یو پی اےسرکار کو پسند نہیں سی بی آئی کی خود مختاری

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز 

مرکز کی منموہن سرکار نہیں چاہتی کہ 26 لاکھ کروڑ کے کوئلہ گھوٹالہ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے تو اس نے اپنے ہی سابق وزیر قانون اشونی کمار کے ذریعے سی بی آئی کی جانچ رپورٹ سے وزیر اعظم کا نام ہٹوانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اشونی کمار کو اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا، بلکہ سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کی زبردست تنقید بھی کی۔ اس کے بعد عدالتِ عالیہ نے جب سرکار سے یہ کہا کہ وہ حلف نامہ دائر کرکے بتائے کہ سی بی آئی کو خود مختار بنانے کے لیے وہ کیا اقدام کر رہی ہے، تو اس کے جواب میں سرکار نے صاف صاف کہہ دیا کہ سی بی آئی کو پوری طرح خود مختار نہیں بنایا جا سکتا، ورنہ یہ ادارہ بے لگام ہو سکتا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا سی بی آئی ہمیشہ کے لیے مرکزی سرکار کی غلام بن کر رہ جائے گی اور ملک میں یوں ہی بڑے بڑے گھوٹالے ہوتے رہیں گے؟

p-5ہندوستان کی مرکزی تفتیشی ایجنسی، سی بی آئی پر ہمیشہ یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ غیر جانبدار ہو کر کام نہیں کرتی، بلکہ زیادہ تر معاملوں میں مرکزی حکومت کے دباؤ میں آکر کام کرتی ہے۔ سرکار کی اس بیجا مداخلت کی وجہ سے خود سی بی آئی کے اہل کاروں کے درمیان بے چینی پائی جا تی رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام بھی اب شدت سے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ سرکار پہلے تو گھوٹالے کرتی ہے اور جب ان گھوٹالوں کی تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی جاتی ہے، تو اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے سرکار اس بات کی پوری کوشش کرتی ہے کہ سی بی آئی اپنی جانچ کے بعد اسے اور گھوٹالوں میں ملوث اس کے وزیروں کو کلین چٹ دے دے۔ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹرس دبی زبان سے تو سرکار کے اس رویے کی مخالفت کرتے آئے تھے، لیکن موجودہ ڈائریکٹر رنجیت سنہا اب اس سلسلے میں کھل کر بولنے لگے ہیں۔
سی بی آئی کی خود مختاری کی مانگ پہلے اتنی شدت سے نہیں کی گئی، جتنی شدت سے اب کی جا رہی ہے، خاص کر تب سے، جب سپریم کورٹ نے اسے ’پنجرے میں بند طوطا‘ سے تعبیر کیا ہے۔ دراصل، سپریم کورٹ کو سی بی آئی کے لیے یہ الفاظ اس لیے استعمال کرنے پڑے، کیوں کہ مرکزی حکومت کوئلہ گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کو لگاتار متاثر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مرکز میں برسر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کے دوران ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ، کوئلہ گھوٹالہ اور اس قسم کے نہ جانے کتنے گھوٹالے انجام دیے گئے۔ ان میں سب سے بڑا گھوٹالہ کوئلے کے بلاکس کی تقسیم میں انجام دیا گیا، جس میں سپریم کورٹ کی ہدایت اور قدرتی ذخائر کی تقسیم سے متعلق تمام قاعدے قانون کو طاق پر رکھ دیا گیا۔ یہ گھوٹالہ اس لیے بھی سب سے زیادہ سنگین ہے، کیوں کہ اس میں خود وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام براہِ راست آ رہا ہے۔ دراصل، 2006 سے 2009 کے دوران جس وقت کوئلہ بلاکس غیر قانونی ڈھنگ سے تقسیم کیے جا رہے تھے، اس وقت کوئلہ کی وزارت خود وزیر اعظم منموہن سنگھ ہی دیکھ رہے تھے۔ چوتھی دنیا نے سب سے پہلے اس گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کوئلہ بلاکس کی تقسیم میں سرکاری خزانے کو 26 لاکھ کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ حالانکہ بعد میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے اسے کم کرکے اسے صرف 1.86 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہی قرار دیا۔ شروع میں تومنموہن سرکار اس گھوٹالہ کو چھپانے کی پوری کوشش کرتی رہی، لیکن بعد میں جب یہ معاملہ طول پکڑنے لگا اور اس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی گئی، تب بھی یو پی اے سرکار نے اسے متاثر کرنے کی پوری کوشش کی اور چاہا کہ حقیقت کبھی بھی عوام کے سامنے نہ آنے پائے۔ انہی دنوں سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کرکے سی بی آئی کی کوئلہ گھوٹالے سے متعلق ہونے والی اب تک کی جانچ کے بارے میں جب معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تو سرکار کے پسینے چھوٹ گئے۔ 24 جنوری، 2013 کو اس پی آئی ایل پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس آر ایم لوڈھا کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے سی بی آئی سے کہا کہ وہ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر مبنی اسٹیٹس رپورٹ سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ کی شکل میں پیش کرے۔ شروع میں سی بی آئی کے وکیل ہرین راوَل آنا کانی کرتے رہے، بلکہ انہوں نے سی بی آئی کو عدالت کی نگرانی تک سے آزاد رکھنے کی سفارش کر ڈالی، اس پر معاملے کی سماعت کر رہے عدالت عظمیٰ کے ججوں کا تیور سخت ہو گیا اور انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ایسا پہلی بار نہیں ہے، جب عدالت نے سی بی آئی سے اس کی جانچ سے متعلق کوئی اسٹیٹس رپورٹ مانگی ہے، یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔‘‘
اصل ہنگامہ یہیں سے شروع ہوا، کیوں کہ سپریم کورٹ کو معلوم ہوا کہ سی بی آئی نے رپورٹ عدالت میں جمع کرنے سے پہلے ہی اسے وزیر قانون اشونی کمار کو دکھا دیا تھا اور وزیر موصوف نے سی بی آئی کی اس اسٹیٹس رپورٹ کو بدلوانے کی بھی کوشش کی تھی۔ سرکار کے اسی رویہ کو دیکھ کر سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ’پنجرے میں بند طوطا‘ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے سی بی آئی پر کوئلہ گھوٹالے کی رپورٹ کو کسی مرکزی وزیر، قانونی اہل کاروں، سی بی آئی کے وکیلوں، استغاثہ کے ڈائریکٹر (Director of Prosecution) اور مرکزی حکومت کے اہل کاروں ؍ افسروں کو دکھانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ کے اتنے سخت تیور کو دیکھ کر یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کو اُس وقت کے وزیر قانون اشونی کمار کا استعفیٰ تک لینا پڑ گیا تھا۔ یہی نہیں، کوئلہ گھوٹالے کی جانچ میں عدالت کو گمراہ کرنے کی وجہ سے یکم مئی 2013 کو سپریم کورٹ میں سی بی آئی کے وکیل، یعنی ایڈیشنل سولسٹر جنرل ہرین راوَل کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، سی بی آئی کے ڈائرکٹر رنجیت سنہا نے پہلی بار سپریم کورٹ میں یہ بات قبول کی کہ وہ جس ایجنسی (سی بی آئی) کی سربراہی کر رہے ہیں، وہ ’’خود مختار ادارہ‘‘ نہیں ہے، بلکہ سرکار کا ہی ایک حصہ ہے۔اپنے اس بیان سے رنجیت سنہا نے ملک میں پہلی بار جمہوریت کے دو بنیادی ستونوں عاملہ (Executive) اور عدلیہ (Judiciary) کو ایک دوسرے سے متصادم کر دیا۔ اس کے بعد تو سی بی آئی کے تئیں عدالت عظمیٰ کا تیور اور بھی سخت ہو گیا اور اس نے واضح لفظوں میں کہا کہ سی بی آئی کو عاملہ کی دخل اندازی سے آزادی ملنی ہی چاہیے۔جسٹس آر ایم لوڈھا کی قیادت والی سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ’’ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوگا، تاکہ اس بنیادی ادارہ کا غیر جانبدارانہ کردار بحال ہو سکے‘‘۔
اسی کے مد نظر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ حلف نامہ دائر کرکے عدالت کو یہ بتائے کہ سی بی آئی کو خود مختار بنانے کے لیے سرکار کیا اقدام کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں مرکز میں بر سر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار نے 14 مئی، 2013 کو وزراء کا ایک گروپ (جی او ایم) بنا کر اسے ذمہ داری سونپی کہ وہ سی بی آئی کو باہری مداخلت سے آزاد کرانے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرے۔ وزراء کے اس گروپ کا سربراہ وزیر خزانہ پی چدمبرم کو بنایا گیا، جنہوں نے 17 مئی، 2013 کو میڈیا کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا وزراء کا یہ پانچ رکنی گروپ سی بی آئی کو ’’عملی خود مختاری‘‘ دلانے کے لیے کام کرے گا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ (سی بی آئی کی) جوابدہی بھی ’’اہم‘‘ ہے۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ ’’ہم سی بی آئی کو عملی خود مختاری دلانے کے لیے کام کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تفتیش کے معاملوں میں سی بی آئی کے پاس بڑے پیمانے پر عملی خود مختاری ہو۔ لیکن پوری دنیا میں تمام ادارے کسی نہ کسی کو جوابدہ ضرور ہیں، وہ عاملہ کو جوابدہ ہیں، وہ مقننہ کو جوابدہ ہیں، وہ عدالتوں کو جوابدہ ہیں۔ میرے خیال سے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سی بی آئی کی تفتیش میں کوئی دخل اندازی نہ کرے۔‘‘
اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے 3 جولائی، 2013 کو حلف نامہ (Affidavit) کے ذریعے سپریم کورٹ میں 41 صفحات پر مشتمل ایک پلان پیش کیا، جس میں اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ سی بی آئی کو خود مختار بنانے کے لیے کیا کیا اقدام کرنے جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی ڈائرکٹر کی تقرری تین رکنی پینل کے ذریعے کی جائے گی، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہوں گے، جب کہ لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس اس کے ممبر ہوں گے۔ (موجودہ طریقہ یہ ہے کہ چیف وجیلنس کمشنر کی قیادت والی کمیٹی سی بی آئی ڈائرکٹر کی تقرری کے لیے آئی پی ایس افسران کا ایک پینل تجویز کرتی ہے۔) اس کے علاوہ سی بی آئی ڈائرکٹر کا تقرر دو سال کی مدت کے لیے کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سی بی آئی کو مزید خود مختاری عطا کرنے کے لیے وہ دہلی پولس اسپیشل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سرکار نے یہ بھی بتایا کہ اگر سی بی آئی ڈائرکٹر کو ہٹانے کی نوبت آتی ہے، تو یہ اختیار صرف صدرِ جمہوریہ کو حاصل ہو گا، جو ڈائرکٹر کے غلط برتاؤ کی بنیاد پر چیف وجیلنس کمشنر (سی وی سی) کی طرف سے کی گئی شکایت پر یہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سرکار نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی سرکاری افسر کے خلاف کوئی معاملہ سامنے آتا ہے اور سی بی آئی مرکزی حکومت سے اس افسر کے خلاف تفتیش کرنے کی اجازت طلب کرتی ہے، تو سرکار کو اس بات کی اجازت دینے کے لیے تین ماہ کا وقت ملنا چاہیے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ سرکار نے سی بی آئی کی قانونی، انتظامی اور مالی خود مختاری کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کہی۔ ظاہر ہے کہ ان معاملوں میں جب تک اسے خود مختاری نہیں ملتی، وہ مرکزی حکومت کے چنگل سے پوری طرح کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتی۔
سرکار کے اس حلف نامہ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سی بی آئی نے 16 جولائی کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ مرکزی سرکار کے ذریعے سی بی آئی کو خود مختاری عطا کرنے اور سیاسی دخل اندازی سے آزادی دلانے کی تجویزوں سے اتفاق کرتی ہے۔ اپنے حلف نامہ میں سی بی آئی نے سرکار کی اس تجویز کو بھی تسلیم کیا کہ سی بی آئی ڈائرکٹر کا تقرر وزیر اعظم کی سربراہی والے اُس پینل کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس یا چیف جسٹس کے ذریعے نامزد کیا گیا کوئی ایک جج بطور رکن شامل ہوں گے۔ تاہم، سی بی آئی کی طرف سے ڈائرکٹر کی تقرری میں اس بات کا لحاظ رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا کہ ڈائرکٹر کسی ایسے شخص کو بنایا جائے، جس کے پاس سپر وائزری سطح پر سی بی آئی میں کام کرنے کا تجربہ پہلے سے موجود ہو۔ تفتیشی ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ ڈائرکٹر کے عہدہ کے لیے دو سال کی میعاد بہت چھوٹی ہے، لہٰذا اسے بڑھا کر تین سال کر دیا جانا چاہیے۔
انتظامی اور مالی اختیارات کے معاملے میں سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے فریاد کی کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اسے جب تک یہ دونوں اختیارات حاصل نہیں ہوں گے، تب تک سی بی آئی پوری طرح خود مختار ادارہ نہیں بن سکتا۔ ساتھ ہی اس نے عدالت عظمیٰ سے یہ بھی درخواست کی کہ اسے اپنے روز مرہ کے کام کاج میں وزارتِ پرسنل، عوامی شکایات اور پنشن کی دخل اندازی سے بھی نجات ملنی چاہیے۔وزارتِ پرسنل، عوامی شکایات اور پنشن مرکزی حکومت کی کوآر ڈی نیٹنگ ایجنسی ہے، جو مرکزی سطح پر سرکاری ملازمین کی تقرری، ٹریننگ، کریئر ڈیولپمنٹ، اسٹاف ویلفیئر اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن وغیرہ سے وابستہ امور کو دیکھتی ہے۔
لیکن یکم اگست، 2013 کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں سی بی آئی کو خود مختار بنانے سے متعلق جو جواب پیش کیا، وہ نہ صرف سی بی آئی کے لیے مایوس کن تھا، بلکہ ملک کے عوام بھی اس جواب سے زیادہ مطمئن نہیں دکھائی دیے۔ یو پی اے سرکار نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ سی بی آئی ڈائرکٹر کی مدتِ کار کو بڑھا کر تین سال نہیں کیا جاسکتا۔ یہی نہیں، منموہن سرکار کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سی بی آئی کے ڈائرکٹر کو تمام اختیارات دے دیے گئے اور اس پر سرکار کی طرف سے کوئی نگرانی نہیں رکھی گئی، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر نے لگے۔ دوسری طرف وزارتِ پرسنل، عوامی شکایات اور پنشن کے ماتحت کام کرنے والے ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) نے بھی سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے سی بی آئی کی اس خواہش پر پانی پھیر دیا، جس کے تحت اس نے چاہا تھا کہ جوائنٹ سکریٹری یا اس سے اوپر کی سطح کے کسی آفیسر کے خلاف جانچ کرنے کے لیے اسے پہلے ڈی او پی ٹی سے اجازت نہ لینی پڑے۔
سی بی آئی ڈائرکٹر رنجیت سنہا نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوائنٹ سکریٹری یا اس سے اونچے کسی عہدہ پر فائز افسر کے خلاف تفتیش کرنے کی اجازت سی وی سی کی قیادت والی کمیٹی کے ذریعے حاصل ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ڈی او پی ٹی نے سی بی آئی کی اس تجویز کو بھی ٹھکرا دیا، جس کے تحت اس نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت اور پبلک سیکٹر اَنڈر ٹیکنگس (پی ایس یوز) کے اہل کاروں یا ملازمین کے خلاف تفتیش کرنے سے قبل ریاستی حکومت کی منظوری لینی بھی ضروری ہے۔ سی بی آئی نے یہ بھی کہا تھا کہ سی بی آئی افسروں کے خلاف غلط برتاؤ کی شکایت سی وی سی کے ذریعے نہیں کی جانی چاہیے، جیسا کہ مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا تھا، بلکہ اس کی جانچ کے لیے باقاعدہ ایک اکاؤنٹی بلیٹی کمیشن (Accountibility Commission) کا قیام عمل میں آنا چاہیے، لیکن ڈی او پی ٹی نے سی بی آئی کی اس تجویز کو بھی ردّ کر دیا۔
اس طرح دیکھا جائے، تو یو پی اے سرکار نے سی بی آئی کی آزادی کو یقینی بنانے کا جو وعدہ 17 مئی کو میڈیا کے توسط سے پورے ملک کے سامنے کیا تھا، 3 اگست تک آتے آتے وہ اپنے اس وعدہ سے منحرف ہو گئی اور اب ایسا بالکل نہیں لگتا کہ سی بی آئی کو آنے والے دنوں میں مکمل خود مختاری حاصل ہو پائے گی اور اس طرح 26 لاکھ کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے کی صاف و شفاف اور غیر جانبدارانہ جانچ ہو پائے گی۔ ویسے بھی یو پی اے سرکار کی مدتِ کار کو ختم ہونے میں اب زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں، لہٰذا سرکار کی طرف سے قصداً سی بی آئی کو مزید پریشانیوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کوئلہ گھوٹالے میں کلین چٹ دلوائی جا سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *