یو پی اے-2 حکومت کے لئے تابوت تیار

Share Article

اے یو آصف

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ آخر کانگریس کے ذریعے اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں میں سے متعدد وعدوں اور فلاحی اسکیموںپر عمل کا دعویٰ کرنے کے باوجود اصل مستحقین تک ان کے فائدے کیوں نہیں پہنچ پاتے ہیں؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ خلوص نیت میں کمی ہے اور طریقہ و حکمت عملی میں کھوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو پی اے 2 حکومت کے خاتمہ سے قبل ہی اس کا تابوت تیار ہے۔ آئیے ،ان تمام باتوں کا اس تجزیہ میں جائزہ لیتے ہیں۔

p-5کانگریس قیادت والی یو پی اے 2 حکومت کا اب چل چلائو ہے۔ اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ گزشتہ انتخابی منشور میں عوام سے صحت ، گھر ، پنشن، سماجی تحفظ ، انٹرپرینر شپ، روزگار،زراعت اور شفافیت کے ساتھ ساتھ انسداد فرقہ وارانہ قانون اور خواتین ریزرویشن قانون کو بنانے نیز مسلمانوں سے ریزرویشن سمیت سچر کمیٹی کی 76 سفارشات کے وعدے پورے نہیں ہوپائے۔ اس بار کے انتخابی منشور میں اس کے ذریعے پھر سے کچھ نئے معاملوں میں وعدے کیے گئے ہیں اور ان وعدوں میں جہاں متعدد اسکیموں میں رقم کے بڑھانے کی بات ہے،وہیں کچھ نہ پورا کیے گئے وعدوں کے لئے از سر نو عزم کیا گیا ہے اور پھر سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ رقم کو بڑھانے سے تأثر یہ ملتا ہے کہ اس کے نزدیک اسکیموں میں رقم بڑھانا ہی متعدد مسائل کا حل ہے جبکہ خلوص نیت اور طریقہ ٔ کار و حکمت عملی کی کمی ہی اصل مسئلہ ہے۔
بات عام عوام ہی نہیں بلکہ کمزور طبقات بشمول مسلمانوں تک نفاذ کردہ اسکیموں کے فائدے نہیں پہنچنے کی ہے۔ علاوہ ازیں اس تلخ حقیقت کو بھی ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں 1991 سے نافذ نئی اقتصادی پالیسی بھی مذکورہ بالا مسائل و دیگر مسائل کے حل نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔
سوال یہ ہے کہ 23 برس کے لمبے عرصے کے تجربے کے بعد بھی کانگریس اور اس کی اتحادی پارٹیاں اور اپوزیشن پارٹیاں جاگ کیوں نہیںرہی ہیں اور بازار پر مبنی معیشت کے بجائے عوام دوست معیشت کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہی ہیں؟ایک ایسا ملک جہاں زراعت کو آج بھی دوسرے شعبوں کے مقابلے اہمیت حاصل ہے اور جہاں کی روایتی صنعتوں کا دنیا بھر میں ڈیمانڈ ہے، آخر کیوں پستی کا شکار ہے؟ ان شعبوں میں پستی اس لئے ہے کہ ہماری حکومتوں نے نئی اقتصادی پالیسی کے زیر اثر ان تمام ایشوز پر توجہ دینا بہت کم یا بند کردیا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ سب سے پہلے عوام دوست اقتصادی پالیسی کی بات کی جائے تبھی ملک و عوام دونوں کا بھلا ہوسکتا ہے۔ اس اصل مرض کی تشخیص کیے بغیر مسائل کا علاج ممکن ہی نہیں ہے۔
ابھی حال میں نیشنل سمپل سروے کے 2011 سے لے کر 2012 تک جو اعدادو شمار سامنے آئے ہیں، ان سے عمومی صورت حال مزید بد تر ہوتی ہوئی دکھائی پڑتی ہے۔ جو چونکانے والے حقائق ہیں ان کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری بے تحاشہ بڑھی ہے۔نیز مرد و خواتین دونوں کی تعلیم کے بڑھتے ہوئے لیول کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔یہ اتنا بڑھا ہے کہ شہری مردوں کے 16.3 فیصد جوکہ گریجوایٹس ہیں یا 29 برس کی عمر تک کے ہیں، وہ تمام بے روزگار ہیں اور یہ فیصد بھی گزشتہ دہائی میںبد تر ہی ہوئی ہے۔ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ والوں کو بھی اس میں ملا لیں تو بے روزگاری 12.5 فیصد مزید بڑھ جاتی ہے۔
ان سب کا واضح مطلب یہ ہے کہ ووکیشنل صلاحیتوں یا کالج کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوجوان مرد و خواتین کے لئے روزگار حاصل کرنے کے مواقع اور بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔ اس طرح یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گریجوایٹ ڈگری یا ووکیشنل تعلیم کے ساتھ اس عمر کے چار افراد میں ایک ہندوستانی ہر حال میں بے روزگار ہونے جارہا ہے۔ یہ شرح کم تعلیم یافتہ طبقہ کی بے روزگاری کی نسبت بہت زیادہ ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں جو 8کروڑ نئے ووٹرس ہیں، ان کے لئے روزگار سب سے اہم مسئلہ ہے۔ بے روزگاری کا یہ رجحان شہری و دیہی دونوں علاقوں و دیگر شہریوں میں بھی اسی طرح پایا جاتا ہے۔
اس سے ہٹ کر جب ہم حق تعلیم قانون اور قومی دیہی صحت مشن کے نفاذ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں بھی صورت حال مایوس کن ہی دکھائی پڑتی ہے۔ سیاست داں حق تعلیم یا حق صحت کے معاملوں میں فنڈ فراہمی کی بات تو کرتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان فنڈوں کے استعمال پر انکا کنٹرول کمزور ہے۔دراصل صحت یا تعلیمی طور پر نتائج پر ان کا کنٹرول سب سے زیادہ کمزور ہے نیز سروسز کا مجموعی معیار اور بھی زیادہ کمزور ہے جبکہ انڈیا ہیومن ڈیولپمنٹ سروے ( آئی ایچ ڈی ایس)برائے 2004 تا 2005 اور 2011 تا 2012 کے مطابق سرکاری پروگراموں اور زمینی سطح پر تجربات کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے۔اسی رپورٹ سے یہ اعدادو شمار سامنے آتے ہیں کہ دیہی علاوں مین نل یا پائپ کے پانی2004-05 میں 25 فیصد مہیا تھے جبکہ 2011-12 میں اس میں صرف 2فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح شہری علاقوں میں یہ پانی نصف یا دو تہائی خاندانوں کو ہی میسر تھا۔ فلش والے بیت الخلاء صرف ایک تہائی علاقوں کے لوگوں کے پاس تھے۔بجلی 2004-05 میں 72 فیصد لوگوں کو ملتی تھی جبکہ 2011-12 میں یہ 83فیصد لوگوں کو پہنچنے لگی۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ 2004 تا 2005 اور 2011 تا 2012 کے دور میں متعدد نئے پروگرام شروع کیے گئے۔ حق تعلیم کا قانون (آر ٹی ای) 2005 میں بنا اور 2010 میں نافذ ہوا، قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) 2005 میں شروع ہوا، جننی سرکشا یوجنا ( جے ایس وائی) کا اعلان بھی 2005 میں ہی ہوا۔ مگر نتائج کے اعتبار سے پبلک سروسز کی کارکردگی بہت ہی خراب ہے۔
آب آئیے، ذرا جائزہ لیں کہ 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر معقول اقلیتی آبادی اور پسماندگی کے پیمانے پر منتخب کیے گئے 90 کثیر آبادی والے اضلاع ( ایم سی ڈیز) میں گیارہویں پنج سالہ منصوبہ میں ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام ( ایم ایس ڈی پی) کا نفاذ کیا گیا۔ یہ پروگرام 2012-13 میں ان 90 اضلاع میں جاری رہا جبکہ 2013-14 سے اس کی نوعیت میں تبدیلی کی گئی جس کے نتیجے میں اقلیتی آبادی اور پسماندگی کی بنیاد پر اضلاع کے بجائے منتخب بلاک اور شہر میں اس کا نفاذ ہونے لگا۔ اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس سے کیا فرق پڑے گا؟ قابل ذکر ہے کہ گیارہویں منصوبہ اور 2012-13 کے دوران 4843.64 کروڑ روپے کے پروجیکٹ ان اضلاع میں نفاذ کے لئے منظور کیے گئے۔
اقلیتوں کے لئے ایم ایس ڈی پی کا معاملہ ہو یا میٹرک سے قبل اسکالر شپ اسکیم، میٹرک کے بعد اسکالر شپ اسکیم، اقلیتی طلباء کے لئے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ، میریٹ کم ذرائع پر مبنی اسکالر شپ، فری کوچنگ اور ایلائیڈ اسکیم ، اکیوٹی کنٹریبیوشن ٹو نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریش ( این ایم ڈی ایف سی)، گرانٹ ان ایڈ ٹو مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن ( ایم اے ای ایف) ، کمپیوٹر ائزیشن آف ریکارڈس آف اسٹیٹ وقف بورڈس، نئی روشنی، اسکیل ڈیولپمنٹ اینی سی ایٹیو،جیو پارسی اور سول سروسز ، اسٹاف سلیکشن کمیشن اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کے مقابلاجاتی امتحانات کی تیاری کرنے کے لئے اقلتیی طلباء کی امداد، اقلیتی طلباء کو غیر ملکوں میں تعلیم کے لئے دیے جانے والے قرض کے سود پر سبسڈی سے متعلق پڑھو پردیش اسکیم اور وزیر اعظم کے نئے 15 نکاتی پروگرام برائے فلاح اقلیت، ان سب کے باوجود اقلیتوں بشمول مسلمانوں کی مجموعی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے بد تر ہوتی جارہی ہے اور اس کی وجہ ان تک ان تمام اسکیموں کے فائدوں کا نہ پہنچنا ہے۔
سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لئے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار اسٹڈی آف ریجنل ڈیولپمنٹ میں پروفیسر امیتابھ کنڈو کی سرپرستی میں قائم خصوصی کمیٹی کی بھی یہی رائے ہے کہ اس کا فائدہ مسلمانوں تک نہیں پہنچ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی نے بھی ابھی حال میں ممبئی کی ایک انتخابی ریلی میں اس کو ایشو بناتے ہوئے کہا کہ ایم ایس ڈی پی کا’ ایک پیسہ‘ (Not a Penny) خرچ نہیں کیا جاسکا ہے۔
پروفیسر زویا حسن، جنہوں نے گیارہویں منصوبہ ورکنگ گروپ کی صدارت کی، کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ مجموعی طور پر اقلیتوں کو ایم ایس ڈی پی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کو بتایا کہ 2006 ہی میں انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ یہ اسکیمیں علاقوں نہیں بلکہ اقلیتوں پر مرکوز کرنی چاہئے۔ عیاں رہے کہ یو پی اے حکومت کا یہ پروگرام شیڈولڈ کاسٹس اور شیڈولڈ ٹرائبس کے لئے منصوبوں کے متبادل کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام کام نہیں کرسکا کیونکہ یہ اقلیتوں کے لئے مخصوص نہیں تھا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوئی طریقہ نہیں تھا کہ حکومت کے ذریعے کی جارہی سرمایہ کاری سے اقلیتوں کی حالت بدلنے جارہی ہے۔ یہ اسکیمیں دراصل چند ریاستوں میں پسماندہ اضلاع و علاقوں کی ترقیاتی پروگرام کے طرز پر تھیں۔پروفیسر زویا حسن یہ بھی کہتی ہیں کہ گیارہویں منصوبہ کے تحت اس پروگرام سے متعدد اضلاع کے ڈھانچوں میں ترقی تو ہوئی ہوگی مگر اس ترقی سے اقلیتوں کی مجموعی حالت میں کوئی ترقی نہیں واقع ہوئی کیونکہ یہ اضلاع صد فیصد اقلیتی اضلاع نہیں ہیں(مکمل فہرست ملاحظہ فرمائیں)۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی اسکیم بنائی جائے جس کا نشانہ اقلیتی آبادی والے بلاک اور گائوں ہوں ۔
یہی رائے سابق قومی اقلیتی کمیشن چیئر مین وجاہت حبیب اللہ اور معروف سماجی کارکن ہرش مندر کی بھی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ہرش مندر نے اس بات پر احتجاج کرتے ہوئے نیشنل ایڈوائزی کائونسل سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ ان کا تو یہ بھی اعتراض تھا کہ جب سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کی بہتری کے لئے اسکیم بنائی گئی تو وہ عام اقلیتوں اور علاقوں پر مبنی کیسے ہوگئیں؟
علاوہ ازیں وزارت قلیتی امور کے تحت جو رقوم اقلیتوں کے لئے مختص کی جاتی ہیں وہ ان تک پہنچ نہیں پاتی ہیں اور بعض کی رقوم خرچ بھی نہیں ہو پاتی ہیں۔ وجاہت حبیب اللہ تو اسے ’بد نصیبی‘ اور خطرناک بتاتے ہیں۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں ایسا محسوس ہوتاہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں سفارش نمبر 40 کے مطابق مسلم کمیونٹی کے فائدے کے لئے وقف املاک کی ترقی کے پیش نظر نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ (نوادکو) کے وزیر اعظم ہند کے ذریعے گزشتہ 29 جنوری 2014 کو افتتاح کے موقع پر نئی دہلی کے وگیان بھون میں صدر کانگریس سونیا گاندھی کی موجودگی میں جعفرآباد میں رہ رہے 37 سالہ سماجی کارکن حکیم فہیم بیگ کے ذریعے اٹھائی گئی بات پر حکومت عین وقت پر دھیان دیتی تو آج اسے جس مشکل و غیر یقینی صوت حال کا پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنا کرنا پڑ رہاہے ،وہ نہیں کرنا پڑتا۔ عیاں رہے کہ حکیم فہیم بیگ نے اس وقت وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ وزیر اعظم صاحب! آپ کی اعلان کردہ قبل کی اسکیمیں مستحقین تک پہنچ نہیں پائی ہیں۔پھر آخر کیوں آپ کی حکومت اسکیم پر اسکیم کا اعلان کیے جارہی ہے؟میرا تعلق دہلی کے ایک ایسے علاقے سے ہے جوکہ ایم ایس ڈی پی کے تحت منتخب 90 اضلاع میں سے ایک ہے اور جہاں آپ کی کوئی بھی اقلیتی فلاحی اسکیمیںزمینی سطح تک نہیں پہنچ پائی ہیں‘‘۔ ویسے یہ بات صحیح ہے کہ اگر حکومت نے 29 جنوری 2014 کو حکیم فہیم بیگ کے احتجاج کو ایک فرد نہیں بلکہ خلق کی آواز سمجھا ہوتا تو آج کا نگریس جس بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے ،ہرگز نہ ہوتی۔
سچ تو یہ ہے کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں اپنا مرثیہ خود لکھ لیا ہے اور آج اقلیتوں کے لئے اتنے سارے اعلانات اور فیصلوں کے باوجود سخت متفکر اور پریشان ہے۔ جو کچھ اسے آج جھیلنا پڑ رہا ہے، اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ اسے اپنی سوچ اور عمل پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اب کانگریس کے اندر بھی ان تمام باتوں کو کسی نہ کسی طرح محسوس کیا جارہاہے۔ تبھی تو مرکزی وزیر جئے رام رمیش3 اپریل کو بر سر اقتدار یو پی اے کی کمزوری کو تسلیم کرتے ہوئے عوام سے عدم ربط کو ان سب کی وجہ بتایا۔ دوسری طرف کانگریس کی اتحادی پارٹی این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے بھی حکومت کی ناکردگی کو قبول کیا اور کہا کہ بی جے پی اس بار کے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یو پی اے 2 حکومت کاتابوت تیار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *