یو پی اے کے لئے برا وقت چل رہا ہے

کمل مرارکا
یو اے 2 کے لیے برا وقت ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ پہلے سالسٹر جنرل روہنٹن فالی نریمن نے استعفیٰ دیا۔ استعفیٰ اس لیے، کیونکہ وزیر قانون کے ساتھ ان کا کسی ایشو پر اختلاف تھا۔ اقتدار کے گلیاروں میں یہ چرچا تھی کہ نظریے میں اختلاف کارپوریٹ ہائوس سے متعلق تھا۔ ظاہر ہے، وزارت قانون ایک خاص طرح کا نظریہ ان سے چاہتی تھی، لیکن سالسٹر جنرل ہونے کے ناطے روہنٹن فالی نریمن نے اپنے نظریہ کو بدلنے سے منع کر دیا۔ یہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور ان کا استعفیٰ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر اچھے لوگ سرکار سے باہر نکلتے ہیں، تو یہ صرف سرکار کے لیے خسارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے لیے بھی نقصان کا باعث ہے۔
دوسری بات: صدر جمہوریہ نے لمبے وقت سے افضل گرو کی زیر غور رحم کی اپیل پر فیصلہ لیتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔ یہ ٹھیک ہے، لیکن اس کے بعد کے عام طریقۂ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔ خاندان والوں کو وقت رہتے ہوئے اطلاع دی جانی چاہیے تھی۔ اس کے بعد افضل کے خاندان والے سپریم کورٹ جا سکتے تھے۔ کئی معاملوں میں لوگ رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں جا چکے ہیں۔ ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ آخر اسے پھانسی پر لٹکائے جانے کی اتنی جلدی کیا تھی کہ اس کے خاندان والے عدالت بھی نہیں جا سکتے اور اس سے بھی برا یہ ہوا کہ خاندان والوں کو اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ یہ بربریت اور غیر انسانی عمل ہے۔ یہ ہندوستان کی روایت نہیں ہے۔ آئین کو ایک طرف رکھ دیں، تو بھی ہزاروں سال کی روایت اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ آزاد ہندوستان میں اس طرح کا واقعہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ اصل میں یہ ایک ایسا کیس تھا، جس میں صدر جمہوریہ اس کی سزا کو عمر قید میں بدل سکتے تھے، کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ افضل گرو کے خلاف براہِ راست ثبوت نہیں تھے۔ خیر، یہ صدر جمہوریہ کا خصوصی اختیار ہے، لیکن عام طریقۂ کار پر عمل نہ ہونا اور افضل کے خاندان والوں کا اس سے نہیں ملنے دینا اور وزارتِ داخلہ کا یہ کہنا کہ ہم آگے کی عدالتی کارروائی سے بچنا چاہتے تھے، غلط ہے۔ یہ سب کچھ سرکار کے لیے ٹھیک نہیں کہا جا سکتا ہے۔
تیسری بات: اچانک سے ہیلی کاپٹر گھوٹالے کا سامنے آنا۔ اس بات کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ کب شرطیں اور پروویژن بدلے گئے۔ سچ یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کے دور میں آرڈر دیے گئے۔ اس بار بھی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ درآمد کیا جا رہا سامان ٹھیک ہے یا نہیں، بلکہ ایشو یہ ہے کہ اس ڈیل میں رشوت دی گئی اور یہ رقم بہت بڑی ہے۔ بوفورس سے جڑی ہوئی رقم آج بھلے ہی چھوٹی دکھائی دے، اس وقت کے لیے بہت بڑی تھی اور آج ہیلی کاپٹر گھوٹالے سے جڑی رشوت کی رقم بہت بڑی ہے۔ آج ہندوستان میں کوئی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی رشوت خوری اونچی سطح کے سیاسی نظام کے شامل ہوئے بنا نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کسی ایئر چیف یا کسی نوکر شاہ کو بلی کا بکرا بنا یا جا سکتاہے، لیکن صحیح جواب تو سیاسی قائدین کو ہی دینا ہے۔ سی بی آئی جانچ کے حکم دیے جا چکے ہیں، یہ اچھی بات ہے، لیکن جب 11 مہینے پہلے یہ گھوٹالہ سامنے آیا تھا، تبھی جانچ کا حکم دے دیا گیا ہوتا، تواور بہتر ہوتا۔ اس طرح کی صورت حال بظاہر سرکار کے لیے اچھی نہیں کہی جا سکتی۔ جتنی جلدی وہ انتخاب کروا لے اتنا ہی اچھا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *