورت تھی۔ سب سے پہلے تو پولس کو جذبات پر قابو رکھنا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پولس کو بیٹھ کر یہ مشورہ کرنا چاہیے تھا کہ آخر وہ کیا بہتر کر سکتی تھی۔ جو الزام لگائے جا رہے ہیں، ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ پولس کا ایک بڑا حصہ وی آئی پی کی سیکورٹی میں لگا ہوا ہے۔ وی آئی پی کی سیکورٹی اہم ہے، تو پھر کیوں نہ اس کے لیے الگ سے ایک پولس فورس تشکیل دی جائے؟ کیوں نہیں ایسے لوگوں کو وی آئی پی کی سیکورٹی میں تعینات کردیا جائے، جو پروفیشنل ہوں سیکورٹی ایجنسی کی طرح، لیکن پولس فورس جیسے باصلاحیت اور منظم ہوں۔ آپ ان سیکورٹی گارڈوں کو قانون اور نظم و نسق بحال کرنے والی پولس سے الگ کر کے کیوں نہیں رکھ سکتے، تاکہ نظم و نسق بحال کرنے میںمشکل نہ ہو۔ اس سے پولس فورس کی کمی سے بھی نجات مل سکے گی، وی آئی پی کی سیکورٹی بھی ہو جائے گی اور اس بات کا الزام بھی نہیں لگے گا کہ پولس عوام کی سیکورٹی سے زیادہ وی آئی پی کی سیکورٹی میں لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی سرکار اور مرکزی سرکار کے درمیان تال میل قائم ہونے میں آرہی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔
بے شک عصمت دری کے لیے جب لوگ پھانسی کی سزا کی مانگ کرتے ہیں، تو یہ ایک اشتعال انگیز سوچ جیسی لگتی ہے۔ ایسی مانگ سے پہلے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ قتل کے لیے بھی پھانسی کی سزا بہت سے ملکوں نے ختم کردی ہے اور ہندستان میں بھی ایسی مانگ ہو رہی ہے۔ میں اس غصے کو سمجھتا ہوں۔ میں بہت غصے میں ہوں، حالانکہ اس وقت میں دہلی میں نہیں تھا، لیکن پھانسی کی سزا اس کا حل نہیں ہے۔ اس کا حل تو پولس سسٹم میں سدھار اور فوری فیصلہ دینے والا عدالتی نظام ہے۔ پھانسی کی سزا شاید ہی خوف پیدا کرے، کیونکہ جس نے جرم کیا ہے، وہ تو مر جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو ایک اضافی کمیٹی کی تشکیل کرنی چاہیے، جس میں حساس اور تجربہ کار لوگ ہوں۔ اس میں لمبے وقت کے لیے پالیسی تیار کی جاسکتی ہے۔
دہلی میں عام لوگوں کا خیال یہی ہے کہ یہاں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا ہے، دوسرے میٹرو پولیٹن شہروں کے مقابلے عورتوں کے ساتھ زیادہ خراب سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟ کچھ سماجی مطالعہ اس موضوع پر بھی ہونا چاہیے۔ عصمت دری تو اس بڑی بیماری کی محض ایک علامت ہے، بنیادی مسئلہ تو وہ مردانہ ذہنیت ہے، جس میں مرد خود کو بلند ترین مانتا ہے۔ وہ سماج میں اپنے آپ کو بر تر دکھانا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ عورتوں کی تذلیل کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے کچھ سماجی مطالعہ اور تحقیق ہونی چاہیے۔ ایسی سوچ زیادہ تر شمالی ہند اور اور خاص طور پر دہلی میں ہی کیوں حاوی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ احتجاجیوں کی مانگ اور اس مانگ کو دبانے سے بڑا مسئلہ ہے۔ اوراخیر میں، مرکز میں سرکار چلا رہی یو پی اے کو الیکشن میں جاکر نئے سرے سے عوامی تائید حاصل کرنی چاہے، تاکہ وہ حکومت کرنے کے لیے ایک بہتر حالت میں ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *